جب شوہر کا نطفہ غالب ہوتا ہے تو لڑکے کی ولادت ہوتی ہے کیا یہ بات درست ہے؟*
*جب شوہر کا نطفہ غالب ہوتا ہے تو لڑکے کی ولادت ہوتی ہے کیا یہ بات درست ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
جب شوہر کا نطفہ غالب ہوتا ہے تو لڑکا کی ولادت ہوتی ہے کیا یہ بات درست ہے؟
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا
*سائلہ خوشنما فاطمہ اسماعیلیہ چندواڑا ایم پی انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
ہاں یہ بات درست ہے کہ مرد کا نطفہ اگر غالب اجائے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور اگر عورت کا نطفہ غالب اجائے تو لڑکی پیدا ہوتی ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ عورت کے رحم میں دو خانے ہیں۔
داہنا خانہ لڑکا کے لیے خاص ہے اور باہاں خانہ لڑکی کے لئے خاص ہے
1) تو لڑکا پیدا ہونے کے لئے مردکا نطفہ بھی غالب ہو اور نطفہ سیدھے خانے میں بھی پڑے۔
2) اور لڑکی پیدا ہونے کے لئے عورت کا نطفہ بھی غالب ہو اور نطفہ بائیں خانے میں پڑے۔
3) اب تیسری صورت۔ جو مذکورہ دونوں صورتوں سے الگ ہے۔
مرد کا نطفہ تو غالب ائے مگر پڑے رحم کے بائیں خانے میں۔ تو ایسا لڑکا پیدا ہوگا جس کی دلی چاہت زنانہ عورتوں والی ہوگی۔ یعنی داڑھی منڈانے گہنا پہننے مہدی لگانے عورتوں کی طرح لمبا بال رکھنے عورتوں کا لباس پہننے یعنی اس مرد میں عورتوں کاسا شوق ہوگا۔
4) چوتھی صورت۔ اگر نطفہ عورت کا غالب آئے اور رحم کے دائیں خانے میں پڑے تو ایسی لڑکی پیدا ہوگی جو دل میں مردانہ چاہت رکھے گی۔ اسے ٹوہی عمامہ پہننے مردانہ لباس جوتا چپل پہننے کا ذوق و شوق ہوگا ۔
فتاوی رضویہ میں ہے
عورت کے رحم میں دو خانے ہیں داہنا خانہ لڑکے کے لئے اور بایاں لڑکی کے واسطے ۔اور نطفہ مرد کا غالب آئے گا تو لڑکا بنتا ہے اور عورت کا غالب پڑا تو لڑکی بنتی ہے
پھر اگر مرد کا نطفہ غالب آیا اور رحم کے سیدھے خانہ میں پڑا تو لڑکا ہوگا ۔ظاہر و باطن مرد ۔اور عورت کا نطفہ غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں پڑا تو لڑکی ہوگی ظاہر و باطن عورت ۔اور اگر نطفہ مرد کا غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں گرا تو ہوگا صورت میں لڑکا ۔مگر دل میں زنانہ ۔اسے داڑھی منڈانے گہنا پہننے ۔ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے ۔عورتوں کے سے بال بڑھا کر چوٹی گندھوانے یا جوڑا باندھنے یا بکھرے ہوئے رکھنے کلیوں دار غرارہ دار پائنچہ پہننے سرخ نیفہ ڈالنے وغیرہ وغیرہ کسی زنانی وضع کا شوق ہوگا اور اس حالت میں مرد کا نطفہ خفیف غالب تھا تو بالکل زنانہ زنخہ بن جائے گا
اور اگر نطفہ عورت کا غالب آیا اور رحم کے داہنے خانے میں گرا تو ہوگی صورت میں لڑکی مگر دل میں مردانی اسے انگرکھا پہننے ۔ٹوپی رکھنے عمامہ باندھنے ۔گھوڑے پر چڑھنے ۔تلوار اٹھانے ۔تیر اندازی کرنے مردانہ جوتا پہننے وغیرہ وغیرہ کسی مردانی وضع کا ذوق ہوگا بہر حال یہ خانے بہکے ہوئے اللہ و رسول صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم کے ملعون ہیں ۔رسول اللّٰه صلی ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللّٰه کی لعنت اس مرد پر کہ عورتوں کے پہننے کی چیز پہنے اور اس عورت پر کہ مردوں کی چیز استعمال کرے
( فتاوی رضویہ جلد 21 ص 600 اور تلخیص فتاوی رضویہ جلد ششم ص 92 ۔93)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
*کتبتہ کنیز فاطمہ قادریہ رضویہ شہر کانپور فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب*
۱۸/۱۰/۲۰۲۴
*تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی و جواب ضلع سرہا نیپال*
۱۹/۱۰/۲۰۲۴
نوٹ اس سے پہلے کا جواب کالعدم ہے۔
Comments
Post a Comment