دیوبندی کی بیوی کا نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے؟


*دیوبندی کی بیوی کا نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

اہل سنت کے مدرسہ میں ایک دیوبندی شخص کی بیوی کا جنازہ آیا کچھ سنی حضرات نے عدم جانکاری میں نماز جنازہ پڑھ لی ان کے بارے میں حکم شرع کیا ہے ؟اور جنھوں نے جانتے ہوئے پڑھی ان کے بارے میں کیا حکم شرع ہے ؟بینوا توجروا۔


*سائل عبد اللہ یوپی انڈیا*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس دیوبندی کی بیوی کسی ضروریات دینہ کا منکر یا عناصر اربعہ (رشید احمد گنگوہی اشرف علی تھانوی قاسم نانوتوی اور خلیل احمد انمبیٹھی) کے کفریہ عقائد کا معتقد تھی یا نہیں؟ 

اگر نہیں جیسا کہ اکثر دیوبندی عوام اسی طرح کی ہے جنھیں ان کے کفریہ عقائد کا کچھ بھی پتا نہیں۔اگر ہندہ بھی ایسے ہی تھی پھر وہ کافرہ مرتدہ نہیں۔پھر عمدا یا سہوا نماز جنازہ پڑھنے یا پڑھانے میں شرعا گرفت نہیں۔ ہاں بچنا اولی ہے۔


فتاوی شارح بخاری میں ہے

دیوبندی عوام جو دیوبندی بزرگوں کی کفریہ عبارات سے باخبر نہیں ہے اور انکی ظاہری حالت کو دیکھ کر یا کسی اور وجہ سےان کو اپنا بزرگ اور پیشوا مانتے ہیں وہ کافر نہیں ہیں۔ 

مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں 

زیادہ تر دیوبندی عوام اسی طرح کے ہیں (فتاوی شارح بخاری ،جلد سوم ،ص ۳۳۰ ناشر دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مئو ،جون ۲۰۱۳)


اور اگر وہ کسی ضروریات دینہ کا منکر یا عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد کا معتقد تھی پھر وہ کافرہ مرتدہ ہے۔ اس کی نماز جنازہ نہیں۔

مسئلہ مسئولہ اس دیابنہ کافرہ مرتدہ کو مسلمان جانتے ہوئے ان کی نماز جنازہ پڑھنا، پڑھانا کفر ہے. پڑھنے پڑھانے والوں پر توبہ و تجدید ایمان ونکاح لازم ہے

فتاوی رضویہ میں ہے جسے یہ معلوم ہو کہ دیوبندیوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اس لئیے علماء حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافر ومرتد لکھا اور صاف فرمایا من شک فی کفرہ وعذابه فقد كفر جو ان کے عقائد پر مطلع ہو کر مسلمان جاننا اور کناران کے کفر میں. شک ہی کرے وہ بھی کافر اورجن کو اس کی خبر نہیں اجمالا اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بد عقیدہ بد مزہب ہیں. وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل و بیکار ہیں اھ (ص ۷۶'۷۷ ج ۶)

اور اگر مرتدہ سمجھتے ہوئے پڑھی، پڑھائی تو فسق ہے علانیہ توبہ لازم ہے ۔

 اسی طرح فتاویٰ فیض الرسول کتاب الجنائز ج :١ ص :٤٤١/مطبوعہ دار الاشاعت)


اور اگر اس کے بارے میں کچھ علم نہیں سہوا نماز جنازہ پڑھ لی تو عاصی نہیں۔


ارشاد باری تعالیٰ ہے

 مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (ترجمۂ کنز الایمان )(نبی اور⁵5⅚ )

ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جب کہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں (سورۃ التوبہ آیت:١١٣)

 اس آیت میں جو لفظ” مشرکین ہے اس میں کافر و ملحد سب شامل ہیں ۔


قرآن مجید میں ارشاد ہے 

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ(84) (ترجمہ: کنزالایمان)

اور ان میں سے کسی کی میّت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بےشک وہ اللہ و رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے

حدیث میں فرمایا: ولا تصلوا معھم ولا تصلوا علیہم ۔) 

(نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو اور نہ ان پر نماز پڑھو۔


صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 

جو کسی کافر کے لئے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور یا کسی مرے ہوئے ہندو کو بَیْکُنْٹھ باشی کہے وہ خود کافِر ہے ( بہارِ شریعت ج:١ ح:١ ص:١٨٥/مجلس المدینۃ العلمیہ)

 ہاں اگر مرتد جانتے ہوئے کی تو یہ بھی فسق ہے علانیہ توبہ لازم ہے۔

حضرت مفتی نسیم مصباحی جامعہ اشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں لیکن وہ عوام جو دیوبندی کے کفریہ عقائد سے واقف نہیں۔ اہل سنت کے معمولات پر عمل کرتے ہیں۔ اور دیوبندی کی اقتداء میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ وہ کافر نہیں ایسے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنا حرام نہیں۔ کیونکہ یہ مسلمان ہیں۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ جاری 1439)


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

28/10/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب لاہور پاکستان گروپ* 


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورس یسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟