نماز جنازہ کے بعد میت کا منہ دیکھنا کیسا ھے

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس کے بارے میں کہ کیا نماز جنازہ ادا کر لینے کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا یا دکھانا از روے شرع درست ہے یا نہیں کیونکہ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ عوام وخواص کے دیکھنے دکھانا کی ہوڑ لگی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی تاخیر سے دوچار ہونا پڑتا ہے لہذا قرآن وحدیث کی روشنی میں معقول جواب عنایت فرمائیں!

سائل محمد شمس الحق قادری چھتیس گڑھ


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھابــــ

نماز جنازہ پڑھنے سے پہلے اور بعد میں، میت کا چہرہ  دیکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ میت کا چہرہ دیکھنے دکھانے کے معاملات میں اس کی تدفین میں دیر نہ ہو کہ شریعت مطہرہ میں میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، اور بلاضرورت تاخیر کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔


چنانچہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ۔ جس طرح نماز جنازہ سے پہلے میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے۔ ایسے ہی نماز جنازہ کے بعد بھی دیکھنا جائز ہے۔ *(فتاوی فیض الرسول جلد سوم (۳) صفحہ (۳۱۵) مکتبہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور)*


اور حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان  تحریر فرماتے ہیں کہ : نماز جنازہ میں تعجیل نہایت درجہ مطلوب۔ صحاح ستہ میں ہے ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم  فرماتے ہیں: *اسرعوا بالجنازہ،* جنازہ میں جلدی کرو۔ سنن ابی داؤد میں حصین بن وحوح انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :

*عجلوا فانه لا ينبغي لجيفة مسلم ان يحبس بين ظهراني اهله :* جلدی کرو کہ مسلمان کے جنازے کو روکنا نہ چاہیے: *(بحوالہ فتاوی رضویہ شریف جلد نہم (٩) باب الجنائز ، رسالہ النھی الحاجز عن تکرار صلاۃ الجنائز ،صفحہ (۳۱۰ تا ۳۱۱) مکتبہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*


اور ردالمحتار علی الدر المختار میں ہے کہ *(قوله: ويسرع في جهازه)؛ لما رواه أبو داود عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف، قال: ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه، وعجلوا به؛ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله. والصارف عن  وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة؛ فإنه يحتمل الإغماء* ترجمہ: یعنی، میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کی جائے، اس حدیث کی بنا پر جو ابو داوٗد نے روایت کی ہے کہ جب حضو صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی عیادت کر کے واپس لوٹے تو آپ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ ان میں موت سرایت کر چکی ہے، جب ان کا انتقال ہوجائے تو مجھے خبر کر نا؛ تاکہ میں ان کی نماز پڑھاؤں اور ان کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرو ، اس لیے کہ مسلمان کی نعش کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس کو اس کے گھر والوں کے درمیان روکا جائے۔ اور میت پر موت کا اثر ظاہر ہوتے ہی فوراً تدفین اس لیے واجب نہیں کی گئی کہ کہیں یہ بے ہوشی نہ ہو

*( رد المحتار على الدر المختار كتاب الصلاة، جلد سوم باب الصلاة الجنازة (۳) مطلب فى الطفال المشركين صفحہ (۸۳) المكتبة دار عالم الكتب للطباعة والنشر والتوزيع الرياض )*


لہٰذا مذکورہ بالا عبارات و حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ نماز جنازہ کے بعد میت کا چہرہ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں دیکھ سکتے ہیں : البتہ مذکورہ سوال کردہ میں جو میت  دیکھنے اور دیکھانے کا طریقہ ذکر کیا جا رہا ہے، وہ درست نہیں۔ لہٰذا ایسے طریقہ سے گریز و پرہیز کریں۔ اسلئے کہ شریعت مطہرہ میں تعجیل تدفین حد درجہ مطلوب ہے۔


واللـہ تعــــالیٰ اعلم بالصـــواب

كتبـــه: محمد ارباز عالم نظامى تركپٹى کوریاں کشی نگر ىوپى الهند : مقىم حال بريده القصىم سعودي عربية


21/12/2022

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟