اگر کوئی شخص قرآن پاک کی تلاوت سے نابلد ہو اس قدر کہ اگر وہ کوشش بھی کرے تو پڑھنا نہ سیکھ سکے تو ایسے شخص کی نماز میں قرات کے متعلق شرع شریف میں کیا حکم ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں
*اگر کوئی شخص قرآن پاک کی تلاوت سے نابلد ہو اس قدر کہ اگر وہ کوشش بھی کرے تو پڑھنا نہ سیکھ سکے تو ایسے شخص کی نماز میں قرات کے متعلق شرع شریف میں کیا حکم ہے آیا غیر عربی مثلا اردو یا فارسی وغیرہ میں ایسے شخص کو قرات کرنے کی اجازت ہے یا نہیں اگر ہے تو کس طرح قرات کرے گا مثلا اردو میں کرنا ہوتو کیا طریقۂ کار ہوگا*
مدلل مفصل جواب عنایت فرمائیں
سائل۔۔ محمد صلاح الدین قادری
اتر دیناجپور بنگال
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوھاب ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ اتنا قران کا پڑھنا سیکھے جس سے کہ نماز ہو جاے لیکن اگر کوشش کے باوجود بھی نہیں سیکھ پاتا ہے تو سیکھنے کے دوران جو اس نے نمازیں ادا کی ہیں ہو جاٸیں گی اور اس کو زندگی بھر سیکھنے کی کوشش کرنی ہے۔
لیکن اس بات کی کہیں اجازت نہیں ہے کہ عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں قرأت کرے ۔ ہاں امام اعظم رضی اللہ عنہ نے اجازت دی تھی کہ اگر کوٸی شخص عربی زبان سے واقف نہ ہو تو فارسی زبان میں قرأت کر سکتا ہے لیکن انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا تھا ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں حالت نماز میں قرأت ناجاٸز ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
مُحَمَّد سہیل نوری مصباحی۔
Comments
Post a Comment