*اگر امام عصر کی نماز میں چوتھی رکعت کا قعدہ کیے بغیر پانچویں رکعت کیلئے کھڑا ہونے لگے؟*
*اگر امام عصر کی نماز میں چوتھی رکعت کا قعدہ کیے بغیر پانچویں رکعت کیلئے کھڑا ہونے لگے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللّٰه و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ امام عصر کی نماز میں چوتھی رکعت کا قعدہ کیے بغیر پانچویں رکعت کیلئے کھڑا ہونے گا تو پیچھے سے لقمہ مل گیا تھوڑا سا ہی کھڑا ہوا تھا کہ لقمہ ملنے پر بیٹھ گیا تو اب اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا یا نہیں ؟
اور یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ وہ کتنا کھڑا ہوتا تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوتا اور کتنا کھڑا نہ ہونے پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا ؟
*سائل: محمد ارسل عطاری ملتان ، پنجاب پاکستان*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
امام مکمل کھڑا ہو گیا تھا پھر لقمہ ملنے پر فورا ًبیٹھ گیا اور سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کی، تو یہ نماز درست طور پر ادا ہو گئی ۔ اس صورت میں سلام پھیرنے میں تاخیر کی وجہ سے صرف قیام کی بنا پر ہی سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے ۔
درِ مختار و نور الایضاح میں ہے:
واللفظ لنور الایضاح:”ان قعد الاخیر ثم قام عاد وسلم من غیر اعادۃ التشھد“یعنی اگر قعدہ اخیرہ کر لیا،پھر کھڑا ہوگیا،تو لوٹے اور تشہد کا اعادہ کئے بغیر سلام پھیرے۔(نور الایضاح، صفحہ 246، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بھولے سے کھڑا ہوجانے کی وجہ سے سلام میں تاخیر پائی گئی ، اس کی وجہ سے سجدۂ سہو ادا کرے۔اس کے متعلق منیۃ المصلی میں ہے:
لو قام الی الخامسۃ ساھیا یجب بمجرد القیام والقعود
یعنی اگر کوئی پانچویں رکعت کی طرف بھولے سے کھڑا ہوگیا ، تو صرف کھڑے ہوتے ہی سجدۂ سہو واجب ہوجائے گا۔(منیۃ المصلی مع حلبہ، ملتقطا، جلد2،صفحہ 440، مطبوعہ:بیروت)
منیۃ المصلی کی عبارت ”یجب بمجرد القیام“ کے تحت حلبی کبیری میں ہے:
”تاخیر الواجب وھو التشھد او السلام فی صورۃ القیام“
یعنی (یہاں سجدۂ سہو واجب ہونے کی وجہ)واجب میں تاخیر ہے اور وہ (قعدہ کئے بغیر) کھڑے ہونے کی صورت میں تشہد اور( قعدہ کرنے کے بعد) کھڑے ہونے کی صورت میں سلام ہے۔(حلبی کبیری، صفحہ 430،مطبوعہ:کراچی)
شخص اگر فرض نماز پڑھ رہا تھا اور چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے غلطی سے کھڑا ہوگیا تو جب تک وہ پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرلے قعدہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا ہو تو اب اس کے ساتھ چھٹی رکعت بھی ملادے اور آخر میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی، چار رکعت فرض اور دو نفل ہوجائے گی۔
اور اگر مذکورہ شخص نے چوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے واپس قعدہ میں آجائے، اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو اب اس کی فرض نماز باطل ہوگئی، اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
28/10/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment