جب فرض اہم ہے تو فرض سے پہلے سنت کیوں ادا کرتے ہیں؟*
*جب فرض اہم ہے تو فرض سے پہلے سنت کیوں ادا کرتے ہیں؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسٔلہ ذیل میں کہ عبادات میں سب سے اہم و ضروری فرض ہیں لیکن فرضوں سے پہلے سنت و نفل کو فرضوں سے پہلے کیوں ادا کیا جاتا ہے جب اہم ہیں تو فرض ادا کیۓ جاییٔں ایسا کیوں بینوا توجروا کثیرا
*المستفتی احقر العبد نیاز محمد ساکن رہپورہ رامپور الھند*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
جو اہم ہو وہی پہلے ادا کی جائے یہ کوئی اصول تو نہیں ہے پھر جب نماز فرض اور اہم ہے تو فرض سے پہلے وضو کیوں کرتے ہیں؟
غلط دماغ مت دوڑایا کرو۔
امت کا کام ہے صرف اپنے نبی کی پیروی کرنا۔
اقا علیہ السلام نے جس فرض سے پہلے سنت پڑھی ہے ہم پڑھیں گے اور جس میں نہیں پڑھے ہیں ہم نہیں پڑھیں گے۔
اسی کا نام عبادت ہے ۔پورے قرآن میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے فرض پڑھنے کا حکم دیا ہے سنت اور نفل پڑھنے کا نہیں، فرض اور نوافل سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی ادا کیے ہیں۔ لہذا سنت ونفل فرض کے ساتھ ہیں۔ جو فرض پڑھے گا اسے صرف فرضوں کا ثواب ملے گا سنت ونوافل کا نہیں، اور سنت ونفل نماز نہ پڑھنے سے اور ان کو ترک کرنے سے انسان گنہگار ہوتا ہے۔
جب نماز فرض ہوئی تو صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے نماز ادا کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
صلوا کما رأيتمونی أصلی.
ایسے نماز ادا کرو جیسے مجھے ادا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہو۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض، سنت اور نفل سب ادا کیے ہیں، فرائض، سنن اور نوافل کا نام ہی نماز ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے صرف فرض پڑھنے کا حکم دیا ہے اور سنت ونفل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھے۔ اللہ تعالی نے مطلقا نماز پڑھنے کا حکم فرمایا، اور نماز کس چیز کو کہتے ہیں نماز کیسے ادا کرنی ہے اور نماز کا وقت کیا ہے، نماز میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں۔ سب کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو بتایا ہے۔
یہ شیطان کی طرف سے وسوسے ہوتےہیں کہ صرف فرائض پڑھ لینے سے نماز ہو جاتی ہے باقی کونسا ضروری ہے، وہ ادا کریں نہ کریں کچھ نہیں ہوتا۔ نہیں بلکہ ایسا نہیں ہے، حدیث مبارکہ میں ہے کہ قیامت کے دن حساب و کتاب کے وقت دیکھا جائے گا کہ اگر فرائض میں کمی ہے تو اللہ تعالی کہے گا کیا فرائض کے علاوہ نفل نماز ہے؟ تو اگر نفل نماز پڑھی ہو گی تو اس کے فرائض میں واقع کمی کو پورا کر کے اس کا حساب کلیئر کیا جائے گا۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ سنت ونفل کی کتنی اہمیت ہے۔
اسی طرح یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے کہ فرض کم اور سنتیں زیادہ کیوں؟ ۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
01/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment