پیسے کی زکوة کیسے نکالیں
*السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ*
حضرت مفتی صاحب قبلہ آپ سے چند سوالات ہیں جواب عنایت فرمائیں ( المستفتی افسر رضا ضلع مؤ گھوسی)
(1)کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس ساڑھے آٹھ تولہ سونا ہے اس کی زکوٰة کیسے نکالی جائے گی کیا اس سونے کو بازار میں فروخت کرکے جو قیمت وصول ہو اسی پر چالیسواں حصہ ادا کریں گے یا کوئی اور صورت ہے ادا کرنے کی رہنمائی فرمائیں
(2) بکر کے پاس تین لاکھ روپئے تھے اس نے بینک میں جمع کرادی ہے اور سال گزر گیا ہے کیا اس پر بھی زکوٰة ہوگی
(3) خالد نے اپنے پڑوسی کو ڈیڑھ لاکھ روپیہ بطور قرض دے رکھا ہے اور وہ پڑوسی سعودیہ چلا گیا ہے دریافت یہ کہ قرض دی گئی رقم پر بھی زکوٰة ہے
(4) عمر نے اپنی بیٹی کو تیس ہزار روپیہ دیکر مالک بنا دیا چند سال گزر گئے اب تک وہ رقم اس کے پاس محفوظ ہیں کیا اس رقم پر بھی زکوٰة ہوگی
(5) زکوٰة ادا کرنے کے لئے زیور اور روپیہ پر سال کا گزرنا کیا شرط ہے
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
*باسمه تعالی الصلاة والسلام علی رسوله الأعلی*
سونے کا نصاب مکمل ہونے کی وجہ سے شخص مذکور مالک نصاب ہے اس لئے اس پر زکوٰة فرض ہے اب اس کے پاس جس کیرٹ کا سونا موجود ہے بازار میں اس کیرٹ کے سونے کی جو قیمتِ فروخت ہے اس حساب سے (قیمت فروخت ) چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکوۃ میں دینا ہوگا
البتہ ساڑے آٹھ تولے سونا موجود ہونے کی صورت میں نو تولے سونے پر زکوٰة لازم ہوگی کیونکہ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے ہیں اور پھر ساڑھے سات تولے سے خمس نصاب تک عفو (معاف) ہے ساڑھے سات تولے کا خمس ڈیڑھ تولہ ہے لہذا ساڑھے سات تولے سے زائد ہونے کی صورت میں جب تک اس کی مقدار نو تولے تک نہ پہنچے گی اس وقت تک اس پر زکوٰة نہیں ہوگی اور نو تولے ہونے کی صورت میں نو تولے کا چالیسواں حصہ زکوٰة دینا فرض ہوگی پھر نو تولے سے زائد مقدار جب تک ساڑھے دس تولے تک نہیں پہنچتی معاف ہے یعنی اس زائد مقدار پر زکوٰة نہیں ہوگی کیونکہ یہ مقدار خمس نصاب سے کم ہے ( ہاں اگر خمس نصاب سے کم مقدار کسی اور مال زکوٰة سے مل کر چاندی کے مکمل یا خمس نصاب کے برابر ہوجائے تو اس صورت میں اس زائد مقدار پر بھی زکوٰة ہوگی ـــ
نصاب سے زیادہ مال ہے تو اگر یہ زیادتی نصاب کا پانچواں حصہ ہے تو ا س کی زکاۃ بھی واجب ہے ( *ھکذا مراقی الفلاح مع حاشیة الطحاوی ص ۷۱۷ مطبوعہ کراچی* )
(2) بینک میں رقم اگرچہ امانت کے طور پر رکھوائی جاتی ہے مگر ہمارے عرف میں قرض شمار ہوتی ہے کیونکہ دینے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رقم بینک انتظامیہ کاروبار وغیرہ میں لگائے گی۔چنانچہ اس رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی مگر ادا اس وقت کی جائے گی جب نصاب کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہوجائے ۔
( *فتاوٰی امجدیہ،کتاب الزکوٰۃ،ج۱، ص۳۶۸* )
فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ الھادیفتاویٰ امجدیہ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں : آسانی اسی میں ہے کہ جتنے روپے جمع ہوں ،سب کی زکوٰۃ سال بسال دیتا جائے ۔ معلوم نہیں کب موت آئے اور وارثین’ زکوٰۃ دیں نہ دیں ،شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی ..........
(3) جس آدمی کا روپیہ کسی کے ذمہ باقی ہو تو اس کی زکوة اسی شخص پر واجب ہوگی جس کا وہ روپیہ ہے نہ کہ باقی دار پر البتہ ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جبکہ قرض لینے والا قرض ادا کردے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکوٰة دے دی تو ادا ہوگئی لہذا صورت مذکورہ میں شخص مذکور پر ہی زکوٰة لازم ہے
*ایسا ہی سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں*
جو روپیہ قرض میں پھیلا ہے اس کی بھی زکوة لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہو،اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر
*(فتاوی رضویہ جلد ۴ ص ۴۳۲)*
اور حدیث شریف میں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
*من کان له علی رجل حق ومن اخره کان له بکل یوم صدقة*
*یعنی* جس کا کسی شخص پر حق ہو اور وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا
*بحوالہ مسند امام احمد بن حنبل ج 5 ص 613)*
(4) اگر شخص مذکور کی ملکیت میں سونا، چاندی یا مال تجارت نہیں،بلکہ صرف نقد رقم ہے، تو اس صورت میں اگر وہ نقد رقم ساڑھے باون چاندی کی مالیت تک پہنچ جاتی ہے، اور یہ نقد رقم محفوظ ہے اور اس شخص کی ضروریات سے فارغ ہے، تو سال گزر جانے پرمجموعی رقم پرزکوٰة لازم ہوگی
(5) ملکیت نصاب پر سال گزرنے سے زکوۃ واجب ہوجاتی ہے لہذا اگر کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ یعنی. یا اتنی قیمت کا سامان تجارت ہو اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے یاد رہے کل مال پر سال کا گزرنا ضروری نہیں بلکہ مال نصاب پر سال کا گزرنا ضروری ہے
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ محمد صفی اللہ خان حنفی قادری رضوی جہانگیری عفی عنہ صدر تنظیم محبوب سبحانی اکیڈمی اون سورت گجرات
...................................................
تاریخ قمری ۱۵رمضان المبارک ۱۴۴۴ھـــــ ( بمطابق 7 اپریل 2023 بروز جمعہ کریم)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد مقصود عالم فرحت ضیائ خلیفئہ حضور تاج الشریعہ و محدث کبیر و خادم فخر ازہر دارالافتاء و القضاء وسرپرست اعلیٰ جماعت رضائے مصطفی ہاسپیٹ وجےنگر ۔وڈو کمپلی۔ بلاری و مدرس حضرت خدیجۃ الکبریٰ جامعۃ البنات ولائ روڈ سنتے پیٹ ہاسن کرناٹک الہند
Comments
Post a Comment