*غیر سید کو اپنے نام کے آگے سید لکھنا کیسا ہے؟
*سوال نمبر 576*
*غیر سید کو اپنے نام کے آگے سید لکھنا کیسا ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
آج کل اکثر و بیشتر لوگ اپنے نام کے آگے سید لکھتے ہیں؟
کیا غیر سید کو اپنے نام کے آگے سید لکھنا شرعا جائز ہے؟
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا
*سائل محمد عبید رضا کانپور انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں جو شخص سید نہ ہو اسے اپنے نام کے آگے بطور نسب سید لکھنا جائز نہیں لکھنے والا سخت عاصی و مستحق عذاب نار ہے
اور سید حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولادوں کو کہا جاتا ہے لہذا ان کی اور
اولادوں کے علاؤہ کے لوگوں کو اپنے نام کے آگے سید لکھنا ہرگز جائز نہ ہوگا
حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنے نسب کو اپنے والد کے علاؤہ کی طرح منسوب کرے ایسے شخص پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوتی ہے مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ ہی نفل ۔
فتاوی فیض الرسول میں ہے
حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد کو سیّد کہتے ہیں۔
(فتاویٰ رضویہ) لہٰذا جو لوگ سیّد نہیں ہیں اور اپنے آپ کو سیّد کہتے اور لکھتے ہیں وہ لوگ سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہیں۔ ان پر خداتعالیٰ کی، سب فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے جیسا کہ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے حدیث مروی ہے کہ سرکار اقدس نے فرمایا کہ جو شخص اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے اس پر اللہ تعالیٰ کی، سب فرشتوں کی
اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ خداتعالیٰ قیامت کے دن نہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ نفل۔
(بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی وغیرہ)
(فتاوی فیض الرسول جلد اول ص 421)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
*کتبتہ کنیز گلزار ملت قادری شہر کانپور فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب*
۲۲/۸/۲۰۲۴
*تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی و جواب ضلع سرہا نیپال*
۲۳/۸/۲۰۲۴
Comments
Post a Comment