*اگر مسجد کا رخ قبلہ سے ہٹ جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟*


*اگر مسجد کا رخ قبلہ سے ہٹ جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں 

1۔ ایک بہت پرانی مسجد تھی جو شہید کر دی گئی پھر اسی جگہ دوسری مسجد بنی جو تقریباً پندرہ یا بیس سال کے آس پاس ہوئی ہے اب موجودہ زمانے میں آلات و اپلیکیشن کے ذریعے سے قبلہ کو ملایا جا رہا ہے تو کافی ٹیڑھا سمت معلوم ہو رہا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ اب کس کو مانا جائے پرانی طرز پر جو قبلہ کی سمت ہے اسکو یا پھر موبائل وغیرہ قبلہ معلوم کرنے والے آلات کو نیز یہ بتائیں جو نماز پڑھی جا چکی ہے اسکا کیا حکم ہے اور کوئی ایسی صورت بتائیں جو جو لوگوں خلفشار نہ ہو اور اس کس طرح سمجھائے


*سائل محمد رضا مقام سرپلو ضلع مہوتری نیپال*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل

مسجد اتنی ٹیڑھی تو نہیں ہوگی کہ بالکل مسجد کا رخ سمت اتر یا دکھن ہو؟ تھوڑی بہت ٹیڑھی سے کوئی حرج نہیں ہے۔۔

اپ اپنے علاقے کے کسی معتبر مفتی صاحب کو مسجد دکھائیں۔ مسجد تو بن گئی ہے ممکن صرف صف درست کرنے سے کام چل جائے گا۔ 

نئی مسجد کی سمت قبلہ علاقے کی پرانی مسجدوں کو دیکھ کر ان کے موافق متعین کرنی چاہئے پھر اگر حقیقی سمتِ قبلہ سے کچھ انحراف ہو جائے تو مضر نہیں۔ جتنا انحراف معاف ہے


بہار شریعت میں ہے 

جہت کعبہ کو مونھ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ مونھ کی سطح کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو، تو اگر قبلہ سے کچھ انحراف ہے، مگر مونھ کا کوئی جز کعبہ کے مواجہہ میں ہے، نماز ہو جائے گی، اس کی مقدار 45 درجہ رکھی گئی ہے، تو اگر 45 درجہ سے زائد انحراف ہے، استقبال نہ پایا گیا، نماز نہ ہوئی، مثلاً :ا، ب، ایک خط ہے اس پر ہ، ح، عمود ہے اور فرض کرو کہ کعبۂ معظمہ عین نقطہ ح کے محاذی ہے، دونوں قائمے ا، ہ، ح اور ح، ہ ب کی تنصیف کرتے ہوئے خطوط ہ، ر، ہ، ح خطوط کھینچے، تو یہ زاویہ 45،45 درجے کے ہوئے کہ قائمہ 90 درجے ہے، اب جو شخص مقام ہ پر کھڑا ہے، اگر نقطۂ ح کی طرف مونھ کرے، تو اگرعین کعبہ کو مونھ ہے اور اگر دہنے بائیں ر،یا ح کی طرف جھکے، تو جب تک ر ،ح یا ح، ح کے اندر ہے، جہت کعبہ میں ہے اور جب ر سے بڑھ کر ا ،یا ح سے گزر کر ب کی طرف کچھ بھی قریب ہوگا، تو اب جہت سے نکل گیا، نماز نہ ہوگی۔‘(بھار شریعت، جلد1،ح 3،ص 487، 488مکتبۃ المدینہ،کراچی)

جہتِ قبلہ، عین کعبہ سے 45ڈگری دائیں اور 45ڈگری بائیں طرف ہونے کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ ایک دائرہ میں 360 ڈگری ہوتی ہیں اور سمتیں کل چار ہیں ،360ڈگری کو 4 پر تقسیم کرنے سے 90 حاصل ہوگا،لہذا ایک سمت 90ڈگری پر مشتمل ہوئی ۔تو قبلہ جس طرف ہوگا وہ سمت 90 ڈگری پر مشتمل ہے،عین کعبہ سے دائیں طرف 45درجے تک اوراسی طرح کعبہ کی بائیں طرف بھی 45درجے تک سمت قبلہ کہلائے گی۔


فتاوی رضویہ میں ہے 

ہر جہت کا حکم اُس کے دونوں پہلوؤں میں 45، 45 درجے تک رہتا ہے، جس طرح نماز میں استقبالِ قبلہ۔(فتاوی رضویہ، ج 4،ص 608، رضا فاؤنڈیشن لاھور)


فتاوی رضویہ میں ہے

علمائے کرام کا حکم تو یہ ہے کہ جہت سے بالکل خروج ہو ،تو نماز فاسد اور حدود جہت میں بلاکراہت جائز کہ آفاقی کا قبلہ ہی جہت ہے، نہ کہ اصابت عین ۔بدائع امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاسانی، پھر حلیہ امام ابن امیر الحاج حلبی میں ہے: قبلتہ حالۃ البعد جھۃالکعبۃ وھی المحاریب لاعین الکعبۃ‘‘ کعبہ سے دوری کی صورت میں جہتِ کعبہ ہی قبلہ ہے اور وہ محرابِ مسجد ہے، نہ کہ عین قبلہ۔ہاں حتی الوسع اصابت عین سے قرب مستحب اس بارے میں ملتقط و حلیہ وغیرہما کے نصوص بعونہ تعالیٰ آگے آتے ہیں اور خیریہ میں فرمایا: ’’ھوافضل بلاریب ولامین الخ(وہ بغیر کسی شبہ کے افضل ہے۔)۔۔اور ترک مستحب مستلزم کراہت تنزیہ بھی نہیں ،کراہت تحریم تو بڑی چیز ،بحر الرائق باب العیدین میں ہے:’’ لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذلابدلھامن دلیل خاص ‘‘ترکِ مستحب سے کراہت لازم نہیں آتی، کیونکہ اس کے ثبوت کے لیے خاص دلیل کا ہونا ضروری ہے (فتاوی رضویہ ج 6،ص 64،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)


فتاوی رضویہ میں ہے 

’یہاں امراہم اس کی معرفت ہے کہ دیوار محرابِ مسجد کو قبلہ تحقیقی سے کتنا انحراف ہے؟ اگر وہ انحراف ثمن دور یعنی 45 درجے کے اندر ہے، تو نماز محراب کی جانب بلا تکلف صحیح و درست ہے ، اس انحراف قلیل کا ترک صرف مستحب ہے، خود سوال میں تجنیس ملتقط سے گزرا:’’قال الامام السید ناصر الدین ،الاول للجواز والثانی للاستحباب‘‘ امام ناصر الدین نے کہا : پہلی صورت میں جواز اور دوسری میں استحباب ہے ۔ اسی طرح اُس سے اور نیز ملتقط سے حلیہ امام ابن امیر الحاج میں ہے: شرح زاد الفقیر للعلامۃ الغزی و شرح الخلاصہ للقہستانی۔ پھر ردالمحتار میں وہی دو ثلث جانب راست اور ایک ثلث جانب چپ رکھنا بیان کرکے فرمایا :’’ولولم یفعل ھکذا وصلی فیما بین المغربین یجوز‘‘اگر کسی نے اس طرح نہ کیا اور مغربین کے درمیان نماز پڑھ لی تو جائز ہوگی۔


جب تک 45 درجے انحراف نہ ہو نماز بلا شبہ جائز ہے اور یہ کہ قبلہ تحقیقی کو منہ کرنا نہ فرض نہ واجب ، صرف سنتِ مستحبہ ہے، لہذا مسجد میں نماز بلا شبہ جائز ہے اور اس میں اصلاً نقصان نہیں ، نہ دیوار سیدھی کرنا فرض، البتہ بہترو افضل ہے۔ ردالمحتار میں ہے:’’ لو انحرف عن العین انحرافا لا تزول منہ المقابلۃ بالکلیۃ جاز ویؤ یدہ ماقال فی الظھیریۃ اذاتیا من اوتیا سرتجوز ‘‘اگر عینِ کعبہ سے اتنا منحرف ہوا کہ اس سے بالکلیہ مقابلہ ختم نہ ہو تو نماز جائز ہے ،اس کی تائید ظہیریہ کی اس عبارت سے ہوتی ہے کہ جب وہ تھوڑا دائیں یابائیں ہو جائے ،تو نماز جائز ہوگی۔

حلیہ میں ملتقط سے:

ھذا استحباب والاول للجواز اھ یرید ان عدم الانحراف مھما قدرمستحب ،و الانحراف مع عدم الخروج عن الجھۃ بالکلیۃ جائز۔یہ استحباب کے لیے ہے اور پہلا جواز کے لیے ہے ،اھ ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کسی قدر بھی انحراف نہ ہو ، یہ مستحب ہے اوراتناانحراف کہ جہت کعبہ سے نہ نکلے یہ بھی جائز ہے۔‘(فتاوی رضویہ ،ج 6،ص 56تا58،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

 مذکورہ صورت میں مقامی علماء اور مفتیان کرام سے درخواست کی جائے، وہ مقدار انحراف کی تحقیق کرکے علاقے کی قدیم مسجد کے موافق قبلہ درست کروادیں گے، قبلہ درست کرنے کے لئے، قبلے کی دیوار کو درست کرنا ضروری نہیں ہے، اندر کی صفیں درست کرلی جائیں تو بھی کافی ہے۔اس اہم بات کو آپ سمجھیں 

 ان حضرات علماء کو کوئی مزید بات پوچھنی ہوگی تو وہ اس کے بارے میں استفتاء مرتب کرکے یہاں سے پوچھ لیں گے۔


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

02/11/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گرو پس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟