*یزید کے بارے میں اھلسنت والجماعت کا کیا موقف ہے؟*


*یزید کے بارے میں اھلسنت والجماعت کا کیا موقف ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان عظام مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ

یزید کے بارے میں اھلسنت والجماعت کا کیا موقف ہے

کیا اس کا کفر ثابت ہے 

کیا اس پر لانت کرنا جائز ہے لانت کرنی چاھیئے

دلائل سے ثابت فرمائیں


*سائل عبدالحمید قاسمی مصطفوی شکارپور سندہ پاکستان*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 


الجواب بعونه تعالي عز وجل

یزید یقینا باجماع اہلسنت فاسق وفاجریے۔ البتہ کفر میں اختلاف ہے۔

 یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہل سنت کے تین قول ہیں ۔ 

1) امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہوگی۔

2) اور امام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہے۔ 

3) اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر لہذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔ 

یعنی زید کو کافر کہنے اور اس پر لعنت کرنے میں علمائے اہلِ سنّت کے تین قول ہیں اور ہمارے امامِ اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا مسلک سُکُوت، یعنی ہم اسے فاسق فاجر کہنے کے سوا، نہ کافر کہیں نہ مسلمان۔

یزید سخت فاسق و فاجر اور جری علی الکبائر تھا، اس کے فاسق و فاجر ہونے پر اہلسنت کا اجماع ہے ۔اہلبیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اس کی طرف سے کیے گئے مظالم اور پھر اس کے بعد مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کی بے حرمتی اور حرمین طیبین میں رہنے والوں پر ظلم و ستم مشہور و معروف ہیں لہٰذا اس پلید کی مدح و ثنا کرنے والا سنی نہیں بلکہ گمراہ ناصبی و خارجی ہی ہو سکتا ہے البتہ یزید کے کفر میں علمائے اہلسنت کے درمیان اختلاف ہے اور ہمارئے امام ، امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مذہب محتاط سکوت ہے (یعنی آپ اس کا معاملہ اللہ عزوجل کے سپرد کرتے ہیں نہ کافر کہتے ہیں اور نہ ہی مسلمان) یہ مذہب ہی احتیاط کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اس سے فسق و فجور مشہور و متواتر ہے کفر نہیں ۔

فتاوی شارح بخاری میں ہے 

یزید اصل میں مسلمان تھا، اور جب کوئی اصل میں مسلمان ہو تو اس کے کافر ہونے کے لیے ایسا ثبوت چاہیے جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔ حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ کے شہید کرنے کا حکم یزید سے ثابت نہیں، بلکہ روایتوں میں ہے کہ شہادت کی خبر سن کر بہت برہم ہوا۔ البتہ ایک روایت ہے کہ جب اس کو شہادت کی خبر ملی تو اس نے ابن زبعری کے یہ اشعار پڑھے۔ جو اس نے غزوہ احد کے موقع پر کہا تھا:

ليت أشيــاخ ببـدر شهـدوا

جزع الخزرج في وقع الأسل

کاش یہ کہ ہمارے بدر میں جو بزرگ تھے اور مارے گئے، واقعۂ احد کے وقت قبیلہ خزرج کے جزع کے وقت موجود ہوتے۔


یہ یقیناً کفر ہے۔ ہوسکتا ہے سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ تک یہ روایت کسی ایسے مستند اور یقینی ذریعے سے نہ پہنچی ہو جس پر تکفیر کرنا جائز ہو، مگر چوں کہ یہ روایت پہنچی تو شبہ پیدا ہوگیا۔ اس لیے سکوت فرمایا کہ ہم نہ اسے کافر کہیں گے نہ مسلمان۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ سیدنا امام احمد بن حنبل رضی الله تعالی عنہ تک بتواتر ایسے قطعی یقینی طریقے سے پہنچی ہو جس میں شبہ نہ ہو تو انھوں نے تکفیر فرمائی۔(فتاوی شارح بخاری، ج: 2، ص: 90)


امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے نے ان سے یزید کے بارے میں سوال کیا تو آپ رحمۃ اللہ علہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

يا بنی و هل يتولیٰ يزيد احمد يومن بالله ولم لايلعن من لعنة الله في کتابه. فقلت و اين لعن الله يزيد في کتابه فقال في قوله تعالیٰ: فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْo أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْo [سورة محمد، 47: 22-23] فهل يکون فساد اعظم من القتل؟

 میرے بیٹے کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرے اور پھر یزید سے بھی دوستی رکھے اور ایسے شخص پر میں (احمد بن حنبل) لعنت کیوں نہ کروں جس پر قرآن میں اللہ نے خود لعنت کی ہو۔ فرزند نے عرض کیا: قرآن میں کس جگہ اس پر لعنت ہوئی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کے اس فرمان میں [پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ﷲ نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔] کیا قتلِ (امام حسین علیہ السلام) سے بڑھکر بھی کوئی فساد ہو سکتا تھا؟

(أحمد بن محمد بن علی بن حجر الهيثمی، الصواعق المحرقة علی أهل الرفض و الضلال و الزندقة، 2: 635، بيروت، لبنان: مؤسسة الرسالة)


فتاوی رضویہ میں ہے 

یزید پلید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اہلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اہل سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیۂ کریمہ

سے اس پر سند لاتے ہیں

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)اُولٰٓكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ (۲۳)

کیا قریب ہے کہ اگر والی مُلک ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت فرمائی تو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔

شک نہیں کہ یزید نے والی مُلک ہوکر زمین میں فساد پھیلایاحرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہی مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑ ا اور جلادیا، مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمرائیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے گود کے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارک چور ہوگئے سر انور کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھاکاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا، حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے، قرآن عظیم میں صراحۃ اس پر {لَعَنَهُمُ اللّٰهُ } (ان پر اللہ کی لعنت ہے) فرمایا، لہذا امام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطا سکوت فرمایا کہ اس سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں اور بحال احتمال نسبت ِکبیرہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر، اور امثال وعیدات مشروط بعدم ِتوبہ ہیں لقولہ تعالی { فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا اِلَّا مَنْ تَابَ }( تو عنقریب دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوئے۔) اور توبہ تادم ِ غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت وبدمذہبی صاف ہے ،بلکہ انصافاً یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبت ِسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شمّہ ہو، {وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ }

(اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔)، شک نہیں کہ اس کا قائل ناصبی مردود اور اہل سنت کا عدو وعنود ہے(الفتاوی الرضویۃ کتاب السیر، ج ۱۴ ، ص ۵۹۱۔۵۹۳۔)


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

03/11/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیس ز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟