*کیا قرآن مجید حفظ کرنے والے پر بار بار سجدہ تلاوت واجب یے جتنی بار آیت سجدہ پڑھے؟*
*کیا قرآن مجید حفظ کرنے والے پر بار بار سجدہ تلاوت واجب یے جتنی بار آیت سجدہ پڑھے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک شخص قرآن کریم کی تلاوت حفظ کر نے کے ارادے سے کرتا ہے اور اگر کسی سورت میں آیت سجدہ آتی ہے تو اگر وہ اس آیت کو یاد کرنے کے لیے بار بار اس کو پڑھتا ہے تو کیا ایسی صورت میں وہ جتنی بار اس آیت کی تلاوت کرے گا اس کو اتنی بار سجدہ تلاوت کرنا پڑے گا یا ایک ہی بار کافی ہو گا۔ اگر ایک نشست میں یا ایک دن وہ دس بار تلاوت کرے گا تو کیا دس بار سجدہ کرنا پڑے گا یا ایک بار کافی ہو گا اور پھر اگر پھر دوسری نشست میں یا دوسرے دن پھر ایسے ہی تلاوت کرتا ہے تو کیا جتنی بار پھر تلاوت کرے اتنی بار سجدہ کرے گا یا ایک بار کافی ہو گا۔
*سائل : عدنان بٹ دوبئی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
یاد کرنے کی نیت سے آیت سجدہ کی بار بار تلاوت کرنے والا آخر میں ایک ہی بار سجدہ کر لے تو سجدہ تلاوت ادا ہو جائے گا اگر تلاوت کرنے والا ایسی جگہ ہو جہاں فوراً سجدہ کرنا ممکن نہ ہو تو سجدہ کے بغیر اگلی آیت کی تلاوت بھی کر سکتا ہے بعد میں سجدہ ادا کرے گا۔حفظ کرنے والے کے بار بار پڑھنے کی صورت میں سجدہ تلاوت واجب ہونے میں یہ تفصیل ہے کہ
1/ اگر ایک ہی آیت کئی مرتبہ ایک ہی مجلس میں پڑھی تو ایک ہی سجدہ کرنا واجب ہو گا۔
2/ اگر ایک ہی آیتِ سجدہ کئی مرتبہ مختلف مجلس میں پڑھی تو ہر مجلس میں پڑھنے سے الگ سجدہ کرنا واجب ہو گا۔
3/ اگر مختلف آیاتِ سجدہ پڑھیں تو ہر آیت سجدہ کے لیے الگ سجدہ کرنا واجب ہو گا،چاہے مجلس ایک ہو یا مختلف ہو۔
یاد رہے کہ اگر بچہ نابالغ ہو تو اس پر سجدہ تلاوت پڑھنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا۔
مراقی الفلاح میں ہے
کمن کررھا أي الآیة الواحدة في مجلس واحد حیث تکفیہ سجدة واحدة... لأن النّبي صلی اللّہ علیہ وسلم کان یقروٴھا علی أصحابہ مرارًا ویسجد مرّة
(مراقی الفلاح: (ص: 494)
الدر المختار میں ہے
ولو کررھا فی مجلسین تکررت.
(الدر المختار: (باب سجود التلاوۃ، 726/2)
و فیہ ایضاََ
وتجب ... (على من كان) متعلق بيجب (أهلاً لوجوب الصلاة)؛ لأنها من أجزائها (أداء) كالأصم إذا تلا، (أو قضاءً) كالجنب والسكران والنائم، (فلا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا)؛ لأنهم ليسوا أهلاً لها، (وتجب بتلاوتهم) يعني المذكورين (خلا المجنون المطبق) فلا تجب بتلاوته؛ لعدم أهليته. (الدر المختار 107/2)
بہار شریعت میں ہے
ایک مجلس میں سجدہ کی ایک آیت کو بار بار پڑھا یا سنا تو ایک ہی سجدہ واجب ہوگا، اگرچہ چند شخصوں سے سنا ہو۔ یوہیں اگر آیت پڑھی اور وہی آیت دوسرے سے سنی بھی جب بھی ایک ہی سجدہ واجب ہوگا۔
پڑھنے والے نے کئی مجلسوں میں ایک آیت بار بار پڑھی اور سننے والے کی مجلس نہ بدلی تو پڑھنے والا جتنی مجلسوں میں پڑھے گا اس پر اتنے ہی سجدے واجب ہوں گے اور سننے والے پر ایک اور اگر اس کا عکس ہے یعنی پڑھنے والا ایک مجلس میں بار بار پڑھتا رہا اور سننے والے کی مجلس بدلتی رہی تو پڑھنے والے پر ایک سجدہ واجب ہو گا اور سننے والے پر اتنے جتنی مجلسوں میں سُنا۔ (بہار شریعت ح 4 ص 740 مکتبہ المدینہ)
والله ورسوله أعلم بالصواب
*كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال*
15/01/2024
Comments
Post a Comment