*فرض نماز چھوڑنے والے کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟*


*فرض نماز چھوڑنے والے کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کوئی امام اگر پانچ وقت نماز نہ پڑھتا ہو کوئی کوئی نماز پڑھتا ہو تو کیا اس کے پیچھے جمعہ ہو جائے گا وہ جمعہ پڑھاتا ہو، یعنی وہ اگے پیچھے نماز نہ پڑھتا ہو صرف جمعہ پڑھاتا ہو کیا اس کے پیچھے نماز جمعہ ہو جائے گی

2 اور اگر امام صاحب داڑھی کٹواتے ہوں اور نماز بھی کبھی کبھی پڑھتے ہوں تو کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے کیا وہ امامت کروا سکتے ہیں برآے کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں


*سائل:- محمد ندیم رضا قادری پنجاب پاکستان*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل

1/ جو شخص قصدا ایک وقت کی بھی نماز چھوڑتا ہو وہ فاسق اور فاسق کی اقتداء مکروہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی لہذا اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں ان نمازوں کا اعادہ بھی کرے

بہارشریعت میں ہے 

 ہر مکلف یعنی عاقل بالغ پر نماز فرض عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور جو قصدا چھوڑے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسق ہے (بہار شریعت ج اول ح سوم ص نمبر ۴۴۳ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)


فتاوی فقیہ ملت میں ہے 

ایسے شخص( یعنی جو نماز چھوڑتا ہو) کو امام رکھنا درست نہیں اس لئے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے یعنی اس کی اقتداء میں پڑھی گئی نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا 


درمختار مع شامی ج اول ص نمبر ۳۳۷ میں ہے

 کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا (فتاوی فقیہ ملت ج اول ص نمبر ۱۲۲ مطبوعہ فقیہ ملت دہلی)


اب رہے بات مذکورہ امام کے پیچھے نماز جمعہ پڑھنے کی تو غیر فاسق اہل امام کے پیچھے نماز جمعہ پڑھے اس لئے کہ اگر شہر میں مختلف جگہوں پر جمعہ ہوتا ہو تو فاسق معلن کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھنا ناجائز ہے ہاں اگر شہر میں کسی اور مقام پر جمعہ نہیں ہوتا یا جمعہ تو ہوتا ہے مگر غیر فاسق امام نہیں ملتا تو اس فاسق معلن امام کے پیچھے نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے جبکہ وہ امامت کا اہل ہو اورجمعہ کی تمام شرائط بالخصوص اذن عام بھی پایا جاتا ہو۔

فتح القدیر میں ہے

لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا بالجمعہ لان فی غیرھا یجد اماما غیرہ۔۔۔۔فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد و ھو المفتی بہ لان بسبیل من التحول۔

جمعہ کے علاوہ اور نمازوں میں فاسق کی اقتدا جائز نہیں،اس لئے کہ دوسری نمازوں میں فاسق کے علاوہ امام مل سکتا ہے،تو جب شہر میں مختلف جگہوں پر جمعہ ہوتا ہو تو امام محمد کے قول کے مطابق فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسی قول پر فتوی ہے کیونکہ دوسری جگہ پر جا کر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔(فتح القدیر،ج۔1۔باب الامامۃ،ص 359،دار الکتب العلمیہ)


فتاوی رضویہ میں ہے اس(فاسق معلن) کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام ہے۔جہاں کہ جمعہ متعدد مساجد میں ہوتا ہے نماز جمعہ بھی ہرگز نہ پڑھی جائے۔

(فتاوی رضویہ،ج 6،ص 628 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


2/ اگر وہ کبھی کبھی نماز پڑھتے ہوں اور داڑھی بھی مڈواتے ہوں پھر اسے امامت سے برخاست کی جائے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ ہے۔


والله ورسوله أعلم بالصواب 


*كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال*

 16/01/2024


والله ورسوله أعلم بالصواب 


*كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال*

16/01/2024

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟