*اگر صف میں دیوبندی و وہابی ہو تو سنی نماز کیسے پڑھے کہاں کھڑا ہو؟*


*اگر صف میں دیوبندی و وہابی ہو تو سنی نماز کیسے پڑھے کہاں کھڑا ہو؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کوئی وہابی اذان یا اقامت پڑھ دے اور امام اگر سنی ہو تو کیا جماعت کہ ساتھ میں سب کی نماز ہو جائے گی اگر ایک سنی شخص جماعت میں پہلی صف میں کسی وہابی کے بغل سے جماعت میں نماز میں کھڑا نہیں ہوتا اور پچھلی صف میں الگ سے کھڑا ہوکر جماعت میں نماز پڑھے تو اُسکے لیے کیا حکم ہے؟

برائے کرم رہنمائی فرمایئے


*سائل محمد عتیق گورکھپور جِلا ڈندوری مدھیا پردیش انڈیا*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

وہ دیوبندی و وہابی جو کسی ضروریات دینہ کا منکر یا عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد کا معتقد یا کسی ضروریات اہل سنت کا منکر یے وہ خارج از اسلام ہے۔اس کی اذان و اقامت جائز نہیں۔ 

اگر معاملہ اس کے برعکس ہے پھر اس کی اذان و اقامت جائز یے اور جماعت کے ساتھ اور جماعت کے ساتھ سب کی نماز ہوجائے گی ۔

اگر کافر مرتد دیوبندی و وہابی صف میں ہوں تو آپ بھی اس کے بغل میں صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے الگ صف نہیں بنائیں گے۔ 

ہاں دیوبندی کے ساتھ صف میں ہونے سے نمازکراہت کے ساتھ ہوگی۔ کیونکہ دیوبندی، وہابی یا ان کی طرح کوٸی بھی بدعقیدہ ہو ان کی اذان، اذان نہیں یو نہی ان کی اقامت ،اقامت نہیں ۔

اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو اذان و اقامت لازم دیرائے۔ 


سیدی سرکار اعلی حضرت نوراللہ مرقدہ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں ۔اوراہل سنت کو اس پراکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں درمختارمیں ہے ویعاد اذان کافروفاسق (فتاوی رضویہ ج ٢ ،ص٤٢١ رضا اکیڈمی ممبٸی)


لہٰذا اذان واقامت دہراٸی جاۓ اگر اذان و اقامت نہیں دہرائی گئی اور ایسے ہی پڑھ لی گئی تو فرض نماز مکروہ ہوٸی کیونکہ بہارشریعت میں ہے کہ مسجد میں بلا اذان واقامت جماعت پڑھنا مکروہ ہے،(ج١،ح٣،ص٤٦٤،مکتبة المدینہ ،دہلی)


حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

ان الجماعة بلا اذان کلا جماعة یعنی بغیر اذان کے جماعت ایسے ہے جیسے جماعت ہوئی ہی نہیں (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۷ صفحہ ۸۱) 


سنی عوام کو چاہیۓ کہ بدعقیدہ اگرآپ کی مسجد میں آتا ہے تو اسے روکیں اپنی مسجد میں نہ آنے دیں اور اگر روکنے پر کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو ہرگز اسے اذان واقامت نہ کہنے دیں، مسجد کے منتظمین کوچاہیۓ کہ اس بات پرخواص توجہ دیں اورموذن کا اہتمام کرلیں تاکہ بدعقیدوں کی اذان واقامت سے مسجد محفوظ رہے اورنمازمیں کوٸی کراہت نہ آۓ۔ 

یاد رہے جب تک تیقن کے ساتھ ان کے عقائد باطلہ کا علم نہ ہو حکم کفر و ارتداد نہیں لگا سکتے ۔ شارح بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اکثر عوام کو ان کے عقائد باطلہ کا علم نہیں پھر اگرچہ خود کو دیوبندی کہے اس کے پیچھے نماز پڑھے وہ کافر نہیں۔


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

29/10/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جو گائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟