اگر شوہر نان و نفقہ نہ دے تو بیوی کیا کرے؟
*اگر شوہر نان و نفقہ نہ دے تو بیوی کیا کرے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمت الله وبركاته
میرا سوال یہ ہے کہ اگر شوہر کی سالوں سی دبئی میں ہے اور خرچے کے نام پر بیوی کو ایک روپیہ بھی نا بھیجے تو کیا کرنا چاہیے۔میں اسکول میں جاب کرکے اپنا اور دو بچوں کا خرچہ اٹھا رہی۔میرے ہسبنڈ سے جب پیسے مانگو وو یہی بولتے کہ میں بہت پریشان ہوں میرا خود کا گزارا نہیں ہوتا تجھے کیا بھیجوں۔انکے ایسے برتاؤ سے میں حد سے زیادہ تناؤ اور اذیت میں ہوں میرے ساس سسر نہیں ہیں اور میرے والدین بہت ضعیف ہیں ۔بھائی بہن اپنے گھر کے ہو گۓ۔میں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آتا۔
*سائلہ نرگس زوجہ نعیم احمد ممبرا،تھانے۔مہاراشٹرا انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
شوہر پر بیوی کے شرعی
حقوق ہیں جن میں مہر نفقہ اوررہائش شامل ہے اورکچھ حقوق غیر مالی ہیں جن میں اچھے اوراحسن انداز میں بود باش اورمعاشرت کرنا ، بیوی کوتکلیف نہ دینا ہے۔
اگر مذکورہ حقوق شوہر ادا نہیں کرتے تو پہلے نصیحت کریں اگر مان لے فبہا ورنہ طلاق یا خلع شرعا لے سکتی ہیں۔
بیو ی کے حقوق
قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں عورتوں کے حقوق بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، شوہر پر عورت کے حقوق ادا کرنا بہت ضروری ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ [النساء: 19]
ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔
حدیث مبارک میں ہے
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخياركم خياركم لنسائهم» . رواه الترمذي(مشکاة المصابیح، 2/282، باب عشرة النساء، ط: قدیمي)
ترجمہ: رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو، اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔
ایک اور حدیث مبارک میں ہے
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي".
(مشکاة المصابیح، 2/281، باب عشرة النساء، ط: قدیمي)
ترجمہ:رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی، بچوں، اقرباء اور خدمت گزاروں) کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔
ایک اور حدیث مبارک میں ہے
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لايفرك مؤمن مؤمنةً إن كره منها خلقاً رضي منها آخر. رواه مسلم"(مشکاة المصابیح، 2/280، باب عشرة النساء، ط: قدیمي)
ترجمہ: رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی نظر میں اس عورت کی کوئی خصلت وعادت ناپسندیدہ ہوگی تو کوئی دوسری خصلت وعادت پسندیدہ بھی ہوگی۔۔
حاصل کلام یہ ہے کہ چونکہ اپ کے بچے بھی ہیں تو حالات حاضرہ کے پیش نظر آپ کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اپنا گھر بسانے کی کوشش کریں، اس لیے کہ بغیر شرعی عذر کے عورت کا خلع کا مطالبہ کرنا گناہ ہے، اور اس پر سخت وعید آئی ہے۔ لہٰذا آپ خاندان کے بزرگوں کو یا محلے کے بڑوں کے سامنے یہ مسائل رکھیں پھر وہ آپ کے شوہر کو سمجھائیں اور اس سے کوئی ضامن مانگیں جو کہ آئندہ آپ کی شکایا ت کے پیش نہ آنے کی ضمانت دے، اگر شوہر ایسا ضامن دے دے تو آپ کو اپنا گھر بسا لینا چاہیے، لیکن وہ اس پر راضی نہ ہو ، اور نہ مکمل خرچہ دیتا ہو اورآپ کے لیےموجودہ صورت میں گھر بسانا ممکن نہ ہو تو شوہر سے کسی طرح طلاق لے لیں، لیکن اگر شوہر طلاق دینے پر رضامند نہ ہو تو پھر اس کو کچھ مال وغیرہ دے کر یا مہر نہ لیا ہو تو اس کے عوض شوہر کی رضامندی سے خلع لے لیں، لیکن یہ ملحوظ رہے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر کورٹ کی یک طرفہ خلع نامہ جاری کرنے سے شرعاً خلع معتبر نہیں ہوتی، اور نکاح بدستور برقرار رہتا ہے۔
2226- حدثنا سليمان بن حرب ،ثنا حماد ، عن أيوب ، عن أبى قلابة ، عن أبى أسماء ، عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة"(سنن أبي داود (2/ 234)
فتاوی عالمگیریمیں ہے
اذا تشاق الزوجان و خافا ان لايقيما حدود الله فلا بأس بان تفتدي نفسها منه بمال يخلعهابه، فاذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة، ولزمها المال". (كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع، 1/ 519 ط:قديمي)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
02/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوا ئن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment