*مرد کے اعضائے ستر کتنے اور کون کون سے ہیں؟
*مرد کے اعضائے ستر کتنے اور کون کون سے ہیں؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
مرد کے اعضائے ستر کتنے اور کون کون سے ہیں؟
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا
*سائل محمد فاروق اسماعیلی نیپال انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں مرد کے اعضائے ستر نو ہیں۔
1۔ ذکر مع اپنے اجزا حشفہ قصبہ قلفہ سمیت ایک عضو ہے۔
2۔ دونوں خصیے مع اپنے ارد گرد کے ایک عضو ہیں۔
3۔ پاخانہ کا مقام
4۔5 ۔ ہر ایک سرین علیحدہ علیحدہ عضو ہیں۔
7۔6۔ دبر مع اپنے اردگرد کے یہ سرین سے الگ ایک عضو ہے۔
ہر ایک ران، چڈھے کی جڑ سے گھٹنے تک الگ الگ ایک ایک عضو ہے گھٹنا اس میں شامل ہے۔
8۔ ناف کے نیچے سے عانہ کی اُٹھی ہوئی ہڈی تک ( یعنی عضو تناسل کی جڑ تک) بمعہ اس حصہ کے جو اس کے محاذ میں پیٹ اور پیٹھ اور دونوں رانوں سے اس کے ساتھ ملا ہوا ہے یہ سب ایک عضو ہے۔
9۔ دبر اور خصئے کے درمیان کی جگہ بھی اعضائے ستر میں سے ہے
بہار شریعت میں ہے
مرد میں اعضائے عورت نو ہیں۔
آٹھ علامہ ابراہیم حلبی و علامہ شامی و علامہ طحطاوی وغیرہم نے گنے۔
(۱)ذکر مع اپنے سب اجزا ،حشفہ و قصبہ و قلفہ کے،
(۲) انثیین یہ دونوں مل کر ایک عضو ہیں ان میں فقط ایک کی چوتھائی کھلنا مفسد نماز نہیں
(۳) دبر یعنی پاخانہ کا مقام،
(۴۔ ۵) ہرایک سرین جدا عورت ہے،
(۶۔ ۷) ہر ران جدا عورت ہے۔ چڈھے سے گھٹنے تک ران ہے۔ گھٹنا بھی اس میں داخل ہے، الگ عضو نہیں ، تو اگر پورا گھٹنا بلکہ دونوں کھل جائیں نماز ہو جائے گی کہ دونوں مل کر بھی ایک ران کی چوتھائی کو نہیں پہنچتے،
(۸) ناف کے نیچے سے، عضو تناسل کی جڑ تک اور اس کے سیدھ میں پشت اور دونوں کروٹوں کی جانب، سب مل کر ایک عورت ہے۔
اعلیٰ حضرت مجدد مأتہ حاضرہ نے یہ تحقیق فرمائی کہ
(۹) دبر و انثیین کے درمیان کی جگہ بھی، ایک مستقل عورت ہے اور ان اعضا کا شمار اور انکے تمام احکام کو
چار شعروں میں جمع فرمایا
1۔ ستر عورت بمرد نہ عضو است از تہِ ناف تاتہ زانو
2۔ ہر چہ ربعش بقدرر کن کشود
یا کشودی دمے نماز مجو
3۔ ذکر و انثیین و حلقہ پس دوسرین ہر فخذ بہ زانوئے او
4۔ ظاہرا فصل انثیین و دبر باقی زیر ناف از ہر سو
(بہار شریعت جلد اول حصہ سوم ص 487)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
*کتبتہ کنیز فاطمہ قادریہ رضویہ شہر کانپور فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب*
۱۹/۱۰/۲۰۲۴
*تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی و جواب ضلع سرہا نیپال*
۲۰/۱۰/۲۰۲۴
Comments
Post a Comment