نامحرم کا ہاتھ لگ جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

 السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

علمائے کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ کیا نامحرم کا ہاتھ لگ جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟رہنمائی فرمائیں

سائل : محمد نعمان خان حنفی بریلوی، ممبئی

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب ،نا محرم کا ہاتھ لگ جانے سے احناف کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا ہے ، لیکن اس میں چونکہ فقہائے کرام کا اختلاف ہے اس لیے اختلاف سے بچنے کے لیے دوبارہ وضو کرلینا مستحب ہے بالخصوص امام کو،مراقی الفلاح میں ہے :ﻭ ﻣﻨﻬﺎ ﻣﺲ اﻣﺮﺃﺓ ﻏﻴﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﻟﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﻦ اﻷﺭﺑﻌﺔ ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﺎ ﻛﺎﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﺒﻞ ﺑﻌﺾ ﺃﺯﻭاﺟﻪ ﺛﻢ ﻳﺼﻠﻲ ﻭﻻ ﻳﺘﻮﺿﺄ ﻭاﻟﻠﻤﺲ ﻓﻲ اﻵﻳﺔ اﻟﻤﺮاﺩ ﺑﻪ اﻟﺠﻤﺎﻉ ،وضو نہ توڑنے والی چیزوں میں سے نامحرم عورت کو چھونا ہے اس حدیث کی وجہ سے جو سنن اربعہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے تھے پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں فرماتے تھے، اور قرآن کی آیت میں جو لمس کا لفظ آیا ہے اس سے جماع مراد ہے،

(مراقی الفلاح شرح نور الایضاح کتاب الطھارۃ باب فی الوضوء فصل عشرۃ اشیاء لا تنقض الوضو جلد ١ صفحہ ٤١،المکتبۃ العصریۃ)

البحر الرائق میں ہے :

ﻣﺲ ﺑﺸﺮﺓ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﻻ ﻳﻨﻘﺾ اﻟﻮﺿﻮء ﻣﻄﻠﻘﺎ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﺑﺸﻬﻮﺓ ﺃﻭ ﻻ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻳﻨﺘﻘﺾ ﻭﺿﻮء اللامس ﻣﻄﻠﻘﺎ ﻛﺎﻥ ﺑﺸﻬﻮﺓ ﻭﻗﺼﺪ ﺃﻭ ﻻ،

عورت کی جلد کو چھونے سے مطلقا وضو نہیں ٹوٹتا ہے چھونا چاہے شہوت کے ساتھ ہو یا بلا شہوت، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا چھونے والے کا وضو مطلقا ٹوٹ جائے گا چاہے شہوت و قصد سے چھوئے یا بلا شہوت و قصد،

(البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء، جلد ١ صفحہ ٤٧، دار الکتاب الاسلامی)

درمختار میں ہے :

ﻻ ﻳﻨﻘﻀﻪ ﻣﺲ ﺫﻛﺮ ﻭ اﻣﺮﺃﺓ ﻭﺃﻣﺮﺩ، ﻟﻜﻦ ﻳﻨﺪﺏ ﻟﻠﺨﺮﻭﺝ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻑ ﻻ ﺳﻴﻤﺎ للامام ﻟﻜﻦ ﺑﺸﺮﻁ ﻋﺪﻡ ﻟﺰﻭﻡ اﺭﺗﻜﺎﺏ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻣﺬﻫﺒﻪ،(مختصرا) 

مرد کے عضو تناسل اور عورت اور امرد کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے لیکن اختلاف سے بچنے کے لیے وضو کرلینا مستحب ہے بالخصوص امام کے لیے، بشرطیکہ اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب لازم نہ آتا ہو، 

(درمختار کتاب الطھارۃ باب الوضوء ،سنن الوضوء جلد ١ صفحہ ١٤٧،دار الفکر بیروت)

والله تعالى اعلم بالحق والصواب 

محمد اقبال رضا خان مصباحی 

سنی سینٹر بھنڈار شاہ مسجد پونہ وجامعہ قادریہ کونڈوا پونہ 

١٢،ربیع الآخر ١٤٤٦ھ /١٦،اکت وبر ٢٠٢٤ء بروز بدھ

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟