اگر بیوی شوہر اور سسر کو بے عزت کرے تو شرعا کیا حکم ہے؟*
*اگر بیوی شوہر اور سسر کو بے عزت کرے تو شرعا کیا حکم ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بخدمت جناب مفتی صاحب -نائب معجل پونچھ سدھنوتی ذیلی اندراجات نکاح تحصیل پلندری ضلع سدھنوتی جناب عالی سائل کو ایک معاملہ پر تحریری فتوی درکار ہے زید کی منکوحہ جو کہ مکمل حافظ قرآن اور تعلیمی یافتہ خاتون ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے کا اپنے شوہر سے رویہ انتہائی درشت ہے اور وہ اکثر اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر شوہر سے الجھتے ہوئے اپنی گفتگو میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتی رہی ہے اور یہاں تک کہ اسے کتے کا بچہ وغیرہ جیسی لغویات بکتی رہی تاہم مذکور اور اس کے اہل خانہ نے بچوں اور دیگر معاشرتی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیا البتہ حالیہ دنوں میں اس نے اچانک بکر کے ساتھ جو کہ زید کی والدہ ہے کسی چھوٹی بات پر الجھتے ہوئے انتہا کر دی اور اس کے چہرے اور دانتوں کو نجس چیزوں سے تشبع دی اور مزید گویا ہوئی کہ تمہارے آباؤ اجداد اور تم اور تمہارا خاندان سب کتے کی اولاد ہو چنانچہ اب حالات بالا کو دیکھتے ہوئے مناسب فیصلہ ناگزیر ہے سو لہذا اس ضمن میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں زید اور اس کی منکوحہ کے لیے کیا حکم شرع ہو گا کتاب و سنت کی روشنی میں مفصل تحریری فتوی عنایت فرمایا جانا اور معاملہ ہذا کا ازالہ کیا جانا قرین انصاف اور قانون ہے جس پر سائل اور دیگر اہل خانہ جناب کے لیے دعا گو رہیں گے۔ والسلام
*سائل رمیز اکرم آزاد کشمیر انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
ہندہ سسر اور شوہر سے معافی مانگے اور شرعی اصول سے شوہر کی عزت و تعظیم کرے ساتھ ہی سسر باب داخل یے اپنے باپ کاسا سلوک کرے ۔
شوہر کا حقوق اسے بتایا جائے۔
بیوی کی سعادت ونیک بختی اس میں ہے کہ وہ شوہر اور اس کے والدین کی ہرطرح کی خدمت بجالائے نیزاگر کبھی شوہر کسی خدمت کا حکم دے تو اس صورت میں بیوی پر اس کی تعمیل واجب ہوجاتی ہے ۔شوہرکی خدمت ،تابعداری اوراطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمارارشادات موجودہیں،چناں چہ ایک حدیث میں ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:اگرمیں کسی کویہ حکم کرتاکہ وہ کسی (غیراللہ) کو سجدہ کرے تومیں یقیناً عورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوند کر سجدہ کرے۔"
مطلب یہ ہے کہ رب معبودکے علاوہ اورکسی کوسجدہ کرنادرست نہیں ہے اگرکسی غیراللہ کوسجدہ کرنادرست ہوتاتومیں عورت کوحکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندکوسجدہ کرے کیوں کہ بیوی پراس کے خاوندکے بہت زیادہ حقوق ہیں جن کی ادائیگی شکرسے وہ عاجزہے،گویااس ارشاد گرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکیدکوبیان کیاگیاہے کہ بیوی پراپنے شوہرکی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔"
نیزشوہروں کوبھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدکی گئی ہے،چناںچہ ایک روایت میں ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ :رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'تم میں بہترین شخص وہ ہے جواپنے اہل(بیوی،بچوں،اقرباء اورخدمت گاروں) کے حق میں بہترین ہو،اورمیں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔"
اس مسئلہ میں اعتدال کی ضرورت ہے،نہ یہ درست ہے کہ تمام ذمہ داریاں بیوی پرڈال دی جائیں اورنہ کہ بیوی اپنے ضرورت مند شوہر یاساس، سسرکی خدمت سے بھی دامن کش ہوجائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اورحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہماکے نکاح کے بعد کام کی تقسیم اس طرح فرمائی تھی کہ باہرکاکام اورذمہ داریاں حضرت علی رضی اللہ عنہ انجام دیں گے اور گھریلو کام کاج اورذمہ داریاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکے سپردہوں گی۔جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اس ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں تودوسری خواتین کے لیے کیوں کراس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
05/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment