*کیا جنازہ کی نماز کے بعد میت کا چہرا کسی کو نہیں دکھایا جا سکتا ہے؟*


*کیا جنازہ کی نماز کے بعد میت کا چہرا کسی کو نہیں دکھایا جا سکتا ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ کے بارے میں

زید کہتا ہے جنازہ کی نماز کے بعد میت کا چہرا کسی کو نہیں دکھایا جا سکتا 

بکر کہتا ہے کہ چہرا دکھایا جا سکتا ہے کوئی حرج نہیں 

اس بارے میں کیا حکم شرع ہے رہنمائی فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط سلام


*سائل محمد فرمان ملک رامپور یو پی انڈیا*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

زید غلط ہے اپنے قول سے رجوع کرے غلط مسئلہ بدون علم نہ بتائیں۔ 

نماز جنازہ پڑھنےسے پہلے اور بعد، میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ میت کا چہرہ دیکھنے دکھانے کے معاملات میں اس کی تدفین میں دیر نہ ہو کہ شریعت مطہرہ میں میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، اور بلاضرورت تاخیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ ج3،ص78، فتاویٰ فیض الرسول،ج 3،ص415)


حاصل کلام یہ ہے کہ البتہ میت کا چہرہ دیکھنے اور دکھانے کے لیے نماز جنازہ یا تدفین میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے

(قوله: ويسرع في جهازه)؛ لما رواه أبو داود «عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف، قال: ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه، وعجلوا به؛ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله». والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة؛ فإنه يحتمل الإغماء"(2/ 193)

میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کی جائے ، اس حدیث کی بنا پر جوا بو داوٗد نے روایت کی ہے کہ جب آں حضورﷺ طلحہ بن براء رضی ﷲ عنہ کی عیادت کر کے واپس لوٹے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ ان میں موت سرایت کر چکی ہے ، جب ان کا انتقال ہوجائے تو مجھے خبر کر نا؛ تاکہ میں ان کی نماز پڑھاؤں اور ان کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرو ، اس لیے کہ مسلمان کی نعش کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس کو اس کے گھر والوں کے درمیان روکا جائے"۔ اور میت پر موت کا اثر ظاہر ہوتے ہی فوراً تدفین اس لیے واجب نہیں کی گئی کہ کہیں یہ بے ہوشی نہ ہو، یعنی جب موت کا اطمینان ہوجائے تو پھر تدفین میں جلدی لازم ہوگی۔


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*

16/10/2024

+966534976522


*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*


*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*


*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن  کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟