*جنازے کے آگے چلنا کیسا ہے؟*
*جنازے کے آگے چلنا کیسا ہے؟*
.......................................
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ عظام اس مسلئے ذیل کے بارے مسلئے کے بارے میں کہ جنازے کے آگے چلنا کیسا ہے؟
حوالے کے ساتھ جواب دیں مہربانی ہو گی
*سائل شمشاد احمد مقام ڈگڈائ کپل وستو نیپال*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
مسئلہ مسئولہ میں جنازہ لے کر چلنے والوں کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے پیچھے چلیں،لیکن اگر کوئی شخص آگے چلے،تو بھی جائز ہے،لیکن اگرجنازےسےآگے اتنی دور ہوکہ اُسےسب سے جُدا شمار کیا جائےیاجنازے میں شریک تمام لوگ ہی جنازےسے آگے ہوں،تویہ مکروہِ تنزیہی ہے یعنی یہ جائز تو ہے لیکن شرعاًناپسندیدہ فعل ہےلہٰذااِس سے بچنا چاہیے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
الافضل للمشیع للجنازۃ المشی خلفھاویجوز امامھاالا ان یتباعد عنھا او یتقدم الکل فیکرہ‘‘
جنازہ کے ساتھ چلنے والے کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے چلےاور جنازے کے آگے چلنا بھی جائز ہے،مگر یہ کہ جنازےسےآگےدور چلنایا تمام لوگوں کاجنازے سے آگے چلنامکروہ ہے (فتاوی عالمگیری،ج1،ص178، مطبوعہ کراچی)
تنویرالابصار مع الدرمیں ہے:(لومشی امامھاجاز)۔(و)لکن(ان تباعد عنھا او تقدم الکل)او رکب امامھا(کرہ)‘‘
اگرکوئی جنازے کے آگے چلےتو بھی جائز ہے،لیکن اگروہ جنازے کےآگے دورچل رہاہو یاتمام لوگ ہی جنازےکے آگے چل رہے ہوں یا جنازے کے آگے سواری پر چلے تومکروہ ہے۔
(تنویر الابصارمع الدر،ج3،ص 162تا163، مطبوعہ پشاور)
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ اس کےتحت فرماتے ہیں:’’
الظاھر انھا تنزیھیۃ‘‘
ظاہر یہ ہے کہ اس کراہت سے مراد کراہتِ تنزیہی ہے۔ (ردالمحتار،ج3،ص163، مطبوعہ پشاور)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
30/10/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گرو پس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment