لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا ہے تحقیق
*مائکر وفونک نماز قدیم و جدید فقہا کی نظر میں*
نماز قدیم و جدید فقہا کی نظر میں
(۱)
لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
(۲)
لاڈ اسپیکر پر نماز تراویح کا کیا حکم ہے؟
(۳)
دعوت اسلامی کے کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ۹۸؍فیصد نماز لاؤڈ اسپیکر پر ہو رہی ہے ۲؍فیصد بغیر لاؤڈ اسپیکر اور یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہم عوام الناس میں سے ۲۰؍لوگوں کے اس بات پر دستخط کر واکے دے دیں کہ امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھائیں ان نمازوں کے قیامت کے دن ہم ذمہ دار ہوں گے، آپ اس سے بری الذمہ رہیں گے اور یہ بھی کہنا کہ بریلی شریف سے ناجائز اور باقی جگہ سے جائز ہی کا فتوی ہے، کچھ لوگ مفتی سید افضل حسین مونگیری کا نام اس حوالے سے پیش کرتے ہیں، ایسے حالات میں ہم کو مطلع کیا جائے کیا واقعی بریلی شریف کے علاوہ دیگر جگہوں کے مفتیان کرام نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو نماز میں جائز قرار دیا ہے اور ان حالات کے پیش نظر ہمارے لیے شریعت کا کیا حکم ہے جو حکم شرعی ہو وہ تفصیل و حوالجات کے ساتھ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
مستفتیین:اراکین کمیٹی مسجد قریشیان،تارین جلال نگر شاہ جہان پور (یو۔پی)
*باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی*
الجواب: (۱،۲) نماز دین کا ایک اہم ستون ہے میدان محشر میں سب سے پہلے نماز کے بارے میں ہی باز پرس ہوگی، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز کے متعلق ارشاد فرمایا :[’’عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:ان أول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ من عملہ صلاتہ فان صلحت فقد أفلح و أنجح و ان فسدت فقد خاب و خسر‘‘]۔(سنن الترمذی، باب ما جاء أول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ الصلاۃ، ج:۱، ص:۵۳۵، دار الغرب الاسلامی، بیروت)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :سب سے پہلے قیامت کے دن بندہ سے اس کے عمل میں سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو کامیاب و با مراد ہوا اور اگر یہ بگڑی تو خائب و خاسر(ناکام و نا مراد) ہوا۔
اللہ رب العزت نے نماز کے بارے میں ارشاد فرمایا:{وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِی}(القرآن، طٰہٰ:۲۰، آیت۱۴)
ترجمہ: اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔(کنز الایمان)
{قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُون۔الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشعُون۔وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}(القرآن، المؤمنون:۲۳، آیت:۱،۲،۳)
ترجمہ: بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے،جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں، اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔(کنز الایمان)
تفسیر کبیر میں {عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون}کے تحت ہے:’’أنہ یدخل فیہ کل ما کان حراما أو مکروہا أو کان مباحا لکن لا یکون بالمرء الیہ ضرورۃ و حاجۃ‘‘۔(التفسیر الکبیر، ج:۲۳، ص:۲۶۱، دار احیاء التراث العربی، بیروت،)
ترجمہ: لغو میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حرام یا مکروہ ہو یا مباح ہو لیکن انسان کو اس کی نہ ضرورت ہو نہ حاجت۔
اس سے معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر کا نماز میں داخل کرنا یہ ’’لغو‘‘ ہے اور اس آیت کریمہ {وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}میں مومنوں کی جو شان بیان کی گئی ہے اس کے خلاف ہے۔
حدیث شریف میں ہے:[’’و صلوا کما رأیتمونی أصلی۔‘‘](صحیح البخاری، باب رحمۃ الناس و البہائم، ج:۹، ص:۸، رقم الحدیث:۶۰۰۸، دار طوق النجاۃ، بیروت،۱۴۲۲ھ)
ترجمہ: تم جیسے مجھ کو نماز پڑھتا ہوا دیکھو ویسے ہی پڑھو۔
اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز جیسی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے ویسی ہی پڑھی جائے گی اس میں لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کسی بھی چیز کو داخل نہیں کیا جائے گا۔
نماز کی حالت میں اصل یہ ہے کہ تمام مقتدی امام کی تکبیر پر رکوع و سجود کریں امام کے علاوہ کسی اور کو نماز میں بلا ضرورت شرعی کسی بھی طرح کی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیںیہاں تک کہ امام کے پیچھے مقتدی کا بلا ضرورت بلند آواز سے تکبیر کہنا بھی مکروہ ہے جیسا کہ حضرت امام طحطاوی قدس سرہ(م۱۲۳۱ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’واعلم أن التکبیر عند عدم الحاجۃ الیہ بأن یبلغہم صوت الامام مکروہ و فی السیرۃ الحلبیۃ اتفق الأئمۃ علیٰ أن التبلیغ فی ہذہ الحالۃ بدعۃ منکرۃ أی مکروہۃ‘‘۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص:۲۶۲، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
ترجمہ: معلوم ہو کہ بغیر ضرورت مکبر کی تکبیر یعنی اگر امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچ رہی ہو مکروہ ہے۔ ’’السیرۃ الحلبیۃ‘‘ میں ہے چاروں اماموں کا کہنا ہے کہ اس حالت میں تکبیر بدعت سیئہ ہے۔
لیکن جب ضرورت پڑے یعنی امام کی آواز پست ہونے یا مقتدیوں کی کثرت کے سبب امام کی آواز تمام مقتدیوں کو نہ پہنچ سکتی ہو تو ایسی صورت میں مقتدیوں میں سے کسی کا شرعی اعتبار سے تکبیر کہنا مستحب ہے اور وہ حدیث شریف سے اور اقوال فقہا سے ثابت ہے، حدیث شریف میں ہے:[’’عن عائشۃ قالت أمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أبا بکر أن یصلی بالناس فی مرضہ فکان یصلی بہم، قال عروۃ فوجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من نفسہ خفۃ فخرج و اذا أبوبکر یؤم الناس فلما رآہ أبوبکر استأخر، فأشار الیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أی کما أنت فجلس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حذاء أبی بکر الیٰ جنبہ فکان أبوبکر یصلی بصلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و الناس یصلون بصلاۃ أبی بکر۔‘‘](صحیح البخاری، ج:۱، ص:۳۱۴، رقم الحدیث:۴۱۸، دار طوق النجاۃ، بیروت)
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے مرض کی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھائیںاور لوگوں کی امامت کریں ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جماعت کی امامت کر رہے تھے ’’حضرت عروہ‘‘ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ تخفیف پائی تو حجرۂ اقدس سے برآمد ہوئے، یہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کی امامت کر رہے تھے، جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محسوس کیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں تو آپ پیچھے ہٹنے لگے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایاایسے ہی رہو جیسے ہو، پھر حضور علیہ الصلاۃ والسلام صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر ان کے پہلو میں تشریف فرما ہوئے اور امامت فرمائی ، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور کی نماز پر نماز ادا کر رہے تھے اور تمام جماعت کے لوگ صدیق اکبر کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے ، یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تکبیر، تسمیع اور سلام پر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تکبیر و تسمیع اور سلام کہا اور لوگوں نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز پر نماز ادا کی۔
حضرت علامہ بدر الدین عینی قدس سرہ (م۸۵۵ھ)نے اسی حدیث شریف کی شرح میں فرمایا:’’وفیہ دلالۃ أن الأئمۃ اذا کانوا بحیث لا یراہم من یأتم بہم جاز أن یرکع المأموم برکوع المکبر‘‘۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج:۵، ص:۲۰۸، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
ترجمہ: اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ جب امام اتنی دور ہوں کہ ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے والا انہیں نہ دیکھ سکتا ہوتو مقتدی کے لیے مکبر کے رکوع پر رکوع کرنا جائز ہے۔
صاحب فتح القدیر حضرت علامہ امام ابن ہمام قدس سرہ(م۸۶۱ھ)تحریر فرماتے ہیں:’’و الناس یصلون بصلاۃ أبی بکر رضی اللہ عنہ یعنی أنہ کان یسمع الناس تکبیرہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ و فی الدرایۃ و بہ یعرف جواز رفع المؤذنین أصواتہم فی الجمعۃ و العیدین و غیرہماانتہی‘‘۔(فتح القدیر، ج:۱، ص:۳۷۰، دار الفکر، بیروت)
ترجمہ: لوگ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے تھے یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تکبیر سناتے تھے۔ درایہ میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ و عیدین میں مؤذنوں کا آواز بلند کرنا جائز ہے۔
’’و أما عند الاحتیاج الیہ بأن کانت الجماعۃ لایصل الیہم صوت الامام اما لضعفہ أو لکثرتہم فمستحب‘‘۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص:۲۶۲، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
ترجمہ: لیکن جب ضرورت پڑے یعنی مقتدیوں تک امام کی آواز نہیں پہنچ رہی ہو امام کی آواز پست ہونے یا مقتدیوں کی کثرت کی وجہ سے تو (تکبیر کہنا)مستحب ہے۔
مذکورہ اقتباسات سے معلوم ہوا کہ امام کے علاوہ کسی دوسرے کو بلا ضرورت بلند آواز سے تکبیر کہنے کی اجازت نہیں ضرورت کے وقت بلند آواز سے دیگر مقتدیوں تک امام کی تکبیرات پہنچانے کی اجازت ہے لیکن یہ اجازت بھی ایسی نہیں ہے کہ جو چاہے، جیسے چاہے بس بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے بلکہ شریعت میں تکبیر کہنے کے طریقوں کو بیان کیا گیا ہے ان طریقوں کی رعایت کی جائے تو درست ورنہ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں کہ نہ تکبیر کہنے والے کی نماز ہوگی اور نہ ہی ان لوگوں کی جو اس تکبیر کہنے والے کی آواز پر رکوع و سجود کریں گے، جو بتائے ہوئے شرعی طریقے پر تکبیر کہیں گے وہ سنت یا مستحب ہوگی اور جو تکبیر کا غیر شرعی طریقہ ایجاد کریں گے وہ بدعت و ناجائز ہو گی،حضرت علامہ عابدین شامی قدس سرہ السامی(م۱۲۵۲ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’و کذلک المبلغ اذا قصد التبلیغ فقط خالیا عن قصد الاحرام فلا صلاۃ لہ ولا لمن یصلی بتبلیغہ فی ہذہ الحالۃ لأنہ اقتداء بمن لم یدخل فی الصلاۃ، فان قصد بتکبیرہ الاحرام مع التبلیغ للمصلین فذلک ہو المقصود منہ شرعا، کذا فی فتاوی الشیخ محمد بن محمد الغزی الملقب بشیخ الشیوخ و وجہہ أن تکبیرۃ الافتتاح شرط أو رکن فلا بد فی تحققہا من قصد الاحرام أی الدخول فی الصلاۃ، و أما التسمیع من الامام و التحمید من المبلغ و تکبیرات الانتقالات منہما اذا قصد بما ذکر الاعلام فقط فلا فساد للصلاۃ، کذا فی ’’القول البلیغ فی حکم التبلیغ‘‘ للسید أحمد الحموی، و أقرہ السید محمد أبو السعود فی حواشی مسکین، و الفرق أن قصد الاعلام غیر مفسد کما لو سبح لیعلم غیرہ أنہ فی الصلاۃ، و لما کان المطلوب ہو التکبیر علی قصد الذکر و الاعلام، فاذا محض قصد الاعلام فکأنہ لم یذکر، و عدم الذکر فی غیر التحریمۃ غیر مفسد، و قد أشبعنا الکلام علی ہذہ المسألۃ فی رسالتنا المسماۃ تنبیہ ذوی الأفہام علی حکم التبلیغ خلف الامام‘‘۔(رد المحتار علی الدر المختار، واجبات الصلاۃ، ج:۱، ص:۴۷۵، دار الفکر، بیروت)
ترجمہ: مبلغ (مکبر)نے اگر محض تبلیغ کا قصد کیا یعنی امام کی تکبیر کو مقتدیوں تک پہنچانے کا قصد کیا اور خود تحریمہ کی نیت نہ کی تو ان کی نماز نہ ہوگی کیوں کہ ان مقتدیوں نے ایسے شخص کی تکبیر کی اقتدا کی جو نماز میں داخل نہیں اور امام کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہوا تو اگر مبلغ اپنی تکبیر سے نماز میں داخل ہونے کے ساتھ مصلیوں کو امام کے تحریمہ پر اطلاع پہنچانے کا بھی قصد کرے تو شرعا اس سے یہی مقصود ہے، ایسا ہی شیخ الشیوخ محمد بن محمد غزی کے فتاوی میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز شروع کرنے کے وقت کی تکبیر شرط ہے یا رکن ہے تو تکبیر تحریمہ ادا ہونے کے لیے نماز میں داخل ہونے کا ارادہ ضروری ہے لیکن امام کا سمع اللہ لمن حمدہ کہنا اور مبلغ کا اللہم ربنا ولک الحمد کہنا امام و مبلغ دونوں کا ایک رکن سے فارغ ہوتے ہوئے یا دوسرے رکن کو شروع کرتے ہوئے یا کسی واجب کو بجا لاتے ہوئے تکبیریں کہنا اگر ان چیزوں سے صرف یہی مقصود ہو کہ مقتدیوں کو خبر دی جائے تو بھی نماز فاسد نہ ہوگی ، ایسا ہی شیخ سید احمد حموی کے رسالہ ’’القول البلیغ فی حکم التبلیغ‘‘ میں ہے اور علامہ سید ابو السعود نے حواشی مسکین میں اس کو مقرر رکھا اور فرق یہ کہ خبر دینے کی نیت کرنا متحد نہیں ہے جیسا کہ نمازی نے نماز میں سبحان اللہ اس نیت سے کہا کہ دوسرے کو اپنا نماز میں مشغول ہونا بتا دے اور چونکہ شرعا یہی مطلوب ہے کہ ذکر الٰہی اور اعلام مصلین کی نیت سے تکبیر کہے تو جب اس نے یہی نیت کی کہ مصلیوں کو خبر دے تو گویا کہ اس نے ذکر نہیں کیا اور تحریمہ کے سوا دوسرے انتقالات کے وقت ذکر نہ کرنا مفسد نہیں، اور بیشک اس مسئلے پر ہم نے اپنے رسالہ ’’تنبیہ ذوی الأفہام علی حکم التبلیغ خلف الامام‘‘ میں مفصل بحث کی ہے۔
حضرت علامہ عابدین شامی قدس سرہ السامی(م۱۲۵۲ھ) دوسرے مقام پر یوں تحریر فرماتے ہیں:’’و أن التبلیغ منصب شریف قد قام بہ أفضل الناس بعد الأنبیاء و المرسلین ذوی المقام المنیف فلابد معہ من اجتناب ما أحدثہ جہلۃ المبلغین الذین استولت علیہم الشیاطین من منکرات ابتدعوہا و محدثات اخترعوہا لکثرۃ جہلہم و قلۃ عقلہم و عدم اعتنائہم بأحکام ربہم و بعدہم عما ہو سبب قربہم و أنہماکہم فی تحصیل حطام الدنیا و ترک التعلم الموصل الی الدرجات العلیا۔‘‘(مجموعۃ رسائل ابن عابدین، الرسالۃ السادسۃ:تنبیہ ذوی الأفہام علی أحکام التبلیغ خلف الامام، ج:۱، ص:۱۴۲، احیاء التراث العربی، بیروت)
ترجمہ: اور بیشک تبلیغ(امام کی تکبیرات کو مقتدیوں تک پہنچانا)ایک منصب شریف ہے جس کو أفضل الناس بعد الأنبیاء و المرسلین ذوی المقام المنیف (حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے ادا فرمایاتو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ان منکرات سے کہ جن کو ان جاہل مبلغین(امام کی تکبیرات کو مقتدیوں تک پہنچانے والوں) نے ایجاد کر رکھا ہے جن پر شیاطین مسلط ہیں، ان جاہلوں نے اپنی کثرت جہالت، کم عقلی، احکام الٰہیہ سے بے پروائی، خدا سے قریب کرنے والی باتوں سے دوری، حطام دنیا(دنیا کے لالچ)سمیٹنے کی کوششوں اور اس تعلیم کو جو بلندیوں تک پہنچانے والی ہے چھوڑنے کی وجہ سے جو ممنوعات اور نئی باتیں اختراع کی ہیںاجتناب کیا جائے ۔
لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر نماز ادا کرنا اور اسی سے تکبیرسن کر نماز میں داخل ہونا یہ اس کی اقتدا ہوگی جس کی اس میں صلاحیت ہی نہیں تو جو لوگ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع و سجود وغیرہ کریں گے ان میں سے کسی کی بھی نماز نہ ہوگی ، لہذا اس آلے کو مسجد میں لاکر مبلغین و مکبرین کا اس سے کام لینا نمازیوں کی نمازوں کو تباہ و برباد کرنا ہے جو کہ بہت بڑا گناہ ہے۔
یوں ہی اگرکسی پرندے وغیرہ نے ’’اللہ اکبر‘‘ کی آواز نکالی کسی نے اس کی آواز پر رکوع یا سجدہ کر لیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، یہاں تک کہ کسی نیک و پرہیزگار متقی اور نمازی شخص نے تکبیر کہی اور وہ خود نماز میں شامل نہیں ہے تو جو اس کی آواز پر رکوع یا سجدہ کریں گے ان کی نماز فاسد ہو جائے گی کیوں کہ یہاں پر اس چیز کو نماز میں شامل کیا گیا ہے جو نماز سے نہیں ہے اور نماز میں ایسی چیز کے داخل کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے جیسا کہ حضرت علامہ عابدین شامی قدس سرہ السامی(م۱۲۵۲ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’وادخال ما لیس من الصلاۃ فی الصلاۃ یؤجب الفساد‘‘۔(مجموعۃ رسائل ابن عابدین، الرسالۃ السادسۃ:تنبیہ ذوی الأفہام علی أحکام التبلیغ خلف الامام، ج:۱، ص:۱۴۸، احیاء التراث العربی، بیروت)
جو چیز نماز میں نہیں ہے اس کو داخل کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
لاؤڈ اسپیکر بھی شرعا نماز میں داخل نہیں ہے اس کو جو لوگ اپنی نمازوں میں داخل کریں گے ان کی نماز فاسد ہو جائے گی لہذا چاہے نمازپنج گانہ ہو یا عیدین و جمعہ اور تراویح کسی میں بھی اس کا استعمال شرعا جائز نہیں۔
لاؤڈ اسپیکر سے نکلی ہوئی آواز چاہے عین آواز متکلم ہویا اس کی آواز کا غیر ہویہ بات تو ہر ایک شخص جانتا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی آواز پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، اسی اثر کے نتیجے میں اسپیکر سے نکلی ہوئی آواز متکلم کی آواز سے بہت زیادہ بلند ہوتی ہے، متکلم کی آواز پر ہونے والے اس خارجی اثر نے حکما بھی غیر آواز متکلم کر دیا جیسا کہ ’’صدیٰ‘‘ آواز بازگشت یعنی جو آواز پہاڑ وغیرہ سے ٹکرا کر آئی اس کا حکم دوسرا ہے کیوں اس پر پہاڑ وغیرہ اثر انداز ہوئے ہیں اسی طرح اس آواز پر بھی لاؤڈ اسپیکر اثر انداز ہوا ہے تواس کا بھی حکم الگ ہوگا جمہور علمائے اہل سنت نے لاؤڈ اسپیکر پر نماز کو ناجائز و حرام بدعت اور سنت کو مٹانے والا فرمایا ہے۔
تاج دار اہل سنت مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ (م ۱۴۰۲ھ)تحریر فرماتے ہیں:’’جولوگ نہ امام کی آواز سنیں نہ مبلغ کی آواز ان تک پہنچی ،نہ ایسے مقتدیوں کو دیکھتے ہوں جو امام یا مبلغ کی آوازسن کر رکوع وسجود کرے، محض لاؤڈاسپیکر کی آواز سنکر یہ معاملات کریں ان کی نماز نہ ہوگی کہ ا س صورت میں یہ خارج سے تلقی کررہے ہیں ،اور یہ مفسد نماز ہے، اگر چہ یہی مان لیاجائے کہ لاؤڈاسپیکر سے جو آواز آرہی ہے وہ امام ہی کی آواز ہے اورلاؤڈاسپیکر میں آواز مماثل آواز امام پیدا نہیں ہوتی ہے ، لاؤڈاسپیکر کی یہ آواز گنبد کی آواز کی طرح ہے اورصدائے بازگشت کے مانند ہے‘‘۔(فتاوی مفتی اعظم، ج:۳، ص:۷۲،اما م احمد رضا اکیڈمی ،بریلی شریف)
محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی سردار احمد قادری چشتی قدس سرہ(م۱۳۸۲ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’لاؤڈ اسپیکر کے مسئلہ کے متعلق غور کیا گیا ، اس کے متعلق زمانے کے ماہر لوگ بھی دو قسم کے ہیں بعض کہتے ہیں لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی آواز ہے یعنی لاؤڈ اسپیکر متکلم کی آواز کو دور تک پہنچاتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر سے متکلم کی آواز ٹکراتی ہے جس سے لاؤڈ اسپیکر میں جدا آواز پیدا ہوتی ہے ، اس صورت میں لاؤڈ اسپیکر کی آواز امام کی آواز نہیں لہذا اس قول کی بنا پر لاؤڈ اسپیکر کی آواز سے جو تکبیرات انتقالات کی جائیں گی اس سے نماز فاسد ہو جائے گی، فساد و عدم فساد میں معاملہ دائر ہے احتیاط اسی میں ہے کہ نماز کے لیے ہر گز نہ لگایا جائے، مسلمانوں کی نمازیں خطرے میں نہ ڈالی جائیں‘‘۔(فتاوی محدث اعظم پاکستان،ص:۶۷،مکتبہ قادریہ، فیصل آباد، پاکستان،۲۰۰۱ء)
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ملک العلما حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری قدس سرہ(م۱۳۸۲ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’نماز میں مقتدیوں کو امام کی تکبیرات یا مکبروں کی تکبیرات پر رکوع و سجود کرنا چاہیے نہ کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر جس نے صرف لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع و سجود کیا نہ امام کی آواز پر نہ مکبروں کی آواز پر اس کی نماز درست نہیں ہوگی کہ لاؤڈ اسپیکر نمازی نہیں تو تلقین خارج صلاۃ سے ہوئی‘‘۔( فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۲۶، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی)
شیخ الاسلام مفتی اعظم شاہ محمد مظہراللہ دہلوی قدس سرہ(م۱۳۸۶ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’اس (لاؤڈ اسپیکر) میں ایک ایسا امر اقبح القبائح اور بھی پایا جاتا ہے جس کے سامنے وہ مفاسد جو ذکر کیے گیے کوئی حقیقت نہیں رکھتے اور وہ وہ ہے جو سرے سے نماز ہی باطل کرتا ہے اس لیے کہ نمازی کا ایسے کے ساتھ تعلیم و تعلم کا علاقہ جو اس کی نماز میں شرکت نہیں رکھتا مبطل نماز ہے اور یہ شیٔ یہاں موجود ہے‘‘۔(فتاوی مظہریہ، ج:۱، ص:۱۱۹، ادارۂ مسعودیہ، کراچی، پاکستان، ۱۹۹۹ء)
حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں نعیمی اشرفی قدس سرہ(م۱۳۹۱ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’لاؤڈاسپیکر پر نماز پڑھانی منع ہے کیوں کہ اس میں ضرورت سے زیادہ اونچی آواز نکلتی ہے۔‘‘(تفسیر نور العرفان مع کنز الایمان، ص:۴۶۷)
دوسری جگہ یوں تحریر فرماتے ہیں:’’لاؤڈاسپیکر پر نماز پڑھانے میں چند قباحتیں ہیں:(۱)
ایک یہ کہ اس میں قرأت قدر ضرورت سے زیادہ اونچی آواز سے ہوتی ہے اور یہ مکروہ ہے۔
(۲)
دوسرے یہ کہ لاؤڈ اسپیکر میں یہ بھی شبہ ہے کہ جو آواز یونٹ سے نکلتی ہے وہ امام کی اپنی آواز نہیں بلکہ صدائے باز گشت ہے جیسے گنبد یا جنگل کی آواز اگر یہ ہے تو اس پر نماز کی حرکتیں کرنا زیادہ برا ہے۔
(۳)
یہ کہ اس میں سنت کا ترک ہے یعنی سنت یہ ہے کہ نماز میں مکبر کھڑے کیے جائیں اور لاؤڈاسپیکر میں اس کو بند کرکے آلہ استعمال کرتا ہے اور جو شیٔ رافع سنت ہو بدعت سیئہ ہے‘‘۔(فتاوی نعیمیہ، ص:۱۸۵، بحوالہ فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۳۸، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقارالدین قادری رضوی قدس سرہ(م۱۴۱۳ھ) تحریر فرماتے ہیں:’’ہمارے نزدیک مائک کی آواز نئی آواز ہے اور ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر کی آوازیں بھی نئی ہوتی ہیں لہذا ان سے آیت سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا اور ان سے نشر ہونے والی اذان کا جواب بھی دینا ضروری نہیں ہے اور مائک پر نماز بھی جائز نہیں ہے‘‘۔(وقار الفتاوی، ج:۲، ص:۱۱۳، بزم وقارالدین، کراچی،۱۹۹۸ء)
بانی اشرفیہ جلالۃ العلم، حافظ ملت حضرت علامہ مفتی محمدعبد العزیزمحدث مرادآبادی قدس سرہ(م۱۳۹۶ھ) ایک فتوی تحریر فرماتے ہیں اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’احتیاط اسی میں ہے کہ نماز میں ہرگز لاؤڈاسپیکر استعمال نہ کیا جائے‘‘۔( فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۳۳، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
اس فتوی پر بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی، حضرت علامہ مفتی حافظ عبد الرؤف بلیاوی،پاسبان ملت حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہم الرحمہ کی تصدیقات موجود ہیں۔
دوسری جگہ یوں ہے:’’مجھے اس کی تحقیق نہیں احتیاط احترازمیں ہے‘‘۔
مزیدفرماتے ہیں:حدیث شریف میں سرکاردوعالم ﷺنے ارشادفرمایاایسی چیزکوچھوڑدوجس میںشک وشبہہ ہواوراسے اختیارکروجس میںکوئی شبہہ نہیں لہٰذامیری رائے میںیہی صورت زیادہ مناسب ہے کہ لائوڈاسپیکرنمازمیں استعمال ہی نہ کیاجائے کہ نمازمیںکسی قسم کاجھگڑااورشبہہ ہو۔(مقدمہ فتاوی شارح بخاری، ج:۱، ص:۳۳، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو،۲۰۱۱ء)
فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی قدس سرہ (۱۴۲۲ھ)تحریر فرماتے ہیں:’’نماز پنج وقتہ ہویا جمعہ، تراویح اور عیدین وغیرہ کسی میں بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز نہیں‘‘۔(فتاوی برکاتیہ ، ص:۲۸۴،شبیر برادرز، لاہور،۱۴۱۹ھ)
ایسی صورت میں مسجد کے اراکین کو چاہیے کہ وہ نماز کے لیے اسپیکر لگواکر ایک بری بدعت ایجاد کرکے، مکبرین کی سنت کو ختم کرکے اپنی اور دوسروں کی نمازیں برباد کرنے کا سامان تیار نہ کریں بلکہ اپنی اور دوسرے مسلمان بھائیوں کی نمازوں کی حفاظت کریں اگر تمام مقتدیوں تک امام کی آواز نہ پہنچتی ہو تو اس کے لیے مکبرین کا تقرر کریں کیوں کہ ضرورت کی صورت میں ایسا کرنا بھی سنت ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم
(۳)
(القرآن،ہود:۱۱، آیت:۸۸){إِنْ أُرِیْدُ إِلاَّ الإِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ إِلاَّ بِاللّہِ عَلَیْْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْْہِ أُنِیْب}
ترجمہ: میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔(کنز الایمان)۔
دعوت اسلامی کے افراد کا یہ کہنا کہ ۹۸؍فیصد نماز لاؤڈ اسپیکر پر ہو رہی ہے ۲؍فیصد بغیر لاؤڈ اسپیکریہ کوئی دلیل شرعی نہیں اس کو دلیل شرعی سمجھنا یہ جہالت و نادانی بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے والی بات ہے ان مبلغین کو یہ اچھی طرح جاننا چاہیے کہ فتنہ و فساد کوقتل سے زیادہ سخت تر بتایا گیا ہے ، قوم بزرگوں کے طریقے پر نماز ادا کرہی ہے ان کو ان کے اسی شرعی حال پر رہنے دیجیے کسی ڈجیٹل فساد کو ان کی نمازوں میں مت داخل کیجیے ورنہ خوب اچھی طرح جان لیجیے {إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ }بیشک تمہارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے ۔
اسلام کے احکام فیصد سے ثابت نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس کے ثبوت کے لیے دلیل شرعی کی ضرورت ہوتی ہے اور نماز بھی اسلام کا ایک اہم رکن ہے اس کا حکم بھی فیصد سے ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ شریعت مطہرہ کے حکم ہی سے ثابت ہو گا۔
جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ’’ہم عوام الناس میں سے ۲۰؍لوگوں کے اس بات پر دستخط کر واکے دے دیں کہ امام صاحب لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھائیں ان نمازوں کے قیامت کے دن ہم ذمہ دار ہوں گے، آپ اس سے بری الذمہ رہیں گے‘‘ یہ قول بھی جہالت و نا دانی پر مبنی ہے، ایسا بولنے والوں کو عذاب الٰہی سے ڈرنا چاہیے، اور ایسی دریدہ دہنی سے پرہیز کرنا چاہیے، کوئی احکام شرعی کی خلاف ورزی کرنے میں کسی کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا بلکہ ہر ایک کو قیامت کے دن اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلٰی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُون}۔(القرآن، الأنعام:۶، ص:۱۶۴)
ترجمہ: اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے، وہ تمہیں بتا دے گا جس میں اختلاف کرتے تھے۔(کنزالایمان)
ہمارے اسلاف و اکابرین جس طرح نماز ادا کرتے تھے اس طرح نماز ادا کرنا چاہیے، دعوت اسلامی کے مبلغ ہوں یا کوئی دوسرے مسلمان جس کا ان کو علم نہ ہو اس معاملے میں ان کو نہیں پڑنا چاہیے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولٰٓـئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولاً}۔(القرآن، بنیٓ اسرآئیل،۱۷، آیت۳۶)
ترجمہ: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(کنزالایمان)
جن لوگوں نے نماز میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال کے متعلق یہ کہا ’’کہ بریلی شریف سے ناجائز اور باقی جگہ سے جائز ہی کا فتوی ہے‘‘ وہ لوگ بھی جھوٹے ہیں اور جھوٹ بول کر مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والے ہیں میں نے پیچھے جن علما و مفتیان کرام کی عبارات نقل کی ہیں کیا وہ سب بریلی شریف کے ہیں؟
اب یہاں پر ان اکابر علمائے کرام کی ایک فہرست پیش کرتا ہوں جن کو آج کے زمانے کے تمام سنی علما کسی نہ کسی طرح مانتے ہیں یا بالواسطہ و بلا واسطہ ان کے شاگردوں کی صف میں آتے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی ان کی کتابوں کو بہت ہی آداب و القاب کے ساتھ شائع کرتے ہیں وہ سب کے سب بریلی شریف کے بھی نہیں ہیں ان کے ناموں کو ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں:
٭تاج دار اہل سنت، مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ
٭صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ
٭ صدر الافاضل فخر الاماثل حضرت علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ
٭ملک العلما حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری قدس سرہ
٭استاذ العلما حضرت علامہ مفتی وصی احمد محدث سورتی پیلی بھیتی قدس سرہ
٭رئیس المفکرین، محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمد صاحب کچھوچھوی قدس سرہ
٭فاضل جلیل حضرت علامہ مفتی حسنین رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ
٭شیربیشۂ اہل سنت حضرت علامہ مفتی حشمت علی خاںلکھنوی ثم پیلی بھیتی قدس سرہ
٭شہزادۂ صاحب عرس قاسمی، تاج العلما حضرت علامہ سید محمد میاں قادری برکاتی مارہروی قدس سرہ
٭برہان ملت حضرت علامہ مفتی برہان الحق قادری قدس سرہ
٭مفسر اعظم ہند حضرت علامہ ابراہیم رضا خاں قادری قدس سرہ
٭علامہ محدث احسان علی مظفر پوری قدس سرہ شیخ الحدیث منظر اسلام بریلی شریف
٭حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین کانپوری قدس سرہ
٭اجمل العلما حضرت علامہ مفتی اجمل حسین سنبھلی قدس سرہ
٭مفتی اعظم دہلی حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ صاحب قدس سرہ
٭محبوب العلما حضرت علامہ مفتی محبوب علی خاں قادری قدس سرہ
٭امام اہل سنت، محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد قادری قدس سرہ
٭مفتی پاکستان استاذالعلماعلامہ ابو البرکات سید احمد قادری رضوی قدس سرہ
٭حضرت علامہ محمد خلیل کاظمی محدث امروہوی قدس سرہ
٭مجاہد اہل سنت حضرت علامہ عبد الحامد قادری بدایونی قدس سرہ
٭مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد صاحب قدس سرہ پاکستان
٭حضرت علامہ مفتی محمد عمر نعیمی مرادآبادی قدس سرہ
٭حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں نعیمی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی اعجاز ولی قادری رضوی بریلوی قدس سرہ
٭مجاہد ملت حضرت علامہ مفتی حبیب الرحمن قادری قدس سرہ
٭صدر العلما حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی قدس سرہ
٭یادگار سلف حضرت علامہ ضیاء الدین پیلی بھیتی قدس سرہ
٭سید العلما حضرت علامہ شاہ سید آل مصطفیٰ مارہروی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی ابوالطاہر محمد طیب صاحب داناپوری قدس سرہ
٭مصنف قانون شریعت، شمس العلما حضرت علامہ مفتی شمس الدین جونپوری قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی قاضی فضل کریم صاحب مظفرپوری قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی محمد رضوان الرحمن فاروقی صاحب قدس سرہ،اندور
٭حضرت علامہ مفتی وقار الدین صاحب قدس سرہ
٭تلمیذ حضور حجۃ الاسلام شیخ القرآن حضرت علامہ عبد الغفور ہزاروی قدس سرہ پاکستان
٭پاسبان ملت خطیب مشرق حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی ثناء اللہ اعظمی قدس سرہ
٭حضرت علامہ مفتی محمد باقر علی خاں قدس سرہ مدرسہ اہل سنت بنارس
٭خلیفۂ حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی تقدس علی خاں قادری قدس سرہ پاکستان
٭بانی اشرفیہ جلالۃ العلم، حافظ ملت حضرت علامہ مفتی محمدعبد العزیزمحدث مرادآبادی قدس سرہ
٭بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی مبارک پوری قدس سرہ
اکابر علما و مفتیان کرام میں سے صرف بعض حضرات کے اسمائے مبارکہ ذکر کیے گیے ہیں جو مسجد میں نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کو شریعت مطہرہ کے خلاف بتاتے تھے اور اسی پر فتاوی صادر فرمائے۔
شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ لاؤڈ اسپیکر پرنماز کے رد میں لکھی ہوئی کتاب میں ’’انتساب‘‘ کی سرخی کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:’’اپنے والد ماجد حضور سید العلما مولانا مولوی مفتی حکیم الحاج آلِ مصطفیٰ سید میاں علیہ الرحمہ کے نام جنہوں نے اپنی حیات ظاہری میں لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے خلاف جہاد کیا اور وصال شریف کے تیسرے دن میرے خواب میں آکر حکم دیا کہ لاؤڈاسپیکر کے خلاف اس تحریک کو جاری رکھوں‘‘۔(قرآنی نماز بمقابلہ مائیکروفونی نماز، ص:۱)
اگر کوئی اور زیادہ تفصیل و تحقیق چاہتا ہو تو وہ مندرجہ ذیل لاؤڈاسپیکر کے رد پر لکھی ہوئی کتابوں کو ملاحظہ فرمائیے:صیانۃ الصلاۃ عن حیل البدعات برہان ملت، عبد الباقی محمد برہان الحق قادری رضوی سلامی جبل پوری قدس سرہ مفتی اعظم مدھیہ پردیش
القول الأزہر فی عدم اقتداء لاؤڈ اسپیکر
مظہر اعلیٰ حضرت شیر بیشۂ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خاںقادری رضوی پیلی بھیتی قدس سرہ
قصد السبیل
حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ نقشبندی مجددی قادری چشتی دہلوی قدس سرہ
القول الأنور لعدم جواز الصلاۃ باقتداء لاؤڈ اسپیکر
مجاہد سنیت حضرت علامہ مفتی محمد محبوب علی خاں قادری برکاتی رضوی مجددی لکھنوی قدس سرہ
التفصیل الأنور فی حکم لاؤڈ اسپیکر
حافظ محمد عمران قادری رضوی مصطفوی پیلی بھیتی قدس سرہ
حکم مکبر الصوت
عمدۃ المحققین حضرت علامہ مفتی محمد حبیب اللہ نعیمی اشرفی بھاگلپوری قدس سرہ صدرالمدرسین، شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد
افادات بدر ملت
شیخ الاتقیا، بدر العلما حضرت علامہ مفتی بدر الدین قادری قدس سرہ
قرآنی نماز بمقابلہ مائیکروفونی نماز
شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ
لاؤڈ اسپیکر پر نماز کا مسئلہ مع تحقیقات اکابر اہل سنت
حضرت علامہ مفتی محمد حسن علی رضوی میلسی
القول الاشرف لعدم الاقتداء بلاؤڈ اسپیکر
مفتی محمد اشرف رضا صدیقی قادری مصباحی قاضی شریعت ادارۂ شرعیہ مہاراشٹر ممبئی
’’تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ‘‘۱۰؍کتابوں کے نام جن میں لاؤڈاسپیکر کے متعلق تفصلی کلام کیا گیا ہے اور ان میں سے کسی بھی کتاب کے مصنف بریلی شریف کے نہیں ہیں۔
لاؤڈاسپیکر کے جواز کے معاملہ میں بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی سید افضل حسین مونگیری قدس سرہ کے کسی جواز کے فتوے سے استدلال درست نہیں کیوں کہ انہوں نے اپنے جواز کے فتوی سے رجوع فرما لیا تھا جس کی تفصیل یوں ہے:’’بحرالعلوم مفتی سید افضل حسین صاحب مونگیری نے ایک عرصۂ دراز تک بریلی شریف میں مسند تدر
یس و افتا کو زینت بخشی اور پھر آخری ایام میں ہجرت کرکے پاکستان چلے گیے اور وہاں فیصل آباد میں مستقل سکونت اختیار فرمائی۔
آپ نے لاؤڈ اسپیکر کے مسئلہ میں حضور مفتی اعظم ہند کے فتوی سے اختلاف کیا اور جواز کا فتوی صادر کر دیا ، مگر ہندوستان کے دورے پر جب تشریف لائے تو انہوں نے مفتی مطیع الرحمن مضطرپورنوی کوگواہ بنا کر علی الاعلان اپنے فتوے سے رجوع کا اعلان کیا اور مفتی اعظم ہند کے فتوی کی تائید و تصدیق کی ، آپ کے قابل فخر شاگرد علامہ مفتی جہانگیر خاں صاحب رضوی نے بھی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر جواز کا فتوی دیا تھا مگر حال ہی میں انہوں نے اپنے فتوی سے رجوع کیا اور اپنا اعلان شائع فرمایاجس کو ناظرین کے لیے پیش کیا جارہا ہے:لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے عدم جواز کے سلسلہ میں جماہیر مفتیان کرام و مشائخ اہل سنت کا اتفاق ہے صرف مفتی سید افضل حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اختلاف کیا تھا، میں بھی مفتی اعظم ہند قدس سرہ وغیرہ جماہیر مفتیان اہل سنت کے فتوی سے اتفاق کرتا ہوں اور اب تک جو میرا جواز کا فتوی تھا اس سے رجوع کرتا ہوں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ لاؤڈاسپیکر پر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔
أمر بکتبہ: محمد احمد المعروف جہانگیر خاں غفر لہ
یہ تحریر میرے سامنے لکھی گئی ہے اور اس پر حضرت علامہ مفتی جہانگیر خاں صاحب نے میرے روبرو دستخط فرمائے۔
فقیر محمد اختر رضا خاںازہری غفرلہ
میں بھی اس تحریر و دستخط کا چشم دید گواہ ہوں۔ صغیراحمدجوکھن پوری، ۳۰؍صفر المظفر۱۴۱۶ھ‘‘۔(فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۶۶، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ نے جمہور علمائے اہل سنت اور مسلمہ اکابرین و اسلاف کرام کے خلاف نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز کا حکم دیا ان کے اس حکم جواز کی اہمیت کیا ہے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی جو تا حیات جامعہ اشرفیہ کے دارالافتا کے صدر رہے ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:’’مسئلہ لاؤڈ اسپیکر میں عزیز گرامی وقار علامہ مفتی نظام الدین صاحب اپنی رائے میں منفرد(اکیلے) ہیں، ادارہ (جامعہ اشرفیہ) کا کوئی فرد اس سے متفق نہیں انہوں نے جو کچھ کہا اس کی ذمہ داری تنہا ان کے سر ہے‘‘۔( فتاوی برکات مصطفیٰ، ص:۲۰۵، انجمن برکات مصطفیٰ، ممبئی،۲۰۱۳ء)
مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ کو بھی اپنی تحقیق میں احتیاط نظر نہیں آتی بلکہ وہ بھی اسی میں احتیاط بتاتے ہیں کہ اس کو نماز میں استعمال نہ کیا جائے انہوں نے جو خط شہزادۂ سید العلما حضرت علامہ سید آل رسول حسنین میاں قادری معروف بہ ’’نظمی میاں‘‘ مارہروی قدس سرہ کو لکھا ہے اس میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے ملاحظہ فرمائیں:’’بلاشبہ حضرت نے اپنی اس کتاب میں اپنے بہت سے اکابر اہل سنت بلکہ سرخیل فقہا حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کے موقف کی ترجمانی کی ہے اور دلائل کثیرہ سے اسے مبرہن فرمایا ہے اور وہی احتیاط کی راہ بھی ہے‘‘۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں:’’حضرت(مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)نے لائوڈاسپیکرپرنمازکے عدم جواز(ناجائز ہونے) کے کثیرفتاوی صادرکئے البتہ راقم کاموقف اس باب میںوہ ہے جوحضورحافظ ملت مولاناشاہ عبدالعزیزمحدث مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کاہے۔‘‘(مقدمہ فتاوی شارح بخاری، ج:۱، ص:۳۵، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو،۲۰۱۱ء)
اگر کچھ لوگ لاؤڈ اسپیکر کے جواز کے قائل ہوں بھی تب بھی بہت سی وجوہات کے سبب اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کو فقہ کے کچھ قواعد کلیہ کی روشنی میں سمجھیے:(۱)
علما کی اکثریت عدم جواز کی قائل تو مغلوب (جواز کے قائلین) کا کوئی اعتبار نہیں ہوگابلکہ مغلوب مرجوح قرار پائے گا:’’لا عبرۃ فی المغلوب بمقابلۃ الغالب‘‘(شرح عقودرسم المفتی ۱۲۹)غالب کے مقابل مغلوب کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
’’المرجوح فی مقابلۃ الراجح بمنزلۃ العدم‘‘ (شرح عقودرسم المفتی ۱۸۷)راجح کے مقابل مرجوح عدم کے درجہ میں ہے۔
(۲)
جمہور علمائے اہل سنت نے دلائل سے لاؤڈ اسپیکر کے عدم جواز کو ثابت کیا ہے اور اس کے ممنوع ہونے پر دلیلیں پیش کی ہیں اگرچہ بعض نے اس کے خلاف روش کو اختیار کیا ہے لیکن جب مقتضی و مانع میں تعارض ہو تو ایسی صورت میں غلبہ مانع کو ہی ہوتا ہے :
’’ اذاتعارض المانع و المقتضی فانہ یقدم المانع‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۳۱۸)جب مقتضی اورمانع جمع ہوجائیں تومانع مقدم ہوگا۔
لہذا اس قاعدے کے اعتبار سے بھی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال حالت نماز میں نا جائز و حرام ہی ثابت ہو تاہے۔
(۳)
’’اذا تعارضت مفسدۃ ومصلحۃ قدم دفع المفسدۃ‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۲۶۴)جب مفسد اور مصلحت مین تعارض ہو توفساد کو زائل کیا جائے گا۔
’’درء المفا سد أولیٰ من جلب المصالح‘‘(الأشباہ والنظائرص:۲۶۴)مفاسد کو دور کرنا منافع کے حصول سے بہترہے۔
یعنی جب مصلحت اورمفاسد میںتضادواقع ہو تومفاسدکودورکیاجائے گااگرچہ مصلحت کوترک کرنا پڑے،چونکہ مامورات ومصالح کی بہ نسبت شریعت مطہرہ کاحکم محرمات ومفاسداورممنوعات کودور کرنے میں زیادہ سخت اورمؤکدہے۔ حدیث شریف میںہے’’اذا أمرتکم بشیٍٔ فأتوا منہ ما استطعتم واذا نہیتکم عن شیٍٔ فاجتنبوہ‘‘(السنن الکبری للبیہقی المجلد الرابع ص:۴۲۶) یعنی جب میں تمہیں کسی چیزکا حکم دوںتوحتی المقدور اسے بجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کروںتواس سے مکمل طورپربچو۔
اس قاعدے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے جواز کا حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے بچا ہی جائے گا۔
(۴)
’’اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام‘‘ (الأشباہ والنظائر ص:۳۰۱)جب حلال وحرام جمع ہوںتوغلبہ حرام کوہوگا۔
یہ قاعدہ اس حدیث’’دع مایریبک الی مالایربیک‘‘(سنن دارمی جلد دوم ص:۲۴۵، ۲۴۶)جس میں تم کو شک ہو اس کو چھوڑدوجس میں شک نہ ہو اسے کرو۔
یعنی جب کسی معاملہ میں حرمت وحلت دونوں قسم کی دلیلیںہوںاورکوئی مرجح نہ ہو تو ایسی صورت میں حرمت کو غلبہ ہوگا اور لاؤڈ اسپیکر کے حرام ہونے ہر بہت سے مرجح موجود ہیں لہذا اس میں بدرجۂ اتم حرمت کو غلبہ دے کر اس کے حرام ہونے کا حکم دیا جائے گا۔
(۵)
’’ما أبیح بالضرورۃ یتقدربقدرہا‘‘۔(الأشباہ والنظائر ص:۲۵۲)جوچیز کسی ضرورت کی وجہ سے جائز ہوتی ہے تووہ بقدرضرورت ہی جائز رہتی ہے۔
امام کے علاوہ مقتدی کو بلند آواز سے تکبیر کہنے کی اور مقتدیوں کو اس کی آواز پر رکوع و سجود کرنے کی اجازت ضرورت کے سبب ہے یعنی جب امام کی آواز تمام مقتدیوں کو نہ پہنچتی ہو تب ہے تو اس کا جواز بہ قدر ضرورت ہی ہوگا اور ضرورت مقتدی کے تکبیر کہنے سے پوری ہو سکتی ہے لہذا لاؤڈ اسپیکر کے لگانے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔
(۶)
’’اذا اجتمع دلیلان أحد ہما یقتضی التحریم والاٰخرالاباحۃ قد م التحریم‘‘(الأشباہ والنظائر ص:۳۰۲)جب دو دلیلیں جمع ہوجائیںان میں سے ایک حرمت دوسری اباحت کی مقتضی ہو تودلیل حرمت کو مقدم کیا جائے گا۔
یہ قاعدہ اس اثر سے ماخوذ ہے کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملک یمین کے ذریعہ جمع بین الاختین کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایاکہ ان دونوں کو ایک آیت نے حلال کیا ہے اور ایک آیت نے حرام کیا ہے تو اس میں حرمت ہم کو زیادہ پسند ہے۔ اس قاعدے کی رو سے بھی حالت نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے عدم جواز ہی کو غلبہ ہوگا۔
لہذا آپ حضرات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین و دیگر اسلاف و اولیائے کرام اور علمائے ذوی الاحترام رحمہم اللہ کی طرح بغیر لاؤڈاسپیکر کے ہی نماز ادا کیجیے اور اس بدعت کو خود سے اور خود کو اس بدعت سے دور رکھیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
Comments
Post a Comment