تعلیق طلاق کے بعد بچی ماں کے پاس رہے گی یا باپ کے پاس؟*
*تعلیق طلاق کے بعد بچی ماں کے پاس رہے گی یا باپ کے پاس؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کہا کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر میکے گئی تو تم کو طلاق ہے بعدہ ہندہ اپنے شوہر کے بغیر اجازت میکے چلی گئی فی الحال دونوں الگ الگ ہیں اور دونوں سے ایک بچی بھی ہے زید کہتا ہے بچی کو ہم رکھیں گے ہندہ کہتی ہے بچی کو ہم رکھیں گے اور ہندہ اپنی بچی کا حصہ بھی طلب کر رہی ہے تو دریافت طلب امور یہ ہیں
1) طلاق ہوئی تو کتنی ہوئی ؟
2 ) بچی کو اس کے والد کے مال سے کتنا حصہ ملے گا اور کب ملے گا ؟
3 ) بچی والد کے پاس رہے گی یا والدہ کے پاس ؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل مفصل جواب عنایت فرمائیں
*المستفتی :- زینل شیخ ویراٹ نگر نیپال*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
1) مذکورہ صورت۔ تعلیق طلاق کی ہے ۔شوہر کا قول اگر تم میری اجازت کے بغیر اپنی میکی گئی تو تمہیں طلاق ہے
ایک مرتبہ کہے تھے تو اس سے ایک طلاقِ رجعی معلق ہوگئی تھی، اب اگر مذکورہ شخص کی بیوی اپنے میکے بے اذن شوہر چلی گئی تو اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی، دورانِ عدت شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، اور اگر عدت کے دوران رجوع نہ کیا تو عدت مکمل ہوتے ہی نکاح مکمل طور پر ختم ہوگیا، البتہ باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کی اجازت ہوگی، بہر صورت آئندہ مذکورہ شخص کو دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔
البتہ اگر مذکورہ شخص نے مذکورہ الفاظ تین بار کہے ہوں تو میکے جاتے ہی تینوں طلاق واقع ہوجائیں گی، اور مذکورہ شخص کی بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔ نہ رجوع جائز ہوگا اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، تاآں کہ وہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرے، اور دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ زن و شوہر کا تعلق قائم کرنے کے بعد از خود طلاق دے دے، اور دوسرے شوہر کی عدت بھی گزر جائے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے
وَإِذَا أَضَافَهُ إلَى الشَّرْطِ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ اتِّفَاقًا، مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ: إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، وَلَا تَصِحُّ إضَافَةُ الطَّلَاقِ إلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَالِفُ مَالِكًا أَوْ يُضِيفَهُ إلَى مِلْكٍ وَالْإِضَافَةُ إلَى سَبَبِ الْمِلْكِ كَالتَّزَوُّجِ كَالْإِضَافَةِ إلَى الْمِلْكِ، فَإِنْ قَالَ لِأَجْنَبِيَّةٍ: إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَأَنْت طَالِقٌ، ثُمَّ نَكَحَهَا فَدَخَلَتْ الدَّارَ لَمْ تَطْلُقْ، كَذَا فِي الْكَافِي". ( الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي تَعْلِيقِ الطَّلَاقِ بِكَلِمَةِ إنْ وَإِذَا وَغَيْرِهِمَا، ١ / ٤٢٠)
2) مذکورہ صورت میں مذکورہ جملہ ایک بار کہنے سے طلاق رجعی واقع ہوگئ۔
2) بچی کو والد کے مال سے شرعا کوئی حصہ نہیں ہاں جب والد مرجائے تو وراثت میں بچی کا حصہ ہوگا۔
3) نو سال کی عمر تک بچی اپنی والدہ کے پاس رہے گی، اور اس دوران بچی کے اخراجات باپ پر لازم ہوں گے۔نو سال کے بعد اس کی شادی تک باپ کے پا س رہے گی۔
اور اگر بچی کی ماں ایسے شخص سے شادی کر لیتی ہے جو بچی کا اجنبی یعنی نامحرم ہے تو اب اسے حقِ پرورش نہ ہوگا بلکہ بچی کی نانی کو حق حاصل ہوگا ،وہ نہ ہو تو نانی کی ماں ،وہ نہ ہوتوبچی کی دادی ،دادی نہ ہوتو پردادی ۔یہ نہ ہوں تو دیگر رشتہ دارعورتوں کو حق حاصل ہوگا۔
جن کا تفصیلی بیان بہار شریعت کچھ یوں ہے
ماں اگر نہ ہو یا پرورش کی اہل نہ ہو یا انکار کر دیا یا اجنبی سے نکاح کیا تو اب حق پرورش نانی کے ليے ہے، یہ بھی نہ ہو تو نانی کی ماں، اس کے بعد دادی، پر دادی بشرائط مذکورہ بالا پھر حقیقی بہن پھر اخیافی بہن پھر سوتیلی بہن پھر حقیقی بہن کی بیٹی پھر اخیافی بہن کی بیٹی پھر خالہ یعنی ماں کی حقیقی بہن پھر اخیافی پھر سوتیلی پھر سوتیلی بہن کی بیٹی پھر حقیقی بھتیجی پھر اخیافی بھائی کی بیٹی پھر سوتیلے بھائی کی بیٹی پھر اسی ترتیب سے پھوپیاں پھر ماں کی خالہ پھر باپ کی خالہ پھر ماں کی پھوپیاں پھر باپ کی پھوپیاں اور ان سب میں وہی ترتیب ملحوظ ہے کہ حقیقی پھر اخیافی پھر سوتیلی۔ اور اگر کوئی عورت پر ورش کرنے والی نہ ہو یا ہو مگر اسکا حق ساقط ہو تو عصبات بہ ترتیبِ ارث یعنی باپ پھر دادا پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا پھر بھتیجے پھر چچا پھر اس کے بیٹے مگر لڑکی کوچچا زاد بھائی کی پرورش میں نہ دیں خصوصاً جبکہ مشتہاۃ ہواور اگر عصبات بھی نہ ہوں تو ذوی الارحام کی پرورش میں دیں مثلاً اخیافی بھائی پھر اُسکا بیٹا پھر ماں کا چچا پھر حقیقی ماموں۔ چچا اور پھوپھی اور ماموں اور خالہ کی بیٹیوں کو لڑکے کی پرورش کاحق نہیں۔(بہار شریعت،ج 2،ح 8،ص 254 مکتبۃ المدینہ کراچی)
یاد رہے پرورش کے دوران یا بعد میں اگر ماں یا باپ بچی کو ملنا اور دیکھنا چاہیں توملنے اور دیکھنے سے کوئی منع نہیں کر سکتا ہے۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
05/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسی سز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment