*قرآن مجید پڑھنے والے کے پاس کرسی پر بیٹھا کیسا ہے؟
*قرآن مجید پڑھنے والے کے پاس کرسی پر بیٹھا کیسا ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا ایک انسان نیچے قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہے دوسرا سامنے کرسی پر بیٹھے کیسا ہے.؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
*سائل قمر رضا ڈسٹک راجوری انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
کرسی پر بیٹھنے والے کے برابر میں نیچے بیٹھ کر قرآن ہاتھ میں یا رحل پر رکھ کر تلاوت کرنا بے ادبی ہے۔ تلاوت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ بھی کرسی پر بیٹھ کر تلاوت کرے یا دور جاکر بیٹھ کر تلاوت کرے۔ قرآن پاک کا احترام کرنا اسی طرح دینی کتابوں کا ادب و احترام کرنا لازم ہے
باقی کرسی پر بیٹھنے والا کتنی دور ہو تو اس کے لیے اوپر بیٹھنا جائز ہو گا، اس کی شریعت میں کوئی تحدید نہیں ہے، حالات اور مکان کو دیکھ کر خود اس بات کا فیصلہ کر لینا چاہیے مثلاً گھر میں اگر ایک کمرہ میں کوئی شخص زمین پر بیٹھ کر قرآن مجید ہاتھ میں لے کر تلاوت کر رہا ہو تو اسی کمرے میں کسی دوسرے شخص کو بلا عذر کرسی پر نہ بیٹھنا چاہیے، ہاں! اگر کوئی بڑا ہال ہو مثلاً مسجد کا ہال یا گھر کا بڑا صحن تو ایسی صورت میں اگر ایک کنارہ پر کوئی زمین پر بیٹھ کر تلاوت کر رہا ہو تو دوسری طرف کرسی پر بیٹھنا بے ادبی شمار نہ ہو گا۔
حاصل کلام یہ ہے
قرآن کریم سے اوپر بیٹھنا یا کھڑا ہونا عذر کی وجہ سے ہو تو درست ہے اور اگر بلا عذر ہو، تو قرآن کے احترام کے خلاف ہے۔ دانستہ ایسا کرنا باعث گناہ ہے۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے
مد الرجلین إلی جانب المصحف إن لم یکن بحذائہ لا یکرہ وکذا لو کان المصحف معلقا في الوتد وہو قد مد الرجل إلی ذلک الجانب لا یکرہ، کذا في الغرائب۔(الفتاویٰ الہندیۃ،’کتاب الکراہیۃ: الباب الخامس: في آداب المسجد، والقبلۃ، والمصحف‘‘: ج ۵، ص: ۳۷۳)
وایضا / رجل وضع رجلہ علی المصحف إن کان علی وجہ الاستخفاف یکفر وإلا فلا، کذا في الغرائب۔(’أیضاً:‘‘)
والله ورسوله أعلم بالصواب
*كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال*
16/01/2024
Comments
Post a Comment