اگر کسی شخص کو کوئی چیز ملے تو اسے خود رکھ سکتا ہے.؟*


*اگر کسی شخص کو کوئی چیز ملے تو اسے خود رکھ سکتا ہے.؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں  کہ اگر کسی شخص کو کوئی چیز ملے تو اس کو وہ خود رکھ سکتا ہے؟

اور اگر شبہ ہے اس شخص کی ہے تو اس کو پھر بھی خود رکھ کر دین کے کام میں لگا دے پلیز اس بارے میں رہنمائی فرمائیں.....

2 ایک اور سوال ہے کہ پاوں سردی کی وجہ سے خراب رہتے ہیں درد اور سوجن ہے تو اس طرح صبح مسح پاوں کا کر سکتے ہیں اور باقی اوقات میں دھو لیا جائے....


*سائلہ:- بنت حوا پنجاب پاکستان*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

1/ اپ نے سوال میں واضح نہیں کیا کہ کیا چیز ملی یے؟

لقطہ پڑی ہوئی چیز فی الحال جس کا کوئی مالک نظر نہ ائے اگر ہلکی پھلکی چیز ہے جیسے کاغذ قلم یا بسکٹ کھانے پینے والی چیز تو اسے استعمال کر سکتے ہیں رہی مہگی چیز چیسے سونا چاندی روپیہ وغیرہ تو زید پر لازم یےکہ سال بھر تک وہ برابر اسی مقام پر اعلان کرتا رہے کہ کسی صاحب کی فلاں چیز کھو گئی ہو تو وہ پتہ و نشان بتا کر مجھ سے لے لیں ایک سال کی مدت میں اگر مالک مال مل جائے تو اس کو یہ مال دیدیا جائے ورنہ اٹھانے والا فقراء و مساکین پر صدقہ کردے اور اٹھانے والافقیر ہے تو مذکورہ مدت تک اعلان کے بعدخوداپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے

اگر صدقہ کرنے کے بعد یا فقیر اپنے استعمال میں لانے کے بعد  اگر اس کا  مالک آجائے تواسے صدقے  کو جائز رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہے  اگر جائز رکھے گا تو ثواب پائے گا اور جائز  نہ رکھے  تو اگر وہ چیزموجود ہے اپنی چیز لے لے اور ہلاک ہوگئی ہو تو اسے اختیار ہے کہ ملتقط سے تاوان لے یا مسکین سے، جس سے بھی لے گا وہ دوسرے سے رجوع نہیں کرسکتا۔ یعنی مالک کے حوالے کرنا پڑے گا ۔

اگر ملی ہوئی چیز پر شبہ ہو تو یقین پر عمل کرے اگر یقین نہ ہو تو احتیاطا صدقہ کردیا جائے فقیر کو ۔

کما فی ملتقي الأبحر

وللملتقط أَن ينْتَفع باللقطة بعد التَّعْرِيف لَو  فَقِيراً، وَإِن غَنِياً تصدق بهَا وَلَو على أَبَوَيْهِ أَو وَلَده أَو زَوجته لَو فُقَرَاء، وَإِن كَانَت حقيرةً كالنوى وقشور الرُّمَّان والسنبل بعد الْحَصاد ينْتَفع بهَا بِدُونِ تَعْرِيف، وللمالك أَخذهَا، وَلَايجب دفع اللّقطَة إِلَى مدعيها إلاّ بِبَيِّنَة، وَيحل إِن بَين علامتها من غير جبر۔ (ملتقي الأبحر ١/ ٥٢٩-٥٣١)


صاحب مرآة رحمة الله عليه فرماتے ہیں لقطہ پڑی ہوئی چیز اگر معمولی ہوجس کی تلاش مالک نہ کرے گا نہ اس کے مالک کو ڈھونا ضروری ہے نہ اس کے سنبھالنے اور اعلان کرنے کی ضرورت ہے بلکہ فورًا اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔لقطہ کی احادیث قیمتی چیز کے متعلق ہیں (المرات ج 3ص 49 مكتبة المدينة)

حبیب الفتاوی میں ہے 

ایسا مال و روپیہ جو کسی کا گرا پڑا کہیں ملے، اٹھانے والے اس ارادہ و نیت ہی سے اٹھائیں کہ میں اس کی حفاظت کروں گا اور مالک مال و رقم کو یہ واپس کردوں گا۔ اس صورت میں اٹھا کر محفوظ رکھنا افضل و اولیٰ ہے۔ اور اگر اس مال و رقم کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اٹھا کر محفوظ رکھنے کو ہمارے علماء و فقہاء نے واجب قرار دیا ہے۔ بہر حال یہ مال اٹھانے والے کے پاس بطور امانت جمع رہے گا اور اس پر لازم ہے کہ سال بھر تک وہ برابر اسی مقام پر اعلان کرتا رہے کہ کسی صاحب کی فلاں چیز کھو گئی ہو تو وہ پتہ و نشان بتا کر مجھ سے لے لیں ۔ ایک سال کی مدت میں اگر مالک مال مل جائے تو اس کو یہ مال دیدیا جائے ورنہ اٹھانے والا فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔ ہدایہ اولین ص ۵۹۳ میں ہے۔

اللقطۃ امانۃ اذا شہد الملتقط انہ یاخذھا لیحفظھا و یردھا علی صاحبھا لان الاخذ علی ھذالوجہ ماذون فیہ شرعا بل ھو الافضل عند عامۃ العلماء وھو الواجب اذا خاف الضیاع علی ما قالوا۔

گری پڑی چیز امانت ہے۔ اگر اٹھانے والے نے گواہی دی کہ اس نے اس کی حفاظت کی خاطر اسے لیا اور اس کے مالک کو واپس کر دینے کے خیال سے اسے اٹھایا اس طریقہ پر اٹھا لینے کی شریعت میں اجازت ہے۔ بلکہ عام علماء کے نزدیک ایسا کرنا افضل ہے۔ اگر ضائع ہوجانے کا خوف ہو تو اٹھا لینا واجب ہے۔

اسی کے ص ۵۹۴ میں ہے۔

و ان کانت عشرۃ فصاعدا عَرَّفھا حولا فان جاء صاحبھا والا تصدق بھا۔

اگر دس درہم یا اس سے زیادہ ہو تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے ور نہ صدقہ کر دے۔ (حبیب الفتاوی ج ٣ص ١١٨)

2/ سردی میں گرم پانی سے وضو کرے اور اگر ظنّ غالب ہو کہ شدید سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے سے مرض بڑھ جائے گا یا زخم کے مندمل ہونے میں زیادہ عرصہ لگے یا ہلاکت کا اندیشہ ہوتو تیمم کرسکتاہے لیکن محض وہم کی بناءپر نہ اس کی اجازت ہے اور نہ راحت پسندی یا محض ٹھنڈک سے بچنے کے لیے اس کی اجازت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَي أَوْ عَلَي سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّباً

اور اگر تم مریض ہو یا مسافر یا تم میں سے کوئی ایک قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو، یا پھر تم نے بیوی سے جماع کیا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاکیزہ اور طاہر مٹی سے تیمم کر لو‘‘

[المائدۃ:۶]

اس آیت میں دلیل ہے کہ جو مریض شخص پانی استعمال نہ کرسکتا ہو یا پھر اسے غسل کرنے سے موت کا خدشہ ہو، یا مرض زیادہ ہونے کا، یا مرض سے شفایابی میں تاخیر ہونے کا ، یا پھر شدید سردی میں پانی استعمال کرنے سے کسی کمزور وناتواں اور بوڑھے شخص کو بیمار ہونے یا بیماری میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہو اور پانی گرم کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو وہ تیمم کر لے۔

والله ورسوله أعلم بالصواب 


*كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال*

16/01/2024

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟