اگر پیچھے سے ہوا نکلے مسلسل سل وضو کے بعد تو نماز کیسے پڑھیں
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہندہ کا کہنا ہے نماز کے لئے وضو کرتی ہوں پھر تھوڑی دیر بعد ہوا خارج ہو جاتی دو تین منٹ پہ ایسا ہمیشہ بار بار ہوتا ہے اب اگر نماز پڑھیں تو کیسے پڑھیں کوئی صورت بتائیں مہربانی ہوگی
سائیل۔۔۔محمد سلیم اختر قادری
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں
اگر ہندہ کو ریح خارج ہونے کی بیماری ہے اور اس پر پورا ایسا وقت گزر گیا کہ وضو کرکے فرض نماز ادا نہ کر سکے تو وہ صاحب عذر ہے اور صاحب عذر کا حکم یہ ہے کہ وقت کے اندر وضو کرے اور وقت کے اخیر حصہ تک جتنی نمازیں اس وضو سے پڑھنا چاہے پڑھے ہوا کے خارج ہونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا جب وقت ختم ہو جاۓ گا تو ٹوٹ جائے گا جیسا کہ *ردالمحتار میں ہے*
وصاحب عذر من بہ سلس بول او استطلاق بطن او انفلات ریح او استحاضۃ ان استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ حکمہ الوضوء لکل فرض ثم یصلی فیہ فرضا و نفلا فاذا خرج الوقت بطل ١ھ" *(جلد اول صفحہ ٢٠٢، ٢٠٣)*
*(بحوالہ فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ١٠٠)*
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج بہار
Comments
Post a Comment