*عورت کا غیر محرم مردوں کے ساتھ مل کر نوکری کرنا کیسا ہے؟*


*عورت کا غیر محرم مردوں کے ساتھ مل کر نوکری کرنا کیسا ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلامُ علیکم ورحمتہ اللّہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین 

اس مسئلہ کے بارے میں کہ 

عورت کا غیر محرم مردوں کے ساتھ مل کر نوکری کرنا اور میٹنگ اٹینڈ کرنا جہاں سب غیر محرم مرد ہوں یا پولیو مہم والی نوکری کرنا ایسی صورت حال میں اسلام اجازت دیتا ہے اور اس نوکری کا کرنا اور تنخواہ لینا حلال ہے یا حرام اسی طرح اسکولوں اور کالجوں میں بالغ لڑکیوں کو اکثر غیر مرد پڑھاتا ہے یا بالغ لڑکوں کو غیر عورت پڑھاتی ہے کیا اس طرح پڑھنا یا پڑھانا جائز ہے یا ناجائز قرآن وحدیث کی روشنی سے وضاحت فرمائیں 


*سائل محمد ضیاء المصطفیٰ قادری جھنگ صدر پاکستان؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

1) ضرورت مند خواتیں شرعی حدود میں رہ کر جاب کر سکتی ہیں ۔چاہے وہ تعلیمی جاب ہو یا دیگر جاب۔ بوقت ضرورت غیر محرم مرد سے بات کرنا پولیو مہم والی نوکری کرنا جائز ہے اس کی تنخواہ جائز اور حلال یے۔ 

2) بالغ لڑکیاں غیر محرم مرد سے اسکول اور کالج میں شرعی پردے کے ساتھ کلاس میں پڑھ سکتی ہیں جبکہ صرف لڑکیوں کا کالج و اسکول ہو یا ساتھ میں ہو ہر بیٹھنے جانے آنے کا انتظام الگ الگ ہوں اور کوئی فتنہ و فساد کا خدشہ نہ ہو اسی طرح بالغ لڑکوں کو خواتیں کلاس دے سکتی ہے جبکہ مدرسہ باپردہ ہوں۔ 

یاد رہے کہ صرف کلاس میں پڑھنا اور پڑھانا ہے بعد کلاس غیر ضروری بات کرنا جائز نہیں۔ 

عورت کا پردہ 

عورت کا سر کے بال، گلے گردن کلائی وغیرہ کا کوئی حصہ غیر محرم کے سامنے ظاہر کرنا یا ایسا باریک لباس پہن کر غیرمحرم کے سامنے آنا جس سےاِن اعضا کا کوئی حصہ چمکے یہ حرام ہے اور فی زمانہ فتنے کی وجہ سے

 چہر ے کا پردہ بھی لازم ہے۔


شریعتِ مطہرہ عورت کوپانچ شرائط کے ساتھ ملازمت کرنے کی اجازت دیتی ہے، اگر اِن پانچ شرائط میں سے ایک شرط بھی نہ پائی جائے، تو عورت کو نوکری کرنا ہرگز جائز نہیں۔ وہ شرائط یہ ہیں: (1)کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ سِتر کا کوئی حصّہ چمکے ۔

(2) کپڑے تنگ و چُست نہ ہوں جو بدن کی ہیئت کو ظاہر کریں ۔

(3) بالوں ، گلے ، پیٹ ، کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصّہ ظاہر نہ ہوتا ہو ۔

(4) کبھی نامحرم کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے بھی تنہائی نہ ہو تی ہو۔

 (5) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں فتنے کا خوف نہ ہو۔

عورت کے لیے ملازمت جائز ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

یہاں پانچ شرطیں ہیں:

(۱) کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔۔(۲) کپڑے تنگ وچست نہ ہو جو بدن کی ہیأت ظاہر کریں۔(۳) بالوں یا گلے یا پیٹ یاکلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہرنہ ہو۔

(۴) کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔(۵) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں، تو حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو (عورت کانوکری کرنا) حرام۔( فتاوی رضویہ ،جلد 22،صفحہ 248،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

28/10/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز  گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟