*کیا شوہر کے کہنے سے بیوی بیعت توڑ سکتی ہے؟*


*کیا شوہر کے کہنے سے بیوی بیعت توڑ سکتی ہے؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر عورت شادی سے پہلے کسی کی مرید ہے اور شادی کے بعد شوہر اسے کہے میرے مرشد کی مرید ہو یا اپنے بچوں کو ان کا مرید ہو نے کا کہے تو اس کے بارے میں رھنمائی فرما دیں کیا عورت شوہر حکم مان سکتی ہے

2 اور حیض ونفاس کی حالت میں عورت کیا پیپر پر عربی یا اس کا ترجمہ لکھ سکتی ہے


*سائلہ:- بنت حوا پنجاب پاکستان*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 


الجواب بعونه تعالي عز وجل 

جب ہندہ ایک بار شادی سے قبل جامع شرائط پیر سے بیعت  ہوچکی ہے پھر بدون وجہ شرعی پیر سے بیعت توڑنا جائز نہیں ہے  بلا وجہ شرعی بیعت توڑنا ناجائز و حرام ہے جبکہ چار شرطیں اس کے اندر پائے جائے 

(1) سنی صحیح العقیدہ ہو ( 2) علم دین بقدر کافی رکھتاہو 

(3) کوئی فسق علانیہ نہ کرتا ہو

(4) اس کا سلسلہ حضور صلَّی اللہ تعالی علیہ وسلم تک صحیح اتصال سے ملا ہو ہاں اگر ان چاروں شرطوں میں سے کچھ کمی ہو مثلاً وہ بد مذہب یا جاہل یا فاسق یا منقطع السلسلہ نکلا تو بیعت توڑ سکتے ہیں ورنہ نہیں


فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے 

 حسب تصریح ائمہ کرام پیر میں چار شرطیں لازم ہیں 

اول سنی صحیح العقیدہ ۔  دوم: علم دین بقدر کافی رکھتاہو۔  سوم : کوئی فسق علانیہ نہ کرتا ہو چہارم: اس کا سلسلہ حضور صلَّی اللہ تعالی علیہ وسلم تک صحیح اتصال سے ملا ہو۔اگر کسی شخص میں ان چاروں میں سے کوئی شرط کم ہے اور ناواقفی سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا بعد کو ظاہر ہوا کہ وہ بد مذہب یا جاہل یا فاسق یا منقطع السلسلہ ہے تو وہ بیعت صحیح نہیں اسے دوسری جگہ مرید ہونا چاہیے جہاں پہ یہ چاروں شرطیں جمع ہوں نیز دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ تبدیل شیخ بلا ضرورت شرعیہ جائز نہیں حدیث میں ارشاد ہوا من رزق في شئ فليلزمه۔ ترجمہ جسے کسی شے میں رزق دیا جائے تو وہ اس کو لازم پکڑے۔( ج 26 ص 577/568) 

شادی کے بعد پہلے پیر کی بیعت توڑ کر شوہر کے من پسند پیر سے بیعت ہونے کے بابت شوہر کی بات نہیں ماننی یے اور شوہر کے لئے جبرا کرنا جائز نہیں ہے۔ہاں بچوں کو جامع شرائط پیر سے بیعت کروا سکتے ہیں 

بیعت عربی زبان کا لفظ ہے جو ’بیع‘ سے نکلا ہے جس کا لفظی معنیٰ سودا کرنے کے ہیں اصطلاح میں کسی مقدس ہستی یا صالح بزرگ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے گناہوں سے تائب ہونے اور اس کی اطاعت کا اقرار کرنے کا نام بیعت ہے۔ یہ ایک دوطرفہ معاہدہ ہوتا ہے جس میں بیعت لینے والا تمام نیک و جائز امور میں راہنمائی کا وعدہ کرتا ہے اور بیعت کرنے والا نیک و جائز امور میں اس کی اطاعت اور پیروی کا اقرار کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں نہ صرف بیعت کی کئی مثالیں موجود ہیں بلکہ عامۃ الناس کو رشد و ہدایت کے لیے راہبر کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا.

جسے ﷲ ہدایت فرما دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ اس کے لیے کوئی ولی مرشد (یعنی راہ دکھانے والا مددگار) نہیں پائیں گے۔(الکهف، 18: 17)


اس عامۃ الناس کو راہِ حق کے لیے کسی ’ہدایت یافتہ‘ ولی مرشد کی روہنمائی درکار ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جسے راہنمائی کے لیے چنا جا رہا ہے وہ خود عالمِ باعمل اور صحیح العقیدہ ہو تاکہ بیعت کا اصل مقصد حاصل ہوسکے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیھن اجمعین سے بیعت لی ۔


2/ حالت حیض و نفاس میں آیات قرآنی لکھنے کا سوال ہے تو جس صفحے پہ لکھا جارہا ہےاسے ہاتھ لگاتے ہوۓ لکھنا ممنوع ہے اس لیے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے

لایمسہ الا المطھرون

 اسے صرف پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں۔(الواقعة:٧٩)


نور الایضاح میں ہے 

ویحرم بالحیض والنفاس ثمانیة اشیاء:الصلاة والصوم و قراة ایة من القران و مسھا الا بغلاف الخ“…..(نور الایضاح:٣٢)


موطا امام مالک میں ہے 

عن عبد اللہ بن ابی بکر بن حزمؓ ان فی الکتاب الذی کتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعمرو بن حزم ان لا یمس القرآن الا طاھر“(موطا امام مالک:١٣٤)


شرح مختصر الطحاوی میں ہے 

قال ابوجعفر: ولا یقرا الجنب ولا الحاٸض الایة التامة ولا یمس المصحف الا بغلافہ لقول اللہ تعالی لا یمسہ الا المطھرون( شرح مختصر الطحاوی:١/٢٤٤)


 فتاوی رضویہ میں ہے 

محدث کو مصحف چھونا مطلقاً حرام ہے خواہ اُس میں صرف نظم قرآن عظیم مکتوب ہو یا اُس کے ساتھ ترجمہ و تفسیر و رسم خط وغیرہا بھی کہ ان کے لکھنے سے نامِ مصحف زائل نہ ہوگا آخر اُسے قرآن مجید ہی کہا جائے گا ترجمہ یا تفسیر یا اور کوئی نام نہ رکھا جائےگا یہ زوائد قرآن عظیم کے توابع ہیں اور مصحف شریف سے جُدا نہیں ولہٰذا حاشیہ مصحف کی بیاض سادہ کو چھُونا بھی ناجائز ہوا بلکہ پٹھوں کو بھی بلکہ چولی پر سے بھی بلکہ ترجمہ کا چھونا خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جُدا لکھا ہو (فتاوی رضویہ قدیم،ج:١،ص:٢٢٢، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)

بہار شریعت میں ہے

قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآن مجید ہی کا سا حکم ہے۔(بہار شریعت،جلد:١ صفحہ:٣٢٧، مکتبۃ المدينہ)


البتہ اگر کاپی وغیرہ پر قرآن پاک کے ترجمہ  یا عربی کو اس طور پر لکھا جائے کہ اس صفحہ پر ہاتھ نہ لگے تو اس کا لکھنا جائز ہے،

یعنی اگر اس طرح لکھا جاۓ کہ جس صفحے پہ لکھا جارہا ہو اس پر ہاتھ بالکل نہ لگے تو لکھنے کی گنجاٸش ہوگی صرف ایت کا ابتدائی حصہ یا ترجمہ لکھ دے ۔اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ایک چھوٹا رومال کاغذ پر رکھ لیا جاۓ اور لکھتے ہوۓ ہاتھ اس پر رکھ کر لکھا جاۓتاکہ ہاتھ صفحہ پر نہ لگے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے

ولو كان القرآن مكتوبا بالفارسية يكره لهم مسه عند ابي حنيفة، ويكره للجنب والحائض ان يكتبا الكتاب الذي في بعض سطوره آية من القرآن وإن كانا لا يقرآن القرآن‘‘۔(فتاوى ہنديہ،ج:١، ص:٤٣، دار الكتب العلمية)


والله ورسوله أعلم بالصواب 


*كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال*

01/01/2023

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟