بے نمازی کی سزا
*بے نمازی کی سزا دنیا میں۔ قبر میں اور حشر میں کل کتنے عذاب دیے جائیں گے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جو لوگ دنیا میں نماز چھوڑ تے انہیں دنیا میں اور قبر میں اور حشر کے میدان میں کل کتنے عذاب دیے جائیں گے اور وہ کون کون ہیں حوالے کے ساتھ جواب دے مہربانی ہوگی۔
*سائل:- محمد شمشاد مقام ڈگڈائی کپل وستو نیپال*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
ایک بھی نماز جان بوجھ کر چھوڑ دینا کبیرہ گُناہ ہے۔فتاوٰی رضویہ جلد9، صَفْحَہ158 پر ہے: جس نے قصداً (یعنی جان بوجھ کرصرف ) ایک وقت کی(نمازبھی ) چھوڑی، ہزاروں برس جہنّم میں رہنے کا مُسْتَحِق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے۔
نماز نہ پڑھنے کی پانچ سزائیں
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں
1) جہنم میں خوفناک وادی ہے ویل نامی جس سے جہنم خود بھی پناہ مانگتا ہے یہ اس شخص کا ٹھکانہ ہو گی جو نماز کو وقت گزار کر پڑھتا ہے ۔
2) اللہ کریم اس کی عمر سے برکت ختم کر دے گا، اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹا دے گا۔
3۔) ذلیل ہو کر مرے گا ۔
4۔) بھوکا ہو کر مرے گا۔
5) مرتے وقت اسے اتنی پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی پلا دیا جائے تو اس کی پیاس نہ بجھے گی۔
اسلام کے پانچ ارکان میں سے کلمہ طیبہ کے بعد دوسرا رکن نماز ہے، نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ربّ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآنِ مجید میں سات سو سے زائد مرتبہ نماز کا ذکر فرمایا ہے، جہاں نماز پڑھنے والوں کے لیے بہت سی انعامات کی بشارت ہے، وہیں اس کو چھوڑنے، سستی برتنے،اس سے روگردانی کرنے والے کے لئے سزائیں بھی ہیں، یہاں ہم قرآن و حدیث سے تخریج شدہ پانچ سزائیں تحریر کریں گے، ربّ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس سعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔
(1) رب تعالیٰ پارہ 29 ، سورۃ المدثرکی آیت نمبر 42،43 میں ارشاد فرماتا ہے: مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲) قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴) ترجَمۂ کنزُالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے ۔(المدثر:42 تا 44)
(2) حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ تا ہے، اس کا نام جہنم کےاس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔( فیضان نماز، ص 425)
(3) منقول ہے، بروزِ قیامت وہ( یعنی نماز کے معاملے میں سستی کرنے والا) اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہوں گی۔(1)اے اللہ کا حق برباد کرنے والے، (2) اے اللہ کے غضب کےساتھ مخصوص(3) جس طرح دنیا میں تو نے حق اللہ یعنی اللہ کاحق ضائع کيا، اسی طرح آج تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جا۔( فیضان نماز، ص 428)
(4کتابُ الکبائر میں منقول ہے، جہنم میں ایک وادی ہے، جس کا نام" ویل" ہے، اگر اس میں دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی اس کی گرمی سے پگھل جائیں، یہ ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو نماز میں سستی کرتے ہیں اور وقت کے بعد قضا کر کے پڑھتے ہیں مگر یہ کہ وہ اپنی کوتاہی(یعنی خطا) پر نادم ہو اور بارگاہِ خداوندی میں توبہ کریں۔( فیضان نماز، ص431)
(5) اللہ پاک نے حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی، اے داؤد! بنی اسرائیل سے کہو :" جس نے ایک بھی نماز چھوڑی، وہ مجھ سے قیامت کے دن اس حال میں ملے گا کہ میں اس پر غضب فرماؤں گا۔ ( فیضان نماز، ص 443، 444)
فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ ( پ۳۰،الماعون:۴،۵)
ترجمہ:توان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نمازسے بھولے بیٹھے ہیں۔
حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماارشاد فرماتے ہیں:”جہنم میں ”وَیْل”نامی خوف ناک وادی ہے جس کی گرمی سے خود جہنم بھی پناہ مانگتا ہے اور یہ اس شخص کا ٹھکانا ہے جو نماز کو وقت گزار کر پڑھتا ہے۔
بے نمازی کی سزاکے بارے میں احادیث مبارکہ:
(۱)۔ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمان ہے: ”مسلمان اورکافر کے درمیان نماز کو چھوڑنے کا فرق ہے۔”
(۲) نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شاہِ ِبنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عبرت نشان ہے :”جو نماز کے معاملے میں سستی کریگا اللہ عزوجل اسے پندرہ (15) سزائیں دے گا۔ان میں سے چھ دنیا میں ،تین موت کے وقت ،تین قبر میں اور تین قبر سے نکلنے کے بعد ہوں گی ۔
دنیاکی چھ سزائیں یہ ہیں
(۱) اللہ عزوجل اس کی عمر سے برکت ختم کردے گا
(۲) اللہ عزوجل اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادے گا (۳)اللہ عزوجل اس کے کسی عمل پراجر وثواب نہ دے گا (۴)اس کی کوئی دعا حق تعالیٰ آسمان تک بلندنہ ہونے دے گا (۵) دنیا میں مخلوق اس سے نفرت کرے گی اور (۶) نیک لوگوں کی دعا میں اس کاکوئی حصہ نہ ہوگا۔
موت کے وقت کی تین سزائیں یہ ہیں:(۱) ذلیل ہوکر مرے گا (۲)بھوکا مرے گا(۳) مرتے وقت اتنی سخت پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی اسے پلادیا جائے تو پیاس نہ بجھے گی ۔
قبر میں تین سزائیں یہ ہوں گی: (۱) اللہ عزوجل اس پر اس کی قبر تنگ کر دے گا اورقبر اسے اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھو ٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی (۲)اس کی قبر میں آگ بھڑکادی جائے گی جس کےانگاروں میں وہ دن رات اُلٹ پلٹ ہوتارہے گا (۳)اس پر ایک اژدھا مُسلَّط کر دیا جائے گا جس کا نام ـــ’ ‘اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع (يعنی گنجا سانپ ) ہے ” اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہوں گے ہرناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت کے برابر ہو گی، وہ گرج دار بجلی کی مثل آواز میں کہے گا:” مَیں اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع ہوں ،مجھے میرے رب عزوجل نے حکم دیا ہے کہ میں تجھے فجر کی نمازضائع کر نے کے جرم میں صبح تاوقتِ ظہر اور نمازِ ظہر ادانہ کرنے پر ظہر تاعصر،نمازِ عصر ضائع کر نے پر عصرتامغرب، نمازِمغرب نہ پڑھنے پرمغرب تاعشاء اور نمازِ عشاء ضائع کرنے پر (عشاء سے)صبح تک مارتارہوں۔ ”اور جب بھی وہ ایک ضرب لگائے گا تو مردہ ستر (70 )ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا تو وہ اپنے ناخن زمین میں داخل کر کے اس کو نکالے گا اور یہ عذاب اس پر قیامت تک مسلسل ہوتارہے گا (ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہيں)
قیامت کے دن کی تین سزائیں یہ ہیں: (۱) اللہ عزوجل اس پرایک فرشتہ مسلط کردے گا جو اسے منہ کے بل گھسيٹتےہوئے جہنم کی طرف لے جائے گا(۲) حساب کے وقت اللہ عزوجل اس کی طرف ناراضگی والی نظر سے ديکھے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑجائے گا(۳) اللہ عزوجل اس کا حساب سختی سے لے گا جس سے زیادہ سخت وطویل کوئی عذاب نہ ہو گا،اللہ عزوجل اس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم صادر فرمائے گااور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے ۔رسولِ اَکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمان عبرت نشان ہے: ”جب کوئی قصداً ایک فرض نماز چھوڑدیتاہے تو اس کا نام جہنم کے دروازے پرلکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں کاجہنم میں داخلہ لازم ہوگیا۔
رسولِ اَکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمان ہے :”اللہ تعالٰی صحت کی حالت میں نماز چھوڑنے والے کی طرف نہ نظرِ رحمت فرمائے گا اورنہ اس کو پاک کریگا اوراس کے لئے درد ناک عذاب ہے مگر یہ کہ وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ کرے تو اللہ تبار ک و تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
31/10/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکی ڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment