*کیا سعودی میں ایک دن پہلے عید الفطر ہونے سے شیطان ہند و پاک آسکتا ہے؟* ۔۔


*کیا سعودی میں ایک دن پہلے عید الفطر ہونے سے شیطان ہند و پاک آسکتا ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے تعلق سے کہ 

رمضان المبارک میں شیاطین قید ہو جاتے ہیں اور جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہیں تو وہ آزاد ہو جاتے ہیں ، اور سعودی عرب میں تو چاند ایک دن پہلے نظر آتا ہیں تو کیا وہاں کے شیاطین ادھر نہیں آسکتے؟

شرعی رہنمائی فرمائیں 


*سائلہ کنیز فاطمہ از مہاراشٹر انڈیا*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہے شیطان ازاد ہوجاتا ہے یہ کہاں لکھا یے؟

اور سارے شیاطین نہیں جکڑے جاتے بلکہ سرکش شیطانوں جکڑے جاتے ہیں۔ پھر سعودی شیاطین کو ہند انے کی ضرورت نہیں غیر شرکش شیاطین پہلے سے کھلے ہوتے ہیں۔ اور جہاں جہاں رمضان ہو وہاں وہاں شرکش شیاطین جکڑے ہوتے ہیں۔

صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب رمضان شروع ہو تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے)بخاری: (3277) مسلم: (1079)


شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیاجاتا ہے:

اس کا حقیقی معنی تو یہ ہے کہ رمضان میں ابلیس مع اپنی ذریتوں (اولادوں)کے قید کر دیا جاتا ہے۔اس مہینہ میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفسِ امّارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ کہ شیطان کے بہکانے سے۔ اس سے یہ اعتراض دور ہوگیاکہ جب شیطان بند ہوگیا تو اس مہینہ میں گناہ کیسے ہوتے ہیں؟


اس اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ سارے شیاطین کو نہیں بلکہ صرف سرکش شیطانوں کو قید کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں دوسرے مہینوں کی نسبت نیکیاں زیادہ اور گناہ کم ہوتے ہیں (اس کا عام مشاہدہ ہے کہ رمضان شریف میں مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں کہ دیر سے پہنچنے والوں کو جگہ نہیں ملتی،لوگ کثرت سے نوافل پڑھتے ہیں، تلاوت ِ قراٰن کرتے ہیں، ذکر و درودکی کثرت کرتے ہیں،صدقہ و خیرات بڑھا دیتے ہیں)،

دوسری بات یہ کہ شیاطین کو جکڑنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ بُرائیاں اور گناہ بالکل ہی نہ ہوں کیونکہ شیطان کے بہکانے کے علاوہ بھی شر اور فساد کے کئی ذرائع ہیں جیسے نفسِ امّارہ، بُری عادتیں اور انسانی شیطان۔

جب کہ شیاطین کو زنجیروں میں جکڑنے کا مجازی معنیٰ یہ ہے کہ رمضان میں شیاطین مسلمانوں کو ورغلا نہیں سکتے جیسا دوسرے مہینوں میں کرتے ہیں کیونکہ مسلمان روزے، تلاوتِ قراٰن اور دوسری نیکیوں میں مصروف ہوتے ہیں،اور اگر شیاطین فساد پھیلانے میں کامیاب ہوبھی جائیں تو یہ دوسرے مہینوں کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔۔


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

02/11/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپ س کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟