*سنی لڑکا کا نکاح دیوبندی لڑکی سے سنی عالم کا پڑھا نا کیسا ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان کرام حضرت میرے گاؤں میں ایک مسئلہ پھنسا ہوا ہے دراصل بات یہ ہے ایک سنی لڑکا کا شادی دیوبندی لڑکی سے ہوا ہے اور اس کا نکاح دیوبندی عالم پڑھایا پھر بارات سے واپس انے کے بعد سنی عالم دوبارہ اس کا نکاح پڑھایا تو سنی عالم کو دوبارہ نکاح پڑھانا کیسا ہے اور جو عالم نکاح پڑھائے ہیں اس عالم کے بارے میں کیا حکم ہے اور جو لوگ بارات میں گئے تھے ان لوگوں پر کیا حکم ہے اس کا جواب عنایت فرمائیں ۔
*سائل محمد اجمل رضا قادری ممبئی مہاراشٹر انڈیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
دیوبندی لڑکی کس ٹائپ کی دیوبندی ہے ایا وہ کسی ضروریات دینیہ یا ضروریات اپل سنت کا منکر نہیں اور عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد کا معتقد نہیں پھر سنی لڑکا کا نکاج ہندہ سے جائز یے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو نکاح منعقد نہیں ہوا ہندہ اور زید میں تفریق لازم ہے ۔
اسی طرح دیوبندی عالم کسی ضروریات دینیہ یا ضروریات اہل سنت کا منکر نہیں اور عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد کا معتقد نہیں پھر اس کا نکاح پڑھا ہوا عند الشرع مقبول ہے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو ہھر نکاح پڑھا یا ہوا منعقد نہیں ہوا۔
اب دیوبندی عالم اور دیوبندی لڑکی اور لڑکی کا والد اصلی دیوبندی ہے یا نہیں اسے پہچاننے کے لیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے بہت اسان فارمولہ عطا کئے ہیں۔
فتاوی رضویہ میں ایک سوال ہوا ندوی عالم کے پیچھے سنی کو نماز پڑھنا کیسا ہے۔؟
اپ فرماتے ہیں حسام الحرمین کی عبارت انہیں پڑھ کر سنا یا جائے اگر تصدیق کرے فبہا باقی فروعی مسائل ہیں اگر تصدیق نہ کرے ہھر اصلی دیوبندی ہے ( فتاوی رضویہ ج 22 مکتبہ المدینہ)
مذکورہ صورت میں جو سنی عالم نے دوبارہ نکاح پڑھا یا اچھا ہے اگر لڑکی عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد کا معتقد نہیں ہو نکاح ہوگیا اگر معاملہ اس کے برعکس ہے نکاح نہ ہوا سنی عالم نکاح باطل ہونے کا اعلان کرے اور دونوں میں تفریق لازم ہے ۔امام صاحب توبہ کرے ۔
اور لڑکی کا باپ اگر عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد کا معتقد نہیں پھر اس کے گھر بارات جانا جائز یے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو پھر سب براتی توبہ کرے۔
واضح رہے کہ صرف دیوبندی کہلانے سے اس پر اصلی دیوبندی کا حکم نہیں لگایا جا سکتا ہے
چونکہ شرعی حکم من حیث المجموع نہیں بلکہ من حیث الفرد لاگو ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابرین نے ہر دیابنہ و وہابیہ کو کافر و مرتد نہیں گردانے (فتاوی شارح بخاری و تفسیر تبیان القران)
یاد رہے کہ سارے دیوبندی وہابی کافر و مرتد نہیں ہے، جب تک بالتحقیق معلوم نہ ہو جائے کہ وہ ضروریات دینیہ کا منکر ہے ۔یا نہیں؟ عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد کا معتقد ہے یا نہیں؟
جیسا کہ شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔
دیوبندی عوام جو دیوبندی بزرگوں کی کفریہ عبارات سے باخبر نہیں ہے اور انکی ظاہری حالت کو دیکھ کر یا کسی اور وجہ سےان کو اپنا بزرگ اور پیشوا مانتے ہیں وہ کافر نہیں ہیں۔ مفتی شریف الحق امجدی صاحب مزید لکھتے ہیں زیادہ تر دیوبندی عوام اسی طرح کے ہیں (فتاوی شارح بخاری ج سوم ،ص ۳۳۰ ناشر دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مئو ،جون ۲۰۱۳)
پہلے یہ دیکھا جائے کہ دیوبندی و وہابی کا عقیدہ کیا ہے؟
آیا وہ ضروریات دین کا انکاری ہے یا نہیں ۔اور وہ یہ ہے توحید، رسالت، آخرت، جملہ انبیاء و رسل و ملائک، حشر و نشر، جنت و جہنم، ختمِ نبوت، نماز، روزہ حج، زکوٰۃ یا کسی شخصیت میں صفاتِ الوہیت کا قائل ہو، قرآنِ کریم تحريف شدہ مانتا ہو، کسی صحابی کی صحبتِ رسول یا عدالتِ صحابہ کا منکر ہو، امہات المؤمنین میں سے کسی پر تبرا کرے، یا نذر و نیاز‘ مزارات پر حاضری‘ انبیاء و الیاء کا توسل‘ ندائے یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ انعقادِ محافلِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفر و شرک کہتا ہو یا تقلید کا مطلق انکار کرتے ہوں تو ایسے مرد یا عورت خارج از اسلام ہے
یعنی پھر تو سنی کا اس سے نکاح ہی جائز نہیں اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے پھر جائز ہے ۔
والله ورسوله اعلم بالصواب
*كتبه محمد مجيب القادري لہان 18خادم دار الافتاء البرکاتی علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال*
12/01/2024
Comments
Post a Comment