خواتین مخصوص ایام میں منزل پڑھ سکتی ھے علاج کی نیت سے وظیفے کی نیت سے
*خواتین مخصوص ایام میں منزل پڑھ سکتی ھے علاج کی نیت سے وظیفے کی نیت سے؟*
........................................
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و و شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
خواتین مخصوص ایام میں منزل پڑھ سکتی ھے علاج کی نیت سے وظیفے کی نیت سے
*سائلہ بنت عبدالرزاق عطاریہ حیدرآباد سند پاکستان*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
حَیض و نِفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر، یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں ۔
البتہ جو دعا والی آیات ہیں اسے وظیفہ میں بطور دعا اور بطور علاج پڑھ سکتی ہیں۔
اسی طرح معلمہ اور متعلمہ کو حَیض یا نِفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور پڑھے اور ہجے کرانے میں بھی کوئی حَرَج نہیں ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ
قرآنِ مجید کے علاوہ اَور تمام اذکار کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وُضو یا کُلّی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حَرَج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حَرَج نہیں ۔(ماخوذ بہارشریعت ح 2 ص 386 مکتبہ المدینہ)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
03/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو ج وائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment