*شافعی مذہب کے اندر داڑھی کٹانا یعنی ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہے؟
*شافعی مذہب کے اندر داڑھی کٹانا یعنی ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ ذیل میں کہ شافعی مذہب کے اندر داڑھی کٹانا یعنی ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہے؟ برائے کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
*سائل:- شاھد علی مقام تولہوا ضلع کپل وستو نیپال*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
امام شافعی کے نزدیک داڑھی بڑھانا سنت اور مونڈانا مکروہ ہے اور ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہے۔
داڑھی مونڈانا بالاتفاق نا پسندیدہ امر اور شریعت میں منع ہے لیکن داڑھی مونڈانے کی حرمت میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک حرام ہے اور مسلک شافعی میں اختلاف ہے بعض حرمت کے قائل ہیں اور بعض مکروہ کے قائل مگر سنیت میں متفق ہیں.
محرر مذہب شافعی امام یحی بن شرف نووی,شیخ مذہب امام رافعی ,خاتم المحققین امام ابن حجر مکی ,امام شمس الدین محمد رملی ,امام احمد رملی ,شیخ خطیب شربینی ,حجت الاسلام امام غزالی ,شیخ الاسلام زکریا انصاری شیخ سلیمان بجیرمی شیخ ابراھیم باجوری شیخ سلیمان جمل رحمۃ اللہ تعالی علیھم وغیرہ جیسے جید علما کے نزدیک مکروہ ہے. .
امام نووی فرماتے ہیں
اما الفطرۃ: فقد اختلف فی المراد بھا ھنا فقال ابو ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ اﻟﺨﻄﺎﺑﻲ ﺫﻫﺐ ﺃﻛﺜﺮ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﺇﻟﻰ ﺃﻧﻬﺎ اﻟﺴﻨﺔ ﻭﻛﺬا ﺫﻛﺮﻩ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﻏﻴﺮ اﻟﺨﻄﺎﺑﻲ ﻗﺎﻟﻮا ﻭﻣﻌﻨﺎﻩ ﺃﻧﻬﺎ ﻣﻦ ﺳﻨﻦ اﻷﻧﺒﻴﺎء ﺻﻠﻮاﺕ اﻟﻠﻪ ﻭﺳﻼﻣﻪ ﻋﻠﻴﻬﻢ (شرح مسلم ج۳ص ۱٤٨)
علماے شافعیہ میں سے ایک مشت داڑھی کے وجوب کا کوئی قائل نہیں اختلاف مونڈانے میں ہے کہ داڑھی مونڈانا حرام ہے یا نہیں اکثر علماے شافعیہ نے حرمت کا انکار کیا اور مکروہ کا قول کیا
علامہ زین الدین مخدوم ثانی رحمۃ اللہ علیہ فتح المعین جلد اول صفحہ ٦٢٣ میں فرماتے ہیں .
اعلم ان المعتمد فی المذھب للحکم والفتوی ما اتفق علیہ الشیخان کما جزم بہ النووی فالرافعی فما رجحہ الاکثر فالاعلم فالاورع قال شیخنا ھذا ما اطلق علیہ محققو المتأخرين والذی اوصی باعتمادہ مشایخنا.
اور شیخین اس پر متفق ہیں کہ داڑھی بڑھانا سنت اور مونڈانا مکروہ ہے
اعانۃ الطالبین میں ہے
قال الشیخان النووی والرافعی یکرہ حلق اللحیۃ (ج ۱ ص ۳۴.)
لہذا یہی قول مسلک شافعی میں معتمد اور اور مفتی بہ
صاحب ترشیح علامہ سید علوی بن احمد سقاف اپنی کتاب فوائد مکیہ کے صفحہ ۱۲۲ میں فرماتے ہیں.
لا تجوز الفتوی بما یخالفھما ای ابن حجر والرملی بل بما یخالف التحفۃ والنھایۃ .
اس سے معلوم ہوا کہ مسلک شافعی میں امام ابن حجر اور امام رملی کی مخالفت جائز نہیں اور انکے نزدیک داڑھی بڑھانا سنت اور مونڈانا مکروہ ہے
امام ابن حجر مکی فرماتے ہیں ذکروا ھنا فی اللحیۃ ونحوھا خصالا مکروھۃ منھا نتفھا وحلقھا (تحفۃ المحتاج جلد ۹ صفحہ ٣٧٦)
امام رملی فرماتے ہیں ویندب فرق الشعر وترجیلہ وتسریح اللحیۃ ویکرہ نتفھا وحلقھا ونتف الشیب (نہایۃ المحتاج جلد ۸ صفحہ ۱۴۹)
لہذا یہی مسلک شوافع میں معتبر ہے اسی پر فتوی دیا جاےگا۔ اور مقدار کے سلسلہ میں شوافع کا مذھب یہ ہے کہ اسے بالکل نہ کاٹا جاے بلکہ یونہی چھوڑ دیا جائے
چنانچہ امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں
ﻭاﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺗﺮﻙ اﻟﻠﺤﻴﺔ ﻋﻠﻰ ﺣﺎﻟﻬﺎ ﻭ اﻻ ﻳﺘﻌﺮﺽ ﻟﻬﺎ ﺑﺘﻘﺼﻴﺮ ﺷﺊ ﺃﺻﻼ
یعنی معتمد یہ ہے کہ داڑھی کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاے اور بالکل نہ کاٹا جاے
(شرح مسلم ج ۳ ص۱۵۱)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
28/10/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment