شدید غصے میں ایک ساتھ 3 طلاق دینا؟
*شدید غصے میں ایک ساتھ 3 طلاق دینا؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک شخص جس کا بیٹا دفعہ تین سو دو میں جیل کاٹ رہا ہو اور اور بیٹی نے بھی اپنے من کی شادی کی ہو اور ایسا شخص شدید حالت غصہ میں اپنی بیگم کو ایک ہی لفظ سے تین طلاق کہہ دے مثلا کہہ دے کہ تو مجھ پر تین طلاق سے حرام ہے ایا ایسے شخص کی طلاق واقع ہوگی یا نہیں اور دوسرا شدید غصے کی حالت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ خیرا
*سائل محمد ذوالفقار آزاد کشمیر پاکستان*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
مسئلہ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ سے 3 طلاقیں مغلظہ واقع ہوگئی۔ چونکہ طلاق عموماً غصہ کی ہی حالت میں دی جاتی ہے اور غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق شرعاً واقع ہوجاتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے تو تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ،بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے اور رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے، عدت گزرنے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوگی۔
لہذااگر واقعتاً شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور ہندہ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہیں،شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔
البتہ اگر کوئی عورت تین طلاقوں کے بعد عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرلے اور دوسرا شوہر بیوی کے حقوق ادا کرنے کے بعد از خود طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے اور اس کی عدت گزر جائے تو پہلے شوہر سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کی اجازت ہوگی۔
قرآنِ مجید میں ہے
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [البقرة: 230]
ترجمہ:اگر بیوی کو (تیسری) طلاق دے دی تو جب تک وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔
ہندیہ میں ہے
وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية".
(الفتاوی الهندیة، ج:3، ص: 473، ط: ماجدية)
بدائع الصنائع میں ہے
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضًا حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ج:3، ص: 187،)
البحر الرائق میں ہے
(قوله: ومبدأ العدة بعد الطلاق والموت) یعنی ابتداء عدة الطلاق من وقته ... سواء علمت بالطلاق والموت أو لم تعلم حتى لو لم تعلق ومضت مدة العدة فقد انقضت؛ لأن سبب وجوبها الطلاق ... فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب، كذا في الهداية".
(البحر الرائق، ج4،ص:144)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
04/11/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو ج وائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment