ایک مسجد میں دو مرتبہ نماز جمعہ پڑھانا کیسا ہے
*🔮ایک مسجد میں دو مرتبہ نماز جمعہ پڑھانا کیسا ہے؟🔮*
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرح متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید مولانا ہے
لیکن کسی مسجد کا امام نہیں ہے مسجد میں زیادہ لوگوں کو جانے کی گورمنٹ کی طرف سے اجازت نہیں ہے
اور خلاف ورزی کرنے پر بہت سخت سزا ہے تو ایسے حالات میں پہلے امام صاحب چند لوگوں کو نماز جمعہ پڑھاتے
پھر زید باقی لوگوں کو نماز جمعہ پڑھاتا ہے تو ایک مسجد میں نماز جمعہ کی دومرتبہ جماعت کر نا کیسا ہے برائے مہربانی مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
سائل:- محمد انعام الحق(مرادآباد)
ـــــــــــــــــــــ(♻️)ـــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
*الجــــــــواب ھدایة الحق و الصوابـــــ:*
نماز جمعہ و عید مثل نمازِ پنجگانہ کے نہیں ہے کہ چند لوگوں کی نماز اگر فوت ہو جاۓ تو ایک ناواقفِ شرع بنام عالم یا حافظ کو امام بنا کر پڑھ لی جاۓ بلکہ اسکے لیۓ اولاً بادشاہِ اسلام شرط یا وہ نہ ہو تو اس کا ناٸب یا اس کا مأذون (جس کو اس نے نماز جمعہ پڑھانے کی اجازت دی ہو ) اگر وہ بھی نہ ہو تو ایسا شخص جس کو لوگوں نے نماز جمعہ و پنجگانہ کے لئے مقرر کر رکھا ہو (اور یقیناً ہندوستان میں یہی پاۓ جاتے ہیں) فقط ان کی اقتداء میں نماز جمعہ صحیح و جاٸز ہوگا ورنہ غیر مقرر کردہ امام کی اقتداء ناجاٸز و باطل و فاسد موجب معصیت ہوگی
*جیسا کہ۔ـــــــــــــــــ⇩⇩*
(📕تنویر الابصار میں ہے⇩⇩)
*” یشترط لصحتھا السلطان او مأمور باقامتھا “*
(📘در مختار میں ہے⇩⇩)
*”وفی السراجیة :لو صلی احد باذن غیر الخطیب لا یجوز “*
(📗رد المحتار میں ہے⇩⇩)
*”حاصلہ انہ لا تصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطة او بدونہ اما بدون ذالک فلا “*
(📙رد المحتار علی الدر المختار علی تنور الابصار ج ٢ ص ١٣٨تا ٤١ دار الفکر)
(📓نور الایضاح وحاشیۂ نورالایضاح میں ہے⇩⇩)
*”و یشترط لصحتھا السلطان او ناٸبة وفی حاشیتہ ” ھو الامیر و القاضی او الخلفاء - وقال ایضا - اجتمع الناس علی رجل فصلی بھم جاز للضرورة اھ*
(📓حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ص ٥٠٧ المکتبة الفیصل)
*فقیہِ ملت اعظم اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:⇩⇩*
ایک مسجد میں دو بار نماز جمعہ ادا کرنا ناجاٸز وگناہ ہے وقال فی مقام الآخر
اللہ توفیقِ توبہ بخشے یہ مسٸلہ (جس صورت میں نماز جمعہ ناجاٸز ہے)
نہایت واجب الحفظ ہے آج کل جہال میں یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے کہ جمعہ یا نماز عید نہ ملی تو کسی مسجد میں ڈھائی آدمی جمع ہوۓ اور ایک شخص کو امام ٹھرا کر نماز پڑھ لی وہ نماز نہیں ہوتی اس کے پڑھنے کا گناہ الگ ہوتا ہے عوام کے خیال میں یہ نماز بھی پنجگانہ کی طرح ہے کہ جس نے چاہا امامت کر لی حالانکہ شرعاً یہاں امام خاص ( وہی جو اوپر ہم نے ذکر کیا ) اس طریق متعین کا درکار ہے اسکے بغیر یہ نمازیں ہوں نہیں سکتیں۔
*(📕"العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة" الجزء الثالث، باب الجمعة، رضا اکیڈمی ممٸ)*
الحاصل - عبارات بالا سے ظاہر ہوا کہ ایک مسجد میں دو بار جمعہ ادا کرنا جاٸز نہیں بلکہ ناجاٸز و گناہ ہے رہی بات حالات حاضرہ کی تو فی الوقت مساجد کے دروازہ میں تالا یا کنڈی ڈالنے کی وجہ سے اذن عام مفقود ہو جاتا ہے جو کہ نماز جمعہ کے لئے شرط ہے اور قاعدہ ہے *"اذا فات الشرط فات المشروط"*
اس لئے بغیر اذن عام کے مقرر کردہ امام ہی کی اقتداء میں جمعہ صحیح نہیں تو یہ یہ غیر متعین امام کی جماعت کس تاک میں ہے بہر حال قیام صحتِ اولِ جمعہ کے بعد دوبارہ اسی مسجد میں جمعہ قاٸم کرنا کسی صورت میں جاٸز نہیں ، اس لئے اگر شہر میں رہتے ہیں تو تنہا تنہا نماز ظہر ادا کریں اور اگر دیہات میں رہتے ہیں تو باجماعت نماز ظہر ادا کریں
واللہ اعلم بالصواب و الیہ المرجع و المآب
*۲۷رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ*
ـــــــــــــــــــ(🖋️)ـــــــــــــــــــ
*کتبــہ:*
*حضرت مولانا مشاھد رضا حشمتی خادم التدریس جامعہ ریاض الجنۃ کیمری ضلع رامپور؛*
*🖋️المسائل بالدلائل گروپ🖋️*
*رابطہ:* *+919720751982📞*
*مورخہ:-(21/05/2020)*
ـــــــــــــــــــ(🖋️)ـــــــــــــــــــ
*🖌️المشتــہر بفضل اللہ🖌️*
*منجانب: منتظمین المسائل بالدلائل گروپ*
*محمد مزمل رضا قادری*
*پیلی بھیت اترپردیش الھنــد*
ـــــــــــــــــــ(🖋️)ـــــــــــــــــــ
05
Comments
Post a Comment