ٹوپا پہن کر نماز پڑھنا کیسا ھے
ٹوپا پہن کر نماز پڑھنا کیسا ھے
*فولڈنگ ٹوپی کے بارے میں مختلف فتاوی مکروہ و غیر مکروہ پڑھنے میں آئے*
بعض نے مکروہ بعض نے غیر مکروہ قرار دیا ۔ مگر وجوہات سے عاری پایا ۔
مکروہ کی صورت فتاوی میں مذکور رہتا تو سائل کو سمجھنے میں دقت نہ ہوتی اور نہ ہی اختلاف کی نوبت شاید آتی ۔
ثوب کو فولڈ ( موڑ ۔ الٹا ) کر کے نماز ادا کرنا مکروہ کیوں ہے
۔
جانیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسمہ تعالی و بحمدہ
و نسلم و نصلی علی رسولنا علیہ الصلوۃ والسلام و آلہ و صحبہ اجمعین ۔
*کپڑا کو موڑ کر پہننا عوام میں رائج نہیں ہے ۔ کپڑا موڑا جاتا ہے تو سلائی الٹی ہوجاتی ہے اور دیکھنے والا جب دیکھے گا تو یہی کہے گا کپڑا الٹا پہنا ہوا ہے ۔ اس طرح سے پہننے والا کو عوام بیوقوت جانتی ۔ و لاپرواہ خیال کرتی ہے اور یہ معیوب ہے۔ سلائی اوپر آنا ۔ اور اس سے کپڑا کے الٹا و سیدھا ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ اور جس لباس کو عوام الٹا جانے ویسا لباس حالت نماز مین بھی پہننا مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔ اور اصل وجہ یہی ہے کہ سلائی الٹی ہوئی۔*
اور جس لباس کے استعمال کو عوام یکساں مانتی ہے اس میں الٹا سیدھا ۔ ظاہر نہیں ہوتا ہے دونوں طرف سلائی ہوتی ہے ۔ یا فولڈ کرنے پہ بھی الٹا ہونے نہیں سمجھا جاتا ہے ویسا کپڑا پہن کر نماز ادا کرنا مکروہ نہیں ہے ۔
سردی کے دنوں میں جو کنٹوپ پہنا جاتا ہے اس کی سلائی میں الٹا سیدھا کوئی ایک پہلو نمایاں نہیں ہوتا ہے ۔
اسلئے اس ٹوپا کو جس طرح پہنا جائے نماز مکروہ نہ ہوگی ۔
۔۔جس کپڑا کی سلائی الٹی دیکھائی دے اسے پہن کر نماز پڑھنا ۔ نماز کو مکروہ تحریمی کردے گا
محمد سرفراز قادری ۔۔ایم پی ۔الترتیب
مفتی اسمعیل خان امجدی بریلی شریف
Comments
Post a Comment