کیا اولیاء کرام اپنی اپنی قبروں میں عبادت کرتے ہیں


*💞کیا اولیاء کرام اپنی اپنی قبروں میں عبادت کرتے ہیں💞*

*ـــــــــــــــــــــــــــ۞۞۞ـــــــــــــــــــــــــــ*

☆ *_اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ_*☆

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ  کیا ولی قبر میں عبادت کرتے ہیں  قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

*سائل ✒️محمد نوید عالم کٹیہار بہار*

ٹلیگرام میں شامل ہوں،لنک یہ ہے⬇️ 

https://t.me/MahfileGulamaneMustafaGroup

*ـــــــــــــــــــــــــــ۞۞۞ـــــــــــــــــــــــــــ*

*☆وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ☆*   

 *الجواب بعون الملک الوھاب*

اولیاء کرام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور عبادت بھی کرتے ہیں اس کے حوالے سے کئ روایات موجود ہے 

اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں بھی کئ مقامات پر حیات انبیاء کرام و حیات اولیاء کرام کا ذکر فرمایا ہے 

جیسا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ شریف میں لکھتے ہیں کہ

حضرت شیخ الہند محدث دہلوی علیہ الرحمہ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں

اولیائے خدائے تعالیٰ نقل کردہ شد ند ازیں دارفانی بدار بقا وزندہ اند نزد پروردگار خود ٬ ومرزوق اند وخوش حال اند ٬ ومردم را ازاں شعور نیست" 

*📕(اشعۃ اللمعات کتاب الجہاد باب حکم الاسراء ج 3 ص 402 )*

اللہ تعالیٰ کے اولیاء اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں انہیں رزق دیا جاتا ہے وہ خوش حال ہیں اور

لوگوں کو اس کا شعور نہیں 

اور علامہ علی قاری شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں " لافرق لہم فی الحالین ولذا قیل اولیاء اللہ لایموتون ولکن ینتقلون من دار الی دار الخ"

*📕(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الجمعۃ الفصل الثالث ج 3 ص 241)*

اولیاء اللہ کی دونوں حالتوں (حیات و ممات) میں اصلا فرق نہیں اسی لئے کہاگیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں

*📖((بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد ۹ ص۴۳۴))*

اور رہی بات اولیاء کرام کو اپنی قبروں میں عبادت کرنے کی تو اس پر بھی کئ روایات میں تذکرہ آیا ہے جیسے کہ

حضرت سیِّدُنا اِمام ابونعیم اَحمدبن عبداللہ اَصْفَہَانی شَافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی’’حِلْیَۃُ الاوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الاَْصْفِیَاء‘‘میں نقل فرماتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُناسَعِیْدبن جُبَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں نے اورحضرت سیِّدُناحُمَیْد طَوِیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حضرت سیِّدُنا ثابِت بُنَانِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو لحد میں اُتاراجب ہم نے قبر کی اِینٹیں درست کیں تو ایک اینٹ گر گئی، میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُناثابِت بُنَانِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ اور وہ دُنیا میں یوں دعا کیا کرتے تھے : ’’اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ أَعْطَیْتَ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ الصَّلَا ۃَ فِیْ قَبْرِہٖ فَأَعْطِنِیْہَایعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو اُس کی قبر میں نماز اَدا کرنے کا شرف بخشا ہے تو مجھے بھی یہ شرف ضرور عطا فرمانا۔‘‘ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت نے یہ گوارا نہ کیاکہ وہ ان کی اس دُعا کو رَدْ فرمائے ۔‘‘(بشری الکئیب مع شرح الصدور، ذکر الم مؤمن فی قبرہ ، ص۳۵۰۔حلیۃ الاولیاء ، ثابت البنانی، الرقم ۲۵۶۸، ج۲، ص۳۶۲، عن شیبان بن جسرعن ابیہ)

ایسے ہی ایک جگہ اور تذکرہ آیا ہے کہ 

حضرت سیِّدُنا امام ابو نُعَیْم احمد بن عبد اللہ اَصْفَہَانی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی  ’’حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء‘‘ میں نقل کرتے ہیں، حضرت سیِّدُنا اِبراہیم بنصِمَّہ مُہَلَّبِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ’’سحری کے وقت قلعہ کے پاس سے گزرنے والوں نے مجھے بتایا کہ جب ہم حضرت سیِّدُنا ثابِت بُنانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی  کی قبر کے پاس سے گزرتے ہیں تو ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے کی آواز آتی ہے ۔‘‘

*📖(حلیۃ الاولیاء، الرقم ۲۵۸۳، ج۲، ص۳۶۵، بتغیرٍ۔شرح الصدور، ص۱۸۸، بتغیرٍ)*

اور حضرت سیِّدُناسَلَمَہ بن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں، میں نے ایک پرہیزگار گورکَن حضرت سیِّدُنا ابوحمَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد کو فرماتے سنا: ’’میں جمعۃ المبارک کے دن دوپہر کے وقت قبرستان میں گیا، جس قبر کے قریب سے گزرتا اس سے قرآنِ پاک کی تلاوت سنائی دیتی ۔‘‘ 

*📖(شرح الصدور، باب احوال الموتٰی فی قبورہم…الخ ، ص۱۸۸)*

ایسے ہی کئ مقامات پر اولیاء کرام کو اپنی اپنی قبر انور میں عبادت الٰہی میں مشغول رہنے کا تذکرہ کتابوں میں آیا ہے


*🔹واللـہ تعالـیٰ ورسولہﷺاعلم بالصواب🔹*

*ـــــــــــــــــــــــــــ۞۞۞ـــــــــــــــــــــــــــ*

*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇

*اسیــر حضور تاج الشریعہ*

*محمـدعارف رضوی قادری گونڈوی*

*(مــــــورخــــــہ: ۱۷/ رمضان المکرم ۱۴۴۲ ہجری۔ ۳۰/ اپریل۲۰۲۱ عیسوی*

*🌹رابـــطـــہ نـــمـــبـــر*

*📲+91 87954 87820*

 *✅الجوب صحیح* 

حضرت علامہ مولانا محمد آفتاب عالم رحمتی

 *ــــــــــــــــــــــــــــــــ*❣️

*ــــــــــــــــــــــــــــــــ*

*المشتـــــہر و المنتظمین!!!محفل غلامان مصطفیٰﷺ گروپ اسـيــــر حـضــور تــاج الـشـــريـعـه فقیر قادری مــحــمــد عــلاءالـــدىن اظہر خان رضوی مقام امرچه‍ى ضلع پنا ایم پى انڈیا*

*📲+917317743451*

*ــــــــــــــــــــــــــــــــ❣️ــــــــــــــــــــــــــــــــ*

**

*ــــــــــــــــــــــــــــــــ❣️ــــــــــــــــــــــــــــــــ*

*محفل غلامان مصطفٰےﷺ گروپ میں شامل ہونے کے لئے  رابطہ  کریں ۔⬇️*

*📲+91 78601 24553*

*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*

*🔘 تنبیہ؛اس پوسٹ کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ نہ کریں کچھ خامی نظر آئے تو بانئی گروپ سے رابطہ کریں۔*

*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*155

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟