حالت حیض میں طلاق دینے سے وہ حیض عدت میں شمار ہوگی یا نہیں؟*


*حالت حیض میں طلاق دینے سے وہ حیض عدت میں شمار ہوگی یا نہیں؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر کوئی شخص حالتِ حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو بیوی عدت کیسے گزارے گی؟ 

اگر اس حیض کو جس میں طلاق دی ہے عدت میں شمار کیا جاۓ  تو ثلاثہ قروء پر عمل نہیں ہوگا ، اور اگر اس حیض کو عدت میں شمار نہ کیا جائے تو عدت طویل ہو جائے گی؟ جو کہ درست نہیں ہے ۔بینوا توجروا ۔


*سائل محمد مستقیم رضا علیمی اتر دینا پور انڈیا*۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

آپ کو کیسے ہتا مدت طویل ہوگی اور یہ درست نہیں؟ 

آپ شرعی احکام معلوم کریں اپنی عقل نہ دوڑائیں۔ البتہ حیض میں طلاق دینا گناہ یے اگر طلاق رجعی دی ہو تو رجوع کرنا واجب ہے اگر حیض میں طلاق دی ہو تو رجوع کرلے ہھر جب پاک ہوجائے پھر سنت کے مطابق طلاق دے۔ 

بہار شریعت میں 

حیض میں طلاق دی تو رجعت واجب ہے کہ اس حالت میں    طلاق دینا گناہ تھا اگر طلاق دینا ہی ہے تو اس حیض کے بعد طہر گزر جائے پھر حیض آکر پاک ہو اب دے سکتا ہے۔ یہ اُس وقت ہے کہ جماع سے رجعت کی ہو اور اگر قول یا بوسہ لینے یا چُھونے سے رجعت کی  ہو تو اس حیض کے بعدجو طہر ہے اس میں    بھی طلاق دے سکتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے طہر کے انتظار کی حاجت نہیں۔ (بہار شریعت ح 8 ص 113 مکتبہ المدینہ)

 

مسئلہ مسئولہ میں حیض کی حالت میں طلاق دی تو یہ حیض عدت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ اس کے بعد پورے تین حیض ختم ہونے پر عدت پوری ہوگی

ماہواری میں طلاق دینا ناجائز اور گناہ ہے،تاہم اگر کسی نے ماہواری میں طلاق دے دی تو وہ طلاق واقع ہوجائے گی لیکن شوہر پر واجب ہوگا کہ وہ مطلقہ سے  زبانی رجوع کرلے (الا یہ کہ رجوع کرنا ممکن نہ ہومثلًا:اس نے طلاق بائن دی ہو یا اس سے پہلے وہ دو طلاقیں دے چکا ہو)،رجوع کرنے کے بعد جب ماہواری ختم ہوجائے ،اس کے بعد مزید ایک طہر آئے،پھر دوبارہ ماہواری کے بعد طہر آجائے تو اس طہر میں اگر طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

اگر رجوع ممکن نہ ہو یا شوہر رجوع نہ کرے تو  عدت کا حکم یہ ہے کہ جس حیض میں طلاق دی ہے وہ حیض عدت میں شمار نہیں ہوگا،اس حیض کے بعد مزید تین حیض  گزرنے سے  مطلقہ کی عدت مکمل ہوگی بشرطیکہ وہ حمل سے نہ ہو،اگر حمل سے ہو تو اس کی عدت بچہ کی پیدائش سے مکمل ہوگی۔

بہار شریعت میں ہے

حیض کی حالت میں طلاق دی تو یہ حیض عدت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ اس کے بعد پورے تین حیض ختم ہونے پر عدت پوری ہوگی۔(بہار شریعت،ج 2،حصہ 8،ص 235،مکتبۃ المدینہ)


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

02/11/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟