اولاد کی ماں باپ کی قسم کھانا کیسا ھے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ اس دور میں جو قسمیں لوگ کھاتے ہیں کہ سر کی قسم،ان کی قسم، ان کی قسم تو کیا شریعت میں بیٹے کی قسم ماں کی قسم باپ کی قسم اس طرح کی قسم کھانا جائز ہے یا نہیں؟اور کیا اس کے توڑنے پر کفارہ ہے یا نہیں؟برائے کرم مدلل جواب سے نوازیں سائل، محمد جعفر صادق دنیا بہار
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب بعون الملک الوھاب ،اللہ تعالی کے نام اور اس کی صفات علاوہ آباء و اجداد اور اولاد وغیرہ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے اور نہ یہ قسمیں شرعا قسم ہیں، کہ ان کے توڑنے پر کوئی کفارہ لازم ہو، ہاں اس طرح کی قسم کھانے والے پر توبہ و استغفار لازم ہے، صحیح البخاری میں ہے : عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أدرك عمر بن الخطاب وهو يسير في ركب يحلف بأبيه فقال، ألا إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، من كان حالفا فليحلف بالله، أو ليصمت،
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اس وقت وہ سواروں کے ساتھ چل رہے تھے، اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبردار بے شک اللہ تعالی تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ جس شخص کو قسم کھانا ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے، 
(صحیح البخاري کتاب الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم، حديث ٦٦٤٦)
بدائع الصنائع میں ہے :
اما اليمين بغير اللہ..وهو اليمين بالآباء والابناء و الانبياء والملائكةصلوات اللہ عليهم والصوم و الصلاة وسائر الشرائع و الكعبة والحرم وزمزم والقبر والمنبر ونحو ذلك،ولا يجوز الحلف بشيء من ذلك لما ذكرنا.. ولو حلف بذلك لا يعتد به ولا حكم له اصلا،
رہی غیر اللہ کی قسم اور وہ باپ، بیٹوں، انبیاء اورفرشتوں(علیہم الصلوٰۃ والسلام) روزے، نماز اور دیگر دینی احکام، کعبہ ،حرم، زمزم، قبر،منبر اور اس کی مثل دیگر اشیاء کی قسم کھانا ہےاوران میں سے کسی بھی چیز کی قسم کھانا،جائز نہیں، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کی، اور اگر کسی نے اس طرح کی قسم کھا لی تو وہ قسم شمار نہیں ہوگی اور نہ اس قسم کا اصلاً کوئی حکم یعنی کفارہ ہے، 
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع کتاب الایمان،فصل فی الیمین بغیر اللہ عزوجل، جلد ٣ صفحہ ٢١،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
بہار شریعت میں ہے :
غیر خدا کی قسم قسم نہیں مثلاً تمھاری قسم، اپنی قسم، تمھاری جان کی قسم، اپنی جان کی  قسم، تمھارے سرکی  قسم، اپنے سرکی  قسم، آنکھوں  کی  قسم، جوانی کی  قسم، ماں  باپ کی  قسم، اولادکی  قسم، مذہب کی  قسم، دین کی  قسم، علم کی  قسم، کعبہ کی  قسم، عرش الٰہی کی  قسم،  رسول اللہ   کی  قسم، 
(بہارشریعت جلد دوم حصہ ٩ صفحہ ٣٠٥،قسم کا بیان)
والله تعالى اعلم بالحق والصواب 
محمد اقبال رضا خان مصباحی 
سنی سینٹر بھنڈار شاہ مسجد پونہ 
٤،جمادی الاولی ١٤٤٦ھ/٧،نومبر ٢٠٢٤ء بروز جمعرات

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟