گرم ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا کیسا ھے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سردی کی وجہ سے جو گرم ٹوپی پہنتے ہیں اسے پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ کیا اس سے سجدہ ہو جائے گا؟ کیونکہ ٹوپی پیشانی پر بھی ہوتی ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب ہے کہ اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ ایسی ٹوپی پہن کر نماز پڑھتے ہوئے پیشانی اچھی طرح جم گئی تو نماز ہو جائے گی اور اگر پیشانی نه جمی تو نماز ہوگی ہی نہیں کہ سجدہ نہ ہوا کیونکہ سجدے میں پیشانی کا زمین پر جمنا فرض ہے اور ناک کی ہڈی کا جمنا واجب ہے اگر پیشانی جم بھی جائے تو بہتر یہی ہے کہ کہ پین پیشانی پر کوئی چیز نہ ہو کیونکہ دوران سجدہ بلا عذر پیشانی چھپائے رکھنا مکروہ تنزیہی الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین و غیر با پر سجدہ کیا تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دے تو جائز ہے ، ورنہ نہیں۔ بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال (چاول کا جم یقینی بھی بچھاتے ہیں ، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے کہ اگر پیشانی خوب نہ دبی، تو نماز ہی نہ ہوئی اور ہے۔ صدر
احسان احمد : User ID
ناک ہڈی تک نہ دبی تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کمانی دار گڑے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دیتی لہٰذا نماز نہ ہو گی۔
(بہار شریعت، حصہ سوم، صفحہ 518 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
(بہار شریعت ، جلد 1 ، حصہ 3، صفحہ 519 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)
مزید فرماتے ہیں: عمامہ کے پیچ پر سجدہ کیا اگر ما تھا خوب جم گیا، سجدہ ہو گیا اور ماتھا نہ جما بلکہ فقط چھو گیا کہ دبانے سے دبے گا یا
سر کا کوئی حصہ لگا، تو نہ ہوا۔
در مختار میں ہے: یکرہ تنزیها بکور عمامته الا بعذر ترجمہ : عمامے کے پیچ پر سجدہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے مگر جب کوئی عذر ہو (رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، جلد 1 ، صفحہ 500، دار الفکر، بیروت)
Comments
Post a Comment