*کیا حالت دعا میں کسی کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں؟*
*کیا حالت دعا میں کسی کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں کہ
کیا حالت دعا میں کسی کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں؟
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیراً آمین ﷺ
*سائلہ نازیہ اسماعیلیہ از شہر بنارس انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
بوقت دعاء انسان اپنے رب سے ہم کلام ہوتا یے اس لئے بوقت دعا نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوکر رب کے حضور کرنی چاہیے۔ اگر کوئی سلام کرے یا بات کرے تو اسی وقت جواب نہ دے اگر دے دئے تو بھی کوئی گناہ نہیں پر یہ اداب دعا کے خلاف ہے ۔
دعا مانگنے کے آداب میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے وہی کچھ مانگنا چاہیے، جو حلال اور طیب (پاکیزہ) ہو، ناجائز مقاصد اور گناہوں کے کاموں کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ پھیلانا اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے کچھ مانگنا انتہائی درجے کی بے ادبی اور گستاخی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہو جاتی ہے جب تک کہ وہ جلد بازی نہ کرے (اور جلد بازی کا مطلب یہ ہے کہ) وہ کہتا ہے میں نے اپنے رب سے دعاء مانگی لیکن میری دعاء قبول نہیں ہوئی۔(بخاری ومسلم)
دعاء عربی زبان کا لفظ ہے اس کا معنی ہے پکارنا۔ عموماً یہ لفظ کسی حاجت یا ضرورت کے وقت پکارنے میں استعمال ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو دعا مانگنے کا حکم دیا یہ اس امت کا خاص اعزاز ہے ورنہ حضرت کعب احبار کی روایت کے مطابق پہلے زمانہ میں یہ خصوصیت انبیاء کی تھی۔ انبیاء لوگوں کے لیے دعاء کرتے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ حکم تمام امت کے لیے عام کر دیا گیا ہے اب ہر شخص دعاء مانگے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی منقول ہے:
”یعنی دعاء مومن کا ہتھیار ہے۔“
ہتھیار صحیح کام تب ہی دکھاتا ہے جب ہتھیار بھی تیز ہو اور چلانے والا بھی طاقتور ہو۔
دعاء طاقتور کیسے بنے اس کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آداب سکھائے اور دعاؤں کے الفاظ سکھائے‘ جو مسنون دعائیں کہلاتی ہیں اور دعا مانگنے والا کیسے طاقتور بنے اس کے لیے دعاء مانگنے کے مسنون طریقے سکھائے۔
دعاء مانگنے کا اصل اصول اللہ تعالیٰ نے سورہ اعراف کی آیت نمبر55 میں بیان فرمایا یعنی تم اپنے رب سے دعاء کیا کرو عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طریقہ سے۔ بے شک اللہ تعالیٰ حد سے آگے بڑھنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔“
اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعاء کرنے والا خشوع اور خضوع یعنی عاجزی اور اللہ کے دھیان کے ساتھ دعا مانگے اور دوسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ آہستہ آواز سے دعاء کرے لیکن اگر عام مقتدی دعاؤں سے ناواقف ہوں تو پھر امام کے لیے اونچی آواز سے دعاء مانگنے میں کوئی حرج نہیں دعا کے طاقتور بنانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ دعائیں مانگی جائیں جو قرآن مجید میں انبیاء کرام نے دعائیں مانگیں اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ دعائیں قبول فرمائیں۔ یا احادیث میں جو دعائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہیں وہ مانگی جائیں۔
لیکن قرآن و حدیث کے عربی جملے جن میں دعائیں ہیں اگر ان کا ترجمہ اور مطلب آتا ہو تو پھر وہی دعائیں مانگنا افضل اور بہتر ہے۔ لیکن عام حالات میں اگر ان دعاؤں کا مطلب معلوم نہ ہو تو پھر مانگنے والے کو تو معلوم نہیں کہ ان جملوں سے ہم اللہ سے کیا مانگ رہے ہیں اب ان دعاؤں کے پڑھنے کا ثواب تو ضرور ملے گا لیکن اسے دعاء مانگنا نہیں کہیں گے بلکہ دعاء پڑھنا کہیں گے۔
دراصل دعاء مانگنے کا مقصد اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات اور ضروریات کا سوال کرنا ہے صرف مخصوص کلمات پڑھنا اصل مقصد نہیں اور یہ جب ہو گا کہ ان دعاؤں کا ترجمہ آتا ہو اور اگر برکت کے لیے ان کلمات کو پڑھ لے اور اپنی ضروریات کو اپنی زبان میں مانگ لے تو یہ زیادہ بہتر ہے تنہائی میں کوئی شخص جتنی چاہے لمبی دعائیں مانگے، خوب دیر تک دعائیں مانگے یہی پسندیدہ بات ہے ۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
02/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گر وپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment