زکوٰۃ کی نیت سے رکھی ہوئی رقم چوری ہو جائے تو اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے کیا زکوٰۃ پھر بھی واجب ہوگی ۔

 السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

 محترم اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ زکوٰۃ کی نیت سے رکھی ہوئی رقم چوری ہو جائے تو اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے کیا زکوٰۃ پھر بھی واجب ہوگی ۔ 

سائل : سلطان احمد پاکستان 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

 *جواب* صورت مسئولہ میں زکوۃ ادائیگی کے لئے فقیر شرعی کو مالک بنا کر اس کے یا اس کے نائب کے قبضہ میں دینا شرط ہے جب یہ شرائط نہیں پائی گئیں تو زکوۃ کی رقم محض الگ کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی لہذا اس پر لازم ہے کہ اس سال کی زکوۃ پھر سے ادا کرے  جیسا کہ رد المحتامیں ہے کہ " ( و لا یخرج عن العھدۃ بالعزل ) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزکاۃ ، و لو مات کانت میراثا عنه بخلاف ما اذا ضاعت فی ید الساعی لان یدہ کید الفقراء " اھ یعنی محض زکوۃ کی رقم الگ کرنے سے بری الذمہ نہ ہوگا لہٰذا الگ کی گئی رقم ضائع ہوگئی تو زکوۃ ساقط نہ ہوگی اور اگر زکوۃ کی رقم الگ کرکے کوئی مر گیا تو وہ رقم میراث بن جائے گی ، لیکن جب زکوۃ  وصول کرنے والے عامل کے ہاتھ میں زکوۃ ضائع ہوئی تو پھر  دوبارہ دینا لازم نہیں کیونکہ عامل کا قبضہ فقیر کے قبضے کی طرح ہے " اھ ( رد المحتار ج 3 ص 225 : مطبوعہ کوئٹہ ) اور النہر الفائق میں ہے کہ " لا یخرج بالعز ل عن العھدۃ بل لا بد من التصدق به حتی لو ضاعت لم تسقط عنه کذا فی الخانیة " اھ یعنی مال کو بنیت زکوۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذمہ نہ ہوگا بلکہ تصدق ضروری ہے حتی کہ اگر بنیت زکوۃ علیحدہ کیا گیا مال ضائع ہوگیا تو زکوۃ ساقط نہیں ہوگی خانیہ میں بھی یونہی ہے " اھ ( النھر الفائق ج 1 ص 419 : مطبوعہ کراچی ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " مال کو بہ نیت زکوۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذمہ نہ ہوگا ، جب تک فقیروں کو نہ دیدے یہاں تک کہ اگر وہ جاتا رہا تو زکوۃ ساقط نہ ہوئی اور اگر مر گیا تواس میں وراثت جاری ہوگی " اھ ( بہارشریعت ج 1 ص 889 : زکوۃ کا بیان ، مکتبۃ المدینہ کراچی )


واللہ اعلم بالصواب

کریم اللہ رضوی 

خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313

Comments

Popular posts from this blog

بعدتدفین قبربیٹھ جائےتواس کادرست کرناکیسا ہے ؟))🍂👉*

تبلیغ کسے کہتے ہیں؟ تبلیغ کافر کے لئے ہے یا مسلم کے لیے؟*

*مصنوعی فرضی قبر کسے کہتے ہیں؟