کیا نماز میں لاعلمی میں مفسد نماز کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے؟*
*کیا نماز میں لاعلمی میں مفسد نماز کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسٔلہ کے بارے میں کہ لا علمی (یعنی مسٔلہ معلوم نہ تھا ) جس کی وجہ سے ایسی غلطی ہوئی جس سے نماز کا فاسد ہوگیٔ اور وقت بھی جاتا رہا ایک مفتی صاحب نے مسٔلہ بتاتے ہوئے کہا کہ لا علمی کی وجہ سے نماز ہوگیٔ اور انہوں نے کہاکہ لا علمی کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہو تی ۔حضرت کیا لا علمی عذر ہے اور ایسے مفتی صاحب پر شریعت کا کیا حکم ہے؟
مفصل ومدلل جواب عنایت فرمائیں
*سائل محمد انتخاب بدر مظفر پور بہار انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
1) شرعی اصول یہ ہے کہ لاعلمی عذر نہیں۔
بہار شریعت میں ہے
دارالاسلام میں رہتا ہو تو اگرچہ نہ جانتا ہوحکم یہی دیا جائیگا کہ اسے معلوم ہے کیونکہ دارالاسلام میں جہل عذر نہیں( بہار شریعت ح 9 ص 393 مکتبہ المدینہ)
مثلا نماز کے دوران کسی سے بات کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے خواہ قلیل ہو یا کثیر جان بوجھ کر ہو یا بھول کر قصداً و اِرادۃً ہو یا غیر اِرادی طور پر منہ سے بات نکل جائے سوتے ہوئے ہو یا جاگتے ہوئے اختیاری طور پر ہو یا اضطراری طور پر ضرورۃً ہو یا بغیر ضرورت کے اِسی طرح جہالت کی وجہ سے ہو یا علم رکھنے کے باوجود کیا ہو بہرصورت نماز ٹوٹ جائے گی ۔
کلام کی تعریف یہ ہے کہ
هُوَ النُّطْقُ بِحَرْفَيْنِ أَوْ حَرْفٌ مُفْهَمٌ
یعنی کلام اُس کو کہاجاتا ہے جو کم از کم دو حرفوں پر یا ایک ایسے بامعنی حرف پر مشتمل ہو جس سے کوئی مفہوم سمجھا جاتا ہو، جیسےعربی میں قِ بمعنی بچا، عِ بمعنی حفاظت کر (الدر المختار:1/613)
بعض فقہاء نے کلامِ مُفسِد کی یہ تعریف کی ہے مَا يُعْرَفُ فِي مُتَفَاهَمِ النَّاسِ (الجوہرۃ :164)
یعنی کلام اُسے کہتے ہیں جس کو عرفِ عام میں ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے میں اِستعمال کیا جاتا ہو، خواہ اُس کے حروف ہوں یا نہیں مثلاً گدھے کو ہانکنے کے لیے آواز نکالنے سے بھی نماز فاسد ہوجائے گی
فتاوی ہندیہ میں ہے
فإذا أصاب الثوب أكثر من قدر الدرهم يمنع جواز الصلاة. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية 1/ 46)
2) جب بے علم مریض کا علاج نہیں کرتا،انجن کی مشین کو ہاتھ نہیں لگاتا بلکہ ناتجربہ کار حجام سر نہیں مونڈتا،تو ہر بے خبر بے علم شرعی مسئلہ کیسے بتا سکتا ہے۔
مذکورہ شخص اپنے قول سے رجوع کرے اور توبہ استغفار کرے۔
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ میں ہے
بوجہ جہالت و نادانی یہ قول کرتا ہے تو گنہگار ہے توبہ چاہئے اور اگر جانتا ہے کہ یہ حکم شرع نہیں اور قصدا ﷲ ورسول پرجھوٹی شریعت کا افتراء کرتا ہے تو حکم کفر عائد ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن عظیم میں ہے
انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون۔
جھوٹ کا افتراء وہ لوگ کرتے ہیں جو مومن نہ ہوں۔
( القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵)
اورفرماتا ہے
ان الذین یفترون علی ﷲ الکذب لایفلحون
جولوگ ﷲ تعالی پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے۔ (القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶)
ظاہر صورت اولی ہے کہ بوجوہ جہالت ایسا کہا ہے جس پر ''ھذا صورت الجواب''بتائے کشیدہ قرینہ ہے مگر یہ فقط اس قول باطل ہی کا گناہ نہیں جاہل کو فتوی دینا کس نے حلال کیا، حدیث میں ہے
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السموت والارض۔
اوکما قال صلی ﷲتعالی علیہ وسلم۔
جو بے علم فتوی دے آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں(یا جس طرح حضور اکرم صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا) والعیاذ باﷲ تعالی،
(کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۲۹۰۱۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ /۱۹۳)(الفقیہ والمتفقہ باب ماجاء من الوعید لمن افتی بغیر علم حدیث ۱۰۴۳ دارابن جوزی ریاض ۲ /۳۲۷) فتاوی رضویہ ج 18 ص 55 مکتبہ المدینہ)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
02/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment