کیا مزنیہ کی بہو سے نکاح کرنا جائز ہے؟
*کیا مزنیہ کی بہو سے نکاح کرنا جائز ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام درج ذیل سوال کے بارے میں
زید کا ایک عورت سے نا جائز تعلقات تھے اور اس سے کئی بار جنسی تعلق بھی بنا چکا ہے اب اسی عورت کے لڑکے کا انتقال ہوگیا ہے اور زید اس عورت کے لڑکے کی گھر والی سے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا یہ نکاح عندالشرع جائز ہے یا نہیں ۔جواب عنایت فرمائیں ۔
*سائل بلال اکبری راجستھان انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
مذکورہ صورت میں نکاح کرنا جائز یے۔ چونکہ مزنیہ کے اصول و فروع سے زانی کا نکاح جائز نہیں ہے مذکورہ صورت میں بہو مزنیہ کی اصول و فروع نہیں ہے۔
اصول سے مراد مزنیہ کے والد، والدہ، دادا، دادی، نانا،نانی، پر دادا، پر دادی، پر نانا، پر نانی، یا ان سے اوپر کے اجداد ہیں، جب کہ فُروع سے مراد اس کی اولاد یعنی بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، نواسے نواسیاں اور ان کی اولاد در اولاد ہے۔
زنا کی وجہ سے صرف زانی کے اصول وفروع مزنیہ پر اور مزنیہ کے اصول وفروع زانی پر حرام ہوتے ہیں، دونوں میں سے کسی کے اصول وفروع دوسرے کے اصول وفروع پر حرام نہیں ہوتے ہیں۔
مجمع الانہر میں ہے:
ولا تحرم أصولہا وفروعہا علی ابن الواطئ وأبیہ کما في المحیط للسرخسي اھ،(مجمع الانہر (۱: ۴۸۱،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے:
ویحل لأصول الزاني وفروعہ أصول المزني بہا وفروعہا (البحر الرائق (۳:۱۷۹)
اور ایسا ہی شامی میں بحوالہ البحر الرائق وغیرہ ہے، (۴: ۱۰۷)
اس لیے صورت مسئولہ میں زانی کا نکاح مزنیہ کی بہو سے جائز ہے۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
04/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment