صلاۃ التسبیح کی نماز جماعت سے ہو سکتی ہے کیا ؟
صلاۃ التسبیح کی نماز جماعت سے ہو سکتی ہے کیا ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ صلاۃ التسبیح کی نماز جماعت سے ہو سکتی ہے کیا ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے ۔
المستفتی : محبوب علی اشرفی باسنی ناگور راجستھان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب صلوة التسبیح کی نماز نفل نمازوں میں بہت عظیم الشان نماز ہے ، جس کی بڑی فضیلت اور بڑا ثواب ہے لیکن نفل نماز کی جماعت تداعی کے ساتھ کرانا مکروہ تنزیہی ہے اور بلا تداعی نفل کی جماعت کرانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ جماعت نفل کے بارے میں ہمارے ائمہ کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین کا مذہب معلوم و مشہور اور عامه کتب مذہب میں مذکور و مسطور یہ ہے کہ بلا تداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروه ہے جیسا کہ غنیۃ المتملی میں ہے کہ " و اعلم ان النفل بالجماعة علی سبیل التداعی مکروه علی ما تقدم ماعد التراویح و صلاة الکسوف و الاستسقاء " اھ ( غنیۃ المتملی ص 432 ) اور درمختار میں ہے کہ " لا یصلی الوتر و لا التطوع بجماعة خارج رمضان ای یکره ذلک علی سبیل التداعی بان یقتدی اربعة بواحد کما فی الدرر ، ولا خلاف فی صحة الاقتداء اذ لا مانع " اھ ( در مختار ج 2 ص 604 : کتاب الصلاۃ ، مطبوعہ کوئٹہ ) امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ " تراویح و کسوف و استسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب معلوم و مشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور و مسطور ہے کہ بلا تداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ تداعی ایک دوسرے کو بلانا جمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے ۔ بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ اور تین اور چارمیں اختلاف نقل و مشائخ ، اور اصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں ، چار میں ہے ، تو مذہب مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں تو کراہت ہے ورنہ نہیں پھر اظہر یہ ہے کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ لمخالف التوارث ، نہ تحریمی کہ گناہ و ممنوع ہو " اھ ( فتاوی رضویہ ج 7 ص 430 / 431 : رضا فاؤنڈیشن لاھور ) اور مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں کہ " نفل غیر تراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی ، چار کی نسبت کتب ِفقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہہ جس کاحاصل خلاف اولیٰ ہے نہ کہ گناہ وحرام ۔ کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاویٰ میں ذکر کردی ہے) اور بہت اکابر دین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کیے جائیں گے ۔ علمائے امت و حکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے " اھ ( فتاوی رضویہ ج 7 ص 465 : رضا فاؤنڈیشن لاھور ) اور فتاوی امجدیہ میں ہے کہ " نماز نفل جماعت کے ساتھ علی سبیل التداعی مکروہ ہے اور تداعی کے یہ معنٰی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں ـ اور تین مقتدی ہوں اس میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک یہ بھی مکروہ ہے " اھ ( فتاوی امجدیہ ج 1 ص 243 ) اور فتاوی بحر العلوم میں ہے کہ " نوافل تنہا تنہا پڑھنی چاہئے نفل جماعت کے ساتھ پڑھنی مکروه ہے امام احمد رضا خان صاحب رحمة الله علیه فرماتے ہیں کہ " چار مقتدی ایک امام کے پیچھے پڑھیں تو مکروه ہے صرف تین آدمی ایک امام کے پیچھے ہوں تو مکروه نہیں " اھ ( فتاوی رضویہ قدیم ج 3 ص 480 ) امام احمد رضا نے مکروه ہونیکا ثبوت نو کتابوں سے دیا ہے " اھ ( فتاوی بحر العلوم ج 1 ص 434 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Comments
Post a Comment