رد اور عورت کا کفن کتنا اور کیا ھونا چاہیے

 *سوال نمبر 554*


*مرد اور عورت کا سنت کے مطابق کیا کیا اور کتنا کفن ہونا چاہئیے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

مرد اور عورت کا سنت کے مطابق کیا کیا اور کتنا کفن ہونا چاہئیے؟ 

شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا 


*سائلہ رضوانہ فاطمہ کانپور انڈیا*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم 

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 


اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مذکورہ صورت میں مرد کے کفن کے لئے 3 کپڑے سنت ہیں 1 تہبند 2۔ قمیص 3۔ لفافہ 

اور عورت کے کفن کے لئے پانچ کپڑے سنت ہیں 1۔ قمیص 2۔تہبند 3۔ اوڑھنی 4۔ لفافہ 5۔ سینہ بند

1۔ لفافہ کی لمبائی یہ ہے کہ میت کے قد سے اتنی زیادہ ہو کہ دونوں طرف باندھ سکیں‘ 

2۔ اور تہبند کی لمبائی یہ ہے کہ چوٹی سے قدم تک ہو 

3۔ قمیص کی لمبائی یہ ہے کہ گردن سے گھٹنوں کے نیچے تک ہو اور آگے اور پیچھے دونوں برابر ہوں چاک اور آستین اس میں نہ ہوں اور مرد کی قمیص کو مونڈھے پر چیریں اور عورت کے سینہ کی طرف سے 

4۔ اوڑھنی نصف پشت سے سینہ تک ہونا چاہئے جس کا اندازہ تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز ہے‘ اور چوڑائی ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک 

5۔ سینہ بند پستان سے لیکر ناف تک اور بہتر یہ ہے کہ ران تک ہو


فتاوی فیض الرسول میں ہے 

مرد کے لئے سنت تین کپڑے ہیں

 جیسا کہ عالمگیری میں ہے کفن الرجل سنۃ ازار وقمیص ولفافۃ 

یعنی مرد کا کفن سنت تہبند، قمیص اور لفافہ ہے‘ اور عورت کے پانچ کپڑے ہیں

درع وازار و خمار ولفافۃ وخرقۃ تربط بھا ثدیاھا

 یعنی قمیص، تہبند، اوڑھنی، لفافہ اور سینہ بند‘ 

لفافہ یعنی چادر کی مقدار یہ ہے کہ میت کے قدسے اس قدر زیادہ ہو کہ دونوں طرف باندھ سکیں‘ اور تہبند چوٹی سے قدم تک ہونا چاہئے یعنی لفافہ سے اتنا چھوٹا جو بندش کے لئے زیادہ تھا 

چنانچہ عالمگیری جلد اوّل مصری ص ۱۵۰ اور ہدایہ جلد اوّل ص ۱۳۷ میں ہے

 والاز ارمن القرن الی القدم یعنی تہبند کی مقدار چوٹی سے قدم تک ہے‘ اور قمیص جس کو کفنی کہتے ہیں گردن سے گھٹنوں کے نیچے تک اور یہ آگے اور پیچھے دونوں برابر ہوں اور بعض لوگ پیچھے کم رکھتے ہیں یہ غلطی ہے۔ چاک اور آستین اس میں نہ ہوں اور مرد کی کفنی مونڈھے پر چیریں اور عورت کے سینہ کی طرف‘ اور اوڑھنی نصف پشت سے سینہ تک ہونا چاہئے جس کا اندازہ تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز ہے‘ اور عرض ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اور جو لوگ زندگی طرح اوڑھنی رکھتے ہیں یہ بے جا اور خلاف سنت ہے‘ اور سینہ بند پستان سے ناف تک اور بہتر یہ ہے کہ ران تک ہو

 عالمگیری میں ہے

والاولٰی ان تکون الخرقۃ من الثدیین الی الفخذ کذا فی الجوھرۃ النیرہ۔ 

یعنی بہتر یہ ہے کہ سینہ بند پستان سے ران تک ہو جوہرہ نیرہ میں اسی طرح ہے۔

(فتاوی فیض الرسول جلد اول ص 402)


وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم


*کتبتہ کنیز گلزار ملت قادری شہر کانپور فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب*

۱۹/۸/۲۰۲۴

*تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی و جواب ضلع سرہا نیپال*

۲۰/۸/۲۰۲۴

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟