*کیا قدقامت الصلاہ سے پہلے امام تکبیر تحریمہ کہ کر نیت باندھ لے؟*


*کیا قدقامت الصلاہ سے پہلے امام تکبیر تحریمہ کہ کر نیت باندھ لے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم و رحمةاللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارہ میں کے جماعت قاٸم کرنے کے وقت تکبیر جو کہی جاتی ہے اس کے حوالے سے میں نے مطالعہ کیا کہ جب حی علی الفلاح ہو تو امام اور مقتدی جماعت کے لیے کھڑے ہو اور قد قامت الصلوٰة سےذرا پہلے امام نماز اور امامت کی نیت کر کے تکبیر تحریمہ یعنی اللہ اکبر کہے پوچھنا یہ ہے کہ میں اس مسٸلہ کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ تکبیر کہنے والا کہتا ہی رہے اور امام نیت کیسے باندھ لے؟

 براے کرم رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں 

برائے مہربانی 


*سائل غلام جیلانی مسری گھراری ضلع سمستی پور بہار انڈیا 27/10/24*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل

 آپ نے صحیح پڑھا ہے اس میں فقہاء کا اختلاف ہے 


قدمامت الصلاة کہہ چکنے کے بعد بھی امام تکبیر تحریمہ کہہ سکتا ہے بعض کتب فقہ میں لکھا ہے

وشروع الإمام في الصلاة مذ قیل قد قامت الصلاة (تنویر الأبصار: ۲/۱۷۷، شامي) 

مگر یہ صرف آداب میں سے ہے، اس لیے اس پر اصرار کرنا یا اس کے خلاف کرنے والے کو ملامت کرنا جائز نہیں ہے

 نیز صاحب درمختار نے لکھا ہے 

ولو أخر حتی أتمھا لا بأس بہ إجماعًا

 اور اس قول کو اعدل المذاہب اور اصح قرار دیا ہے، نیز قد قامت الصلاة پر نماز شروع کرنے سے موٴذن تکبیر تحریمہ میں امام کی مقارنت سے محروم ہوجائے گا اس لیے بہتر اور افضل یہی ہے کہ اقامت پوری ہوجانے کے بعد ہی تکبیر تحریمہ کہی جائے صاحب رد المحتار تحریر فرماتے ہیں

 لأن فیہ محافظة علی فضیلة الموٴذن وإعانة لہ علی الشروع مع الإمام (۲/۱۷۸،)


اگر کوئی امام قد قامت الصلوٰة کے بعد تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرتا ہو تو اس کا یہ عمل بلا شبہ جائز اور درست ہے، البتہ بہتر ہے کہ امام صاحب اقامت کے ختم ہونے کا انتظار کرے، تاکہ تمام مقتدیوں کو تکبیر تحریمہ کی سعادت حاصل ہو سکے،جبکہ موذن کے لیے امام کے تکبیر کہنے کے بعد ’’اقامت‘‘ کو ترک کرنا درست نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ اقامت پوری کر کے نماز میں شریک ہو۔

ففي الفتاویٰ التاتارخانية

قال ابوحنیفةؒ يكبر قبيل ’’قوله قد قامت الصلاة‘‘ هكذا فسر فی النوادر وقال أبو يوسف ينتظر فراغ المؤذن من الاقامة فاذا فرغ منها كبر هذابيان الأفضلية، ولوكبر بعد ما فرغ المؤذن من الاقامة كما قال ابوسف جاز عند أبي حنیفة، ولو كبر قبيل قوله ’’قد قامت الصلاة‘‘ كما قال ابوحنیفةؒ جاز عند أبي يوسفؒ ليس المراد من قوله ’’قد قامت الصلاة‘‘ حقيقة الإخبار عن الإمامة بل المراد به الإخبار عن المقاربة اھ (۲/ ۱۵۹)

وفى الفتاوى الهنديہ 

ويكبر الإمام قبيل قوله قد قامت الصلاة قال الشيخ الإمام شمس الأئمة الحلواني: وهو الصحيح. هكذا في المحيط.۔


حاصل کلام یہ ہے کہ امام اس وقت تکبیر تحریمہ کہے جب موذن مکمل اقامت کہ دے۔ 


اب مقتدی اقامت کے وقت کب کھڑے ہوں تو اس مسئلہ کی تین صورتیں ہیں فتاوی شارح بخاری میں ہے 

1) پہلی صورت: امام خود ہی اقامت کہے۔ اس صورت میں سب مقتدی بیٹھے رہیں جب تک امام پوری اقامت نہ کہہ لے نہ کھڑے ہوں۔ 

2) دوسری صورت: یہ ہے کہ امام محراب کے قریب نہ ہو مسجد ہی میں محراب سے کہیں دور ہو یا مسجد سے باہر ہو۔ اب اگر امام مصلے پر صفوں کے آگے کی طرف سے آئے تو امام کو دیکھتے ہی مقتدی کھڑے ہو جائیں اگرچہ اقامت ختم نہ ہوئی ہو۔ اور اگر صفوں کے پیچھے سے آئے تو جس صف سے گزرے وہ صف کھڑی ہو جائے۔ ہمارے دیار میں یہ صورتیں بہت نادر ہیں۔ اس لیے اس سے بحث کی ضرورت نہیں۔ 

3) تیسری صورت: یہ ہے کہ امام محراب کے قریب ہو اور سب مقتدی مسجد میں ہوں۔ ہمارے دیار میں اسی پر عمل ہے اور یہی متنازع ہے اسی سے ہم تفصیلی بحث کریں گے۔ سیدنا امام اعظم کے تلمیذ جلیل محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہما اپنے مؤطا میں لکھتے ہیں 

ینبغي للقوم إذا قال المؤذن حي علی الفلاح أن یقوموا إلی الصلاۃ ویسووا الصفوف۔ 

قوم کو چاہیے کہ جب مؤذن ’’حي علی الفلاح‘‘ کہے تو کھڑے ہوں اب صف لگائیں اور صفوں کو سیدھی کریں۔ عالمگیری میں ہے

 إن کان المؤذن غیر الإمام وکان القوم مع الإمام في المسجد فإنہ یقوم الإمام والقوم إذا قال المؤذن حي علی الفلاح۔ 

مؤذن امام کے علاوہ کوئی اور ہو اور قوم امام کے ساتھ مسجد میں ہو تو امام اور قوم اس وقت کھڑے ہوں جب مؤذن ’’حي علی الفلاح‘‘ کہے۔ تنویر الابصار اور در مختار میں ہے

والقیام للإمام والمؤتم حین قیل حي علی الفلاح۔ اس کے تحت شامی میں ہے: كذا في الكنز ونور الإيضاح والإصلاح والظهيرية والبدائع وغيرها۔ والذي في الدرر متناً وشرحاً عند الحيعلة الأولى يعني حين يقال حي على الصلاة اهـ وعزاه الشيخ إسماعيل في شرحه إلى عيون المذاهب والفيض والوقاية والنقاية والحاوي والمختار ا هـ أ۔ قلت واعتمده في متن الملتقى وحكى الأول بـ قيل، لكن نقل ابن الكمال۔ تصحيح الأول۔ ونص عبارته: قال في الذخيرة يقوم الإمام والقوم إذا قال المؤذن حي على الفلاح عند علمائنا الثلاثة ۔ وقال الحسن بن زياد وزفر: إذا قال المؤذن قد قامت الصلاة قاموا إلى الصف۔ اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ تنویر الابصار، در مختار، کنز، نور الایضاح، اصلاح، ظہیریہ، بدائع، ذخیرہ، میں یہ ہے کہ جب مؤذن ’’حي علی الفلاح‘‘ کہے تو لوگ کھڑے ہوں اور ملتقیٰ، درر، غرر، عیون المذاہب، فیض ، وقایہ، نقایہ، حاوی اور در مختار میں یہ ہے کہ ’’حي علی الصلاۃ‘‘ پر کھڑے ہوں۔ 

ان دونوں میں مجدد اعظم اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے یہ تطبیق دی کہ ’’حي علی الصلاۃ‘‘ پر کھڑا ہونا شروع کریں اور ’’حي علی الفلاح‘‘ پر سیدھے کھڑے ہو جائیں۔ یہ سر دست بیس علما کے ارشادات ہیں ان سے ظاہر کہ امام اور مقتدی شروع اقامت سے کھڑے نہ رہیں بلکہ بیٹھے رہیں جب مؤذن ’’حي علی الصلاۃ‘‘ یا ’’حي علی الفلاح‘‘ کہے اس وقت کھڑے ہوں، یہ احناف کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ شروع اقامت سے کھڑے نہ ہوں بیٹھے رہیں اس میں کسی ایک امام یا عالم کا کوئی اختلاف نہیں( فتاوی جامعہ اشرفیہ ج 5 فتاوی شارح بخاری)


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

29/10/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکی ڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟