*کیالڑکی کی ماں بہن اور ایک ادمی طلاق کے گواہی کے لئے شرعا مقبول ہے
*کیالڑکی کی ماں بہن اور ایک ادمی طلاق کے گواہی کے لئے شرعا مقبول ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید اس وقت سعودی میں رہتے ہیں اور ان کی بیوی ہندہ ایک دوسرے کے ساتھ فرار ہے ہندہ کے بیان ہے کہ میرا شوہر فون کے ذریعے مجھے 3 طلاق دے چکا ہے جس وقت میرا شوہر مجھے ٹیلی فون کیا اس وقت میری ماں میری بہن میرے ساتھ تھیں اور مجھے میرا شوہر تین طلاق دے چکا ہے گواہ کی شکل میں ہندہ کی ماں اور ہندہ کی بہن ہے اور ایک نوجوان کا نام ہے وہ جو انہی کا رشتہ دار ہیٹیل کے رہنے والا ہے نام سے واقف نہیں ہوں ان گواہوں نے گواہی دی ہے ہندہ کے شوہر زید کا کہنا ہے رب کعبہ کی قسم میں نے انہیں طلاق نہیں دیا ہے۔ بلکہ لڑکا کا بیان یہ ہے جو ہم نے ایک شرط رکھی ہے وہ شرط یہ ہیں کہ میں اپنے والد اور بھائی کچھ گاؤں کے لوگوں کو لے کر جہاں لڑکی کی میکے ہیں وہاں جائیں چند حضرات کے سامنے میں اگر تم کو ہمارے ساتھ نہیں رہنا ہے تو میں تجھ کو ازاد اسی جگہ کر دوں گا لیکن ایسا نہیں کیا جن کے ساتھ بھاگی اسی کے ساتھ زنا میں مبتلا رہا اور کچھ دنوں کے بعد انہیں لڑکے کے ساتھ جن کے ساتھ بھاگی ہوئی تھی اپنی ماں بہن کی گواہ بنا کر ایک کم پڑھے لکھے عالم کے پاس جا کر جس کے ساتھ وہ بھاگی تھی اسی کے ساتھ نکاح کر لیا ہے کیا یہ نکاح درست ہے ایک شوہر ابھی رب کعبہ کی قسم کھا رہا ہے کہ ہم نے طلاق نہیں دیا ہے ہندہ کو اور دوسری طرف ہندہ دوسرے کے ساتھ نکاح کر لی ہے قران و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
*سائل محمد شمس الدین شوبھا پور لہان 18 ضلع سر نیپال*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
صورت مسئولہ میں جب زہد طلاق کا منکر ہے اور ماں بہن اور ایک ادمی طلاق کی گواہی دے رہے ہیں تو چونکہ بیوی طلاق کی مدعی ہے اس لیے اس کی شہادت کا اپنے حق میں ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں، جہاں تک بہن ماں
اور ایک ادمی کی شہادت کا مسئلہ ہے تو ماں کی گواہی بیٹی کے حق میں معتبر نہیں
مذکورہ صورت میں شرعی گواہ نہ پائے گئے اس لئے قضاء طلاق واقع نہیں ہوگی۔
البتہ جب ہندہ کو یقین یے کہ تین طلاقیں دی یے ہھر زید کو اپنے اوپر قبضہ نہ دے خلع لے یا طلاق لے پھر عدت گزار کر دوسری شادی کرے۔ فی الحال زید کی بیوی یے دوسرے کے ساتھ جو بھاگی یے وہ حرام و گناہ یے توبہ کرے ۔جب شرعا طالق نہیں ہوئی یے تو کسی کے ساتھ بھاگ کر نکاح کبھی بھی منعقد نہیں ہوگا دونوں میں تفریق لازم ہے۔
اگر زید اور ہندہ الگ نہ ہو تو سماجی بائیکاٹ کیا جائے اور پورے محلے والے پر بائیکاٹ کرنا لازم ہے ۔
یاد رہے کہ اصول وفروع کے حق میں اندیشہ تہمت کی وجہ سے گواہی شرعا معتبر نہیں۔اصول وفروع اور زوجین کے علاوہ دیگر محرم اور غیر محرم رشتہ داروں کے حق میں گواہی جائز ہے۔صورت مسئولہ میں ماں کی گواہی بیٹی کے حق میں معتبر نہیں۔البتہ بہن اور ایک ادمی کی گواہی شرعا مقبول ہے پر مذکورہ صورت میں ایک مرد اور ایک عورت گواہ کے لیے کافی نہیں ہے دو عورت ایک مرد یا دو مرد درکار یے۔
بدائع الصنائع میں ہے
واما سائر القرابات کالاخ والعم والخال ونحوھم فتقبل شہادۃ بعضھم لبعض۔(بدائع الصنائع کتاب الشھادت،ج9 ص35)
واضح رہے کہ گواہوں میں دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں، تو دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے اور بیٹی کے حق میں بھائی، بہن خالہ یا کوئی اور کی گواہی معتبر ہوگی، پر والدہ کی نہیں۔
الهندية میں ہے
لا تجوز شهادة الوالدين لولدهما وولد ولدهما وإن سفلوا ولا شهادة الولد لوالديه"(الهندية: الفصل الثالث في من لا تقبل شهادته، 469/3، ط: دار الفکر)
یاد رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا، بلکہ فریقین کے بیان کردہ احوال کی روشنی میں شرعی حکم بیان کرنا مفتی کا کام ہے ۔اُن کے سچا یا جھوٹا ہونے کا فیصلہ اُن کے اور رب کے درمیان کا معاملہ ہے، چنانچہ اگر کوئی فریق غلط بیانی سے کام لے رہا ہے ،تو اُس کا وبال خود اُس پر ہے، فتوے اور قضا میں یہی فرق ہے کہ فتوے میں حقیقتِ نفس الامری کا تعین کیے بغیر حسنِ ظن کی بنیاد پر دریافت طلب صورت ِ مسئولہ کا شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے ، جبکہ قاضی کا کام دلائل وشواہد کی روشنی میں حقیقت ِ نفس الامری یعنی امرِ واقعہ کا تعین کرکے اس کا حکم بیان کیاجاتا ہے اور اس کا فیصلہ قانوناً نافذ بھی ہوتا ہے ۔قضاء ًیعنی دنیوی اَحکام کے اعتبار سے ثبوتِ طلاق کے دوطریقے ہیں: ایک یہ کہ شوہرخود طلاق کا اقرار کرے، دوسرا یہ کہ طلاق پر دو عادل گواہ موجود ہوں۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے
اور (گواہی کا) نصاب (حدود اور قصاص )کے سوا دیگر حقوق کے لیے جن کا تعلق مال سے ہو یا اُن کے علاوہ مثلاً نکاح ،طلاق، وکالت ، وصیت اور بچے کی ولادت کی گواہی ،خواہ یہ گواہی وراثت کے لیے ہو ،(ان تمام صورتوں میں گواہی کا نصاب یہ ہے کہ) دو مردہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ، جلد5، ص:465 )
والله ورسوله أعلم بالصواب
*كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
28/10/2024
Comments
Post a Comment