امتحانات میں نقل کر کے پاس ہوکر جاب کرنا کیسا ہے؟*
*امتحانات میں نقل کر کے پاس ہوکر جاب کرنا کیسا ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ جب انسان سکول یا کالج پڑھتا ہے تو کبھی نہ کبھی وہ امتحان میں نقل کرتا ہے اور بورڈ کے امتحانات میں بھی وہ نقل کر جاتا ہے تو کیا اس سے جب آگے جا کر وہ اسی تعلیم کے زریعے کوئی نوکری کرتا ہے تو کیا وہ جو نقل کرتا رہا ہے اب اس تعلیم کے زریعے مثلاً وہ ڈاکٹر بن کر پیسے کما رہا ہے تو کیا وہ پیسے حرام ہوں گے۔ ؟
*سائل عدن پنجاب پاکستان*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
مسئلہ مسئولہ میں امتحانات میں نقل کرنا جھوٹ، خیانت، دھوکا دہی، فریب اور حق داروں کی حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، لہذا امتحانات میں نقل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس پر توبہ و استغفار کرنالازم ہے، اور اس سند سے کسی ملازمت کے حصول میں بھی جعل سازی اور دھوکا دہی کا پہلو ہے؛ اس لیے اس کی بنیاد پر بھی کسی ملازمت کا حصول بھی جائز نہیں۔
باقی اگر کسی نے اس طرح ملازمت حاصل کرلی ہو تو جو تنخواہ وصول کی جائے اس کے حلال یا حرام ہونے سے متعلق یہ ضابطہ ہے کہ اگر مذکورہ شخص متعلقہ ملازمت اور نوکری کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کے تمام امور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتا ہو (یعنی مطلوبہ وقت دینے کے ساتھ ساتھ وہ ذمہ داری اسی معیار کے مطابق ادا کرے جو اس منصب کے لیے مطلوب ہے) تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی، اس لیے کہ تنخواہ کے حلال ہونے کا تعلق فرائض کی درست ادائیگی سے ہے، اور اگر وہ شخص اس ملازمت اور نوکری کا اہل نہیں ہے، یا اہل تو ہے مگر دیانت داری کے ساتھ کام نہیں کرتا تو اس کی تنخواہ خواہ حلال نہیں ہوگی، (یعنی جس قدر خیانت ہوگی اسی قدر تنخواہ خواہ حلال نہیں ہوگی)
واضح رہے کہ متعلقہ ادارے کو ایسے شخص کی جعل سازی کا علم ہونے کے بعد شرعی دائرے میں رہ کر قانونی چارہ جوئی و کار روائی کا حق ہوگا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) میں ہے
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعةً فساعةً"(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 5)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
02/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment