*کیا بعض کبار فقہاء احناف کے نزدیک بھی حضرت ابوطالب مومن ہیں؟*
*کیا بعض کبار فقہاء احناف کے نزدیک بھی حضرت ابوطالب مومن ہیں؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا یہ باتیں درست ہیں ان کا کیا جواب دیا جائے گا علماء اہل سنت کی جانب سے ہم آپ کو اب تین علماٰء اہلسنت کے نام پیش کرتے ہیں جو بریلویوں کے نزدیک بہت محترم ہے اور انہوں نے حضرت ابو طالب کو مسلمان سمجھتے۔ .؟
1، علامہ یوسف النبھانی نے پورا ایک قصیدہ حضرت ابو طالب کی شان میں لکھا تھا۔ اور اس میں ایک شعر یہ بھی کہا:
وَمَضى راشِداً وقد أسمع العباس قَولاً به يكون النجاءُ
حضرت ابو طالب اس رشد کے ساتھ وفات پائے کہ حضرت عباس بن ابی طالب نے ان کی نجات پر مشتمل کلام سنا۔
افادہ عام کے لئے ہم وہ پورا قصیدہ نقل کررہے رہیں ہیں۔
(حوالہ: طیب الغراء، ص 32-34، طبع بیروت)
2، مفتی حرم علامہ احمد بن زینی دحلان نے پوری ایک کتاب اس موضوع پر لکھی جس کا نام ہی 'اسنی المطالب فی نجاتہ ابی طالب' قرار دیا۔
ہم قارئین کے لئے اس کا مخطوطہ اور اردن سے چھپنے والا جدید نسخہ کا سرورق لگارہے ہیں۔
3، علامہ بزرنجی نے بھی ایمان ابی طالب،کا اثبات کیا ہے۔ (حوالہ: اسنی المطالب، ص 32، طبع اردن۔)
*سائل: ساحل رضا برکاتی احمدآباد گجرات انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
ایمان ابی طالب مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ اگر کوئی مومن کہے تو بھی کوئی حرج نہیں اگر کوئی غیر مومن کیے جب بھی کوئی گرفت نہیں۔
مذاہب اربعہ کے معروف علماء فقہاء مفسرین اور جمہور اہل سنت کا یہ موقف ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں ہے۔
البتہ اقا علیہ السلام کی
کی بڑی خواہش تھی کہ ابو طالب ایمان لے آئے۔ لیکن تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہا۔ یہ بہت نازک مقام ہے جو لوگ اس مسئلہ میں شدت کرتے ہیں اور ابو طالب کی ابو لہب اور ابو جہل کی طرح مذمت کرتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل آزاری کے خطرہ میں ہیں۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کی دل آزاری سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ہم اس بحث میں صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں ہے اور یہ چیز ہم پر بھی اتنی ہی گراں اور باعث رنج ہے جتنی اہل بیت کے لیے ہے۔ اس سے زیادہ ہم اس بحث میں نہ کچھ لکھنا چاہتے ہیں اور نہ اس مسئلہ کی باریکیوں میں الجھنا چاہتے ہیں۔ بعض علماء اہل سنت نے ابو طالب کے ایمان کو ثابت کیا ہے۔ ہرچند کہ یہ رائے تحقیق اورجمہور کے موقف کے خلاف ہے لیکن ان کی نیت محبت اہل بیت ہے ‘ اس لیے ان پر طعن نہیں کرنا چاہیے۔( تفسیر تبیان القران سورہ انعام 26)
فتاوی رضویہ میں ہے
اس میں شک نہیں کہ ابو طالب تمام عمر حضور سیّد المرسَلین، سیّد الاَوّلین والآخِرین سیّد الاَبرار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِلٰی یَوْمِ الْقرار کی حفظ و حمایت و کفالت و نصرت میں مصروف رہے۔ اپنی اولاد سے زیادہ حضور کو عزیز رکھا اور اس وقت میں ساتھ دیا کہ ایک عالَم حضور کا دشمن ِجاں ہوگیا تھا اور حضور کی محبت میں اپنے تمام عزیزوں قریبیوں سے مخالفت گوارا کی، سب کو چھوڑ دینا قبول کیا، کوئی دقیقہ غمگساری و جاں نثاری کا نامَرعی نہ رکھا (یعنی ہر لمحے غمگساری اور جاں نثاری کی) اور یقیناً جانتے تھے کہ حضور افضل المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللہ کے سچے رسول ہیں، ان پر ایمان لانے میں جنت اَبدی اور تکذیب میں جہنم دائمی ہے، بنو ہاشم کو مرتے وقت وصیت کی کہ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تصدیق کرو فلاح پاؤ گے، نعت شریف میں قصائدان سے منقول، اور اُن میں براہِ فراست وہ اُمور ذکر کیے کہ اس وقت تک واقع نہ ہوئے تھے (بلکہ) بعد ِ بعثت شریف ان کا ظہور ہوا، یہ سب احوال مطالعۂ اَحادیث و مُراجعت ِکتب ِسِیَر (یعنی سیرت کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے ) سے ظاہر۔مگر مُجَرَّداِن اُمور سے ایمان ثابت نہیں ہوتا۔ کاش یہ افعال و اقوال اُن سے حالت ِاسلام میں صادر ہوتے تو سیدنا عباس بلکہ ظاہراً سیدنا حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی افضل قرار پاتے اور افضل الاَعمام حضور افضل الاَنام عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالسَّلَام (یعنی تمام انسانوں سے افضل حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سب سے افضل چچا) کہلائے جاتے۔ تقدیر ِالہٰی نے بربنا اُس حکمت کے جسے وہ جانے یا اُس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، انہیں گروہِ مسلمین و غلامانِ شفیع المذنبین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ میں شمار کیا جانا منظور نہ فرمایا۔ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ۔ (تو اے عقل رکھنے والو! ان کے حال سے عبرت حاصل کرو) صرف معرفت گو کیسی ہی کمال کے ساتھ ہو ایمان نہیں۔
(فتاویٰ رضویہ، رسالہ: شرح المطالب فی مبحث ابی طالب، ۲۹ / ۶۶۱)
مزید فرماتے ہیں
آیاتِ قرآنیہ و اَحادیثِ صحیحہ، مُتوافرہ ، مُتظافرہ (یعنی بکثرت صحیح احادیث) سے ابو طالب کا کفر پر مرنا اور دمِ واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کار اصحابِ نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں۔ ( فتاویٰ رضویہ،رسالہ: شرح المطالب فی مبحث ابی طالب، ۲۹۔ / ۶۵۷-۶۵۸)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
28/10/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment