نماز میں ہلنا کیسا یے؟
*نماز میں ہلنا کیسا یے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمةاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
نماز میں کتنا ہلنا مکروہ ہے تحریمی ہو جاتا ہے اور کتنا تنزیہی ہو جاتا ہے اور اٹھتے وقت کس پیر پر جوڑ دے کر اٹھنا ہے اور بیٹھتے وقت کس پیر پر جوڑ دے کے بیٹھنا ہے؟
*سائل محمد معروف رضا لکھنؤ انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
نماز میں بلاوجہ شرعی دائیں بائیں جھومنا مکروہ تنزیہی ہے،اس سے بچنا چاہئے، لیکن اس کے باوجود نماز ہوجائے گی۔ ہاں تراوُح یعنی کبھی ایک پا ؤں پر زور دینا اور کبھی دوسرے پر،یہ سنت ہے۔
اگر اتنا ہلا کہ لوگ سمجھیں یہ نماز میں نہیں ہے پھر مکروہ تحریمی ہے اور یہ عمل کثیر یے ۔
ارشاد خداوندی ہے
وقوموا للہ قانتین یعنی اللہ کے سامنے ادب سے کھڑے رہو اور ارشاد خداوندی ہے قد أفلح الموٴمنون الذین ہم فی صلاتہم خاشعون
اس آیت کے تحت مفسر فرماتے ہیں کہ خشوع کے لغوی معنی سکون کے ہیں اصطلاح شرع میں خشوع یہ ہے کہ قلب میں بھی سکون ہو یعنی غیر اللہ کے خیال کو قلب میں بالقصد حاضر نہ کرے اور اعضائے بدن میں بھی سکون ہو کہ عبث اور فضول حرکتیں نہ کرے۔
بہار شریعت میں ہے
عمل کثیر کہ نہ اعمال نماز سے ہو نہ نماز کی اصلاح کے لیے کیا گیا ہو، نماز فاسد کر دیتا ہے، عمل قلیل مفسد نہیں،جس کام کے کرنے والے کو دور سے دیکھ کر اس کے نماز میں نہ ہونے کا شک نہ رہے، بلکہ گمان غالب ہو کہ نماز میں نہیں تو وہ عمل کثیر ہے اور اگر دور سے دیکھنے والے کو شبہہ و شک ہو کہ نماز میں ہے یا نہیں ، تو عمل قلیل ہے۔(بہار شریعت،جلد 1،حصہ 3،نماز فاسد کرنے والی چیزوں کا بیان،صفحہ 609،مکتبہ المدینہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے
ويكره التمايل على يمناه مرة وعلى يسراه أخرى. كذا في الذخيرة“
نماز میں دائیں طرف اور پھر بائیں طرف جھکنا مکروہ ہے ،جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(فتاوی ہندیۃ،کتاب الصلاۃ،فصل فیما یکرہ فی الصلاۃ۔۔الخ،ج 1،ص 108،دار الفکر،بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے
قوله:" ويكره التمايل على يمناه مرة وعلى يسراه أخرى۔۔۔":أي بتوال وتواتر كما هو عادة اليهود وقد نهى عنہ النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وأما التراوح بين القدمين وهو أن يكون إعتماده ساعة على اليمنى أكثر وأخرى على اليسرى فهذا من السنة حققه العلامة ابن أمير الحاج “ترجمہ:(ہندیہ کا قول کہ نماز میں دائیں طرف پھر بائیں طرف جھکنا مکروہ ہے ) اس سے مرادہے کہ پے در پے لگاتار دائیں بائیں جھکنا (یعنی جھومنا) مکروہ ہے جیسا کہ یہود کی عادت ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اور بہرحال دونوں قدموں کے مابین تراوح یعنی اکثر دائیں قدم پر زور دے کر ایک گھڑی جھکے رہنا اورکبھی بائیں قدم پر تو یہ سنت ہے ، علامہ ابن امیر الحاج نے اس کی تحقیق کی ہے۔(التعلیقات الرضویۃ علی الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلاۃ،فصل فیما یکرہ فی الصلاۃ ،ص 40،مکتبہ اشاعۃ الاسلام ،لاہور)
بہار شریعت میں ہے
داہنے بائیں جھومنا مکروہ ہے اور تراوح یعنی کبھی ایک پاؤں پر زور دیا کبھی دوسرے پر یہ سُنّت ہے۔"(بہار شریعت،ج 1،حصہ 3،ص 634،مکتبۃ المدینہ)
اگر کوئی شخص بوڑھا، کمزور، یا بیمار ہے تو اس کے لیے زمین پر ہاتھوں کو ٹیک لگاکر اٹھنے کی اجازت ہے، اور جو شخص تندرست ہے یا جوان ہے اسے چاہیے کہ اپنے دونوں گھٹنوں کو پکڑکر سجدہ سے اٹھے۔ اگر تندرست نے ایسا کیا کہ زمین پر ٹیک لگاکر کھڑا ہوا تو یہ خلافِ اولیٰ ہے البتہ نماز صحیح ہوجائے گی، کوئی خلل واقع نہ ہوا۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
*كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال*
10/10/2024
+966534976522
*نوٹ/ شرعی سوال و جواب کے لئے بھائی ۔۔۔البرکاتی علماء فاونڈیشن گروپ*
*اور بہنیں فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب گروپ ایڈمین عالمہ فاضلہ مفتیہ ثمرہ فاطمہ قادریہ رضویہ*
*اور ان لائن کورسیز کے لئے فیضان سیدہ عائشہ آن لائن اکیڈمی کورسیسز گروپس کو جوائن کرنے کے لیے ۔رابطہ کریں*
Comments
Post a Comment