*بغیر عذر شرعی کے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟*
*بغیر عذر شرعی کے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص ہے جو کہ چلتا ہے بھی ہے اٹھتا بیٹھتا بھی ہے اور دیکھنے میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہے مسجد کے امام اور محلے کے تمام لوگ بھی بولتے ہیں کہ زید بالکل صحیح ہے پھر بھی وہ کورسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو شریعت کی نظر میں اس کا کیا حکم لاگو ہوگا تو کیا اس کی نماز درست ہوتی ہے یا نہیں۔ براے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
*سائل:- عبدالصمد لونی امراوتی مہاراشٹر انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
نماز میں قیام فرض ہے بغیر عذر شرعی اگر کوئی کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔ اس نماز کی قضا لازم یے۔
وہ شخص قیام اور سجدہ پر قادر ہو تو اس کے لیے قیام فرض ہے، اگر قیام کے کچھ حصے پر قادر ہے پورے قیام پر قدرت نہیں تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہے اتنی دیر قیام کرنا ضروری ہے، اگر سجدے پر قدرت نہیں تو ایسے شخص سے قیام ساقط ہے ۔بلا عذرکرسی پر نماز پڑھنا جائز نہیں، بلکہ کرسی پر نماز پڑھنے کے جواز میں کچھ تفصیل ہے، جو یہ ہے:
جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قادر نہیں، یا کھڑے ہونے پر قادر ہے، لیکن زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، یا قیام و سجود کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں بیماری میں اضافہ ،یا شفا ہونے میں تاخیر، یا ناقابلِ برداشت درد کا غالب گمان ہو تو ان صورتوں میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔
اسی طرح جو شخص فرض نماز میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں، لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہے اور سجدہ بھی زمین پر کرسکتا ہے توایسے شخص کے لیے اُتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، اگر چہ کسی چیز کا سہارا لے کر کھڑا ہونا پڑے، اس کے بعد بقیہ نماز زمین پر بیٹھ کر پڑھنا چاہیے۔
اور اگر زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں تو ایسی صورت میں شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، ایسی صورت میں اسے رکوع و سجدہ اشارے سے کرنا ہوگا، البتہ سجدے میں رکوع کے مقابلے میں زیادہ جھکنا ہوگا۔ اگر قیام پر تو قدرت نہیں ہے، یا اٹھنا بیٹھنا مشکل ہے، لیکن زمین پر سجدہ کرسکتا ہے تو بہتر ہے کہ زمین پر بیٹھ کر رکوع سجدے کے ساتھ نماز ادا کی جائے،
الفتاوى الهندية میں ہے
"إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدًا يركع ويسجد، هكذا في الهداية. وأصح الأقاويل في تفسير العجز أن يلحقه بالقيام ضرر، و عليه الفتوى، كذا في معراج الدراية، وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس، كذا في التبيين. أو يجد وجعًا لذلك فإن لحقه نوع مشقة لم يجز ترك ذلك القيام، كذا في الكافي.
ولو كان قادرًا على بعض القيام دون تمامه يؤمر بأن يقوم قدر ما يقدر حتى إذا كان قادرًا على أن يكبر قائمًا و لايقدر على القيام للقراءة أو كان قادرًا على القيام لبعض القراءة دون تمامها يؤمر بأن يكبر قائمًا و يقرأ قدر ما يقدر عليه قائمًا، ثمّ يقعد إذا عجز، قال شمس الأئمة الحلواني -رحمه الله تعالى-: هو المذهب الصحيح، و لو ترك هذا خفت أن لاتجوز صلاته، كذا في الخلاصة."
(الفتاوى الهندية (1/ 136)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
05/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو ج وائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment